علمائے کرام کے مابین اختلاف کے اسباب اور ہمارا نقطہ نظر

  تالیف:علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ

ترجمہ وتلخیص:کرم اللہ بن عبدالرؤف مدنی

یہ موضوع دیکھ کر بہت سارے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اسی پر کیوں قلم اٹھا یا جاتا ہے جبکہ دینِ اسلام کے دوسرے مسائل اس سے زیادہ اہم ہوسکتے ہیں، بلاشبہ دیگر موضوعات اپنی جگہ پر اہم ہیں لیکن یہ موضوع بھی کم اہم نہیں جس نے دورحاضر میں بہت سارے لوگوں کے دل و دماغ کو مشغول کر رکھا ہے اور عوام الناس ہی نہیں بلکہ طالبعلموں کے بھی قلب و جگر پر اپنا سکہ جما رکھا ہے، فلاں فلاں کے قول کے درمیان اختلاف بہت سے لوگوں کے لیے پریشانی ہی نہیں بلکہ شک وشبہ کا سبب بھی بن گیا ہے بالخصوص ان عوام کے لیے جو اختلاف کے اسباب سے نا آشناہیں، بنابریں اللہ سے مدد چاہتے ہوئے اس سلسلے میں کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں جس کی میری نظرمیں مسلمانوں کے لیے بڑی اہمیت ہے۔

تمام مسلمانوں کو بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالی نے محمد صلى الله عليه وسلم کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا‘ جسے نبی پاک انے کھول کھول کر بیان کردیا ، اب مزید کسی بیان کی ضرورت نہیں، دورنبوی کے مسلمان اختلاف کے وقت آپ ہی کی طرف رجوع کرتے اور آپ ان کے درمیان فیصلہ کرکے ان کے لیے حق کو بیان فرما دیتے تھے، چنانچہ قرآنِ کریم میں بہیترے مقامات پر مختلف چیزوں کے بارے میں (یسئلونک) (وہ آپ سے سوال کرتے ہیں) کا ذکر ملتا ہے، پھر اللہ تعالی نے اس کا کافی و شافی جواب اپنے نبی کو دے کر اس کو لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ہے ۔ِ

لیکن وفات نبوی کے بعد امت کے درمیان بعض شرعی احکام میں اختلاف ہوا اور ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اہل علم میں کوئی ایسا نہیں پایا جاتا جس کے علم،امانت اور دین پر ہمیں کامل اعتماد ہو ‘ وہ کتاب اللہ اور سنت نبوی کے مدلولات کا عمداًمخالفت کرتا ہو،کیونکہ جو علم اور دین کے اوصاف سے متصف ہو‘ اس کا رہبر حق ہی ہوگا اور جس کا رہبرحق ہوتو اللہ تعالی اس کے لیے آسانیاں پیدا فرمادے گا ، اللہ کے اس قول کو دھیان سے پڑھیں  ” اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے،کیاکوئی ہے جو اس پر غورکرے”(القمر:۷۱)

البتہ ان ائمہ کرام سے شرعی احکامات میں خطا کا وقوع ممکن ہے نہ کہ اصول میں ‘جس کی طرف ابھی ہم نے اشارہ کیا ہے اور اس طرح کی غلطی کا ہونا ایسا امر ہے جس سے کوئی جائے مفر نہیں کیونکہ انسان کمزور ہے ۔فرمان الہی ہے ﴾وَخُلِقَ ال Êِنسَانُ ضَعِی ±فاً﴿(النسائ:۸۲) ” کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔”

انسان اپنے علم اور ادراک و فہم میں ضعیف ہے اور وہ ہر چیزکو پورے طورپر احاطہ کرنے میں بھی کمزور ہے اسی لیے توغلطی کا ہونا بعض امورمیںناگزیرہے۔

اہل علم سے صادر ہونے والی غلطیوں اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے اختلافات کے اسباب اجمالی طور پر سات ہوسکتے ہیں:

پہلا سبب:مجتہد کو دلیل کا علم نہ ہوسکا جس کی وجہ سے حکم لگانے میں ان سے غلطی ہوئی۔

اور یہ سبب صحابہ کرام کے بعد آنے والوں کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ان کو اور ان کے بعد کے مجتہدین سب کو شامل ہے، جس کے ثبوت میں ہم صحابہ کرام کے ساتھ پیش آمدہ صرف دومثالوں کا ذکر کریں گے۔

پہلی مثال:صحیح بخاری وغیرہ کی روایت کے مطابق ہمیں امیر المومنین حضرت عمر بن خطابصکے سفر شام کا قصہ بخوبی معلوم ہے جن کو دوران سفر ہی یہ جانکاری دی گئی کہ وہاں طاعون کی وباءعام ہے چنانچہ آپ ٹھہر گئے اور ہم سفر انصار و مہاجرین صحابہ کرام سے مشورہ لینے لگے، جن کی رائیں باہم مختلف تھیں،لیکن پھر بھی راجح قول واپسی ہی کا تھا، اتنے ہی میں حضرت عبدالرحمن بن عوف ص آگئے جو اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے بوقت مشورہ موجود نہ تھے، انہوں نے کہا: میرے پاس اس بارے میں علم ہے میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا ہے” جب تمہیں خبر ملے کہ طاعون زمین کے کسی حصہ میں پھیل گیا ہے تو وہاں جاو ¿ ہی نہیں اور اگر جس جگہ تم ہو وہاں یہ بیماری واقع ہوجائے تو پھر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو”(بخاری و مسلم) چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوف صکی خبر دہی سے قبل انصارومہاجرین میں سے کبار صحابہ پر یہ حکم مخفی رہ گیا تھا۔

دوسری مثال:سیدنا علی بن ابی طالب اورسیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف تھا کہ حاملہ عورت شوہر کی وفات پر چار مہینے دس دن، یا وضع حمل میں سے بڑی مدت(چاہے جو بھی ہو) گزارے گی،چنانچہ اگر چار مہینے دس دن سے پہلے ہی بچہ جن دیتی ہے تو بھی عدت ہی میں رہے گی یہاں تک کہ یہ لمبی مدت گزر جائے اور اگر مذکورہ مقررہ مدت تک بچہ نہ جن پائے تو بھی وضع حمل تک عدت ہی میں رہے گی کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان”اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے“،ہے   (الطلاق:۴) اور اللہ تعالی کا فرمان ہے “تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑجائیں وہ عورتیں اپنے آپ کوچا ر مہینے اور دس (دن) عدت میں رکھیں“۔(البقرہ: ۴۳۲)

دونوں آیتوں کے درمیان عموم خصوص من وجہ ہے اور ایسی صورت میں جمع و تطبیق کے لیے کوئی مناسب طریقہ اختیار کرنا پڑے گا،اور اس کے لیے حضرت علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے موقف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں لیکن حدیث نبوی کو ان کے موقف پر فوقیت حاصل ہے جس میں ہے کہ اللہ کے رسول ا نے سبیعہ اسلمیہ کو شادی کی اجازت دے دی (بخاری، مسلم ) انہوں نے اپنے شوہر کی وفات کے چند دنوں بعدآپکو اپنے بچہ جننے کی اطلاع دی، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی صورت میں سورہ طلاق کی آیت[ اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے ]پر ہی عمل کرنا ہوگا۔(الطلاق:۴)

اور مجھے کامل یقین ہے کہ اگر یہ حدیث حضرت علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی ہوتی تو ضرور اس پر عمل کرتے اور اپنا موقف بدل ڈالتے۔

دوسرا سبب:حدیث کا علم مجتہد کو ہولیکن راوی ِحدیث ان کے نزدیک قابل اعتماد نہ ہو اور ان کا یہ خیال ہو کہ یہ روایت اپنے سے زیادہ ٹھوس دلیل کے مخالف ہے ،چنانچہ (اپنے علم کی بنیاد پر) اسے قوی ترین دلیل سمجھ کر اسی کا قائل ہو۔

صحابہ کرام کی زندگی میں اس پر بھی مثال موجود ہے ۔حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہاکو ان کے شوہر نے طلاق ثلاثہ دے دی، اور کسی شخص کو اپنا وکیل بنا کر مدتِ عدت تک کے لیے بطورنفقہ جَو دے کر بھیجا،لیکن وہ خفا ہوگئیں اور جَولینے سے انکار کر بیٹھیں،چنانچہ ان دونوں کا قضیہ دربارنبوی میں پیش کیا گیا، تو آپ نے حضرت فاطمہ بنت قیس ؓسے فرمایا : اب( طلاق ثلاثہ کے بعد)تمہارے لیے نہ تو نفقہ ہے اور نہ ہی رہائش گاہ (مسلم ) کیونکہ شوہرنے اس کو جدا کردیااور یہ ایسی جدائی ہے جس میں شوہر پرنہ تو نفقہ ہے اور نہ ہی سکنی الا یہ کہ مطلقہ ثلاثہ حمل سے ہوجیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے”اور اگر وہ حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا نہ ہوجائے انہیں خرچ دیتے رہو“۔ (الطلاق :۶)

حضرت عمر فاروق ص پر علم و فضل کے باوجود یہ سنت مخفی رہ گئی چنانچہ وہ مطلقہ ثلاثہ کے لیے نفقہ و سکنی دونوں کے قائل تھے اور حضرت فاطمہ کی حدیث یہ کہہ کر رد کردیتے تھے کہ کیا ہم اپنے رب کے فرمان کو ایک عورت کی بات کی وجہ سے پس پشت ڈال دیں ،نہیں معلوم کہ وہ بات کو صحیح طور سے یاد رکھ سکی یابھول بیٹھی؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر ص مذکورہ دلیل سے مطمئن نہ تھے اور اس طرح کی اجتہادی غلطیوں کا جیسا کہ حضرت عمر فاروق ؓاور دیگرصحابہ اور تابعین سے ہوئیں،اتباع تابعین اوربعدکے ائمہ بلکہ صبح قیامت تک اس زمین پر پائے جانے والے علماءکرام سے صادر ہونا مستبعد نہیں۔اس طورپر کہ انسان دلیل کی صحت کے بارے میں مطمئن نہ ہو اسی کا نتیجہ ہے کہ علماءکرام کے اقوال باہم دیگر مختلف ہواکرتے ہیں کچھ تو حدیث کو صحیح مان کراس پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں جبکہ دوسرا فریق ناقلین حدیث کے اندر کمی پاکر اس کو ضعیف گردانتے ہوئے اس کا انکار کر دیتے ہےں۔

تیسرا سبب:حدیث معلوم ہونے کے باوجود بھول ہوگئی ہو۔

بیشتر لوگوں سے نسیان ہوجاتاہے،بلکہ کبھی انسان قرآنی آیت بھی بھول جاتا ہے،رسول اللہ ا نے ایک روز صحابہ کرام کی امامت کی اور آپنے بھول کر ایک آیت چھوڑدی، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی نماز میں موجود تھے(نماز بعد انہوں نے آپ سے ذکرکیا) تو آپنے فرمایا:تم نے کیوں یاد دہانی نہیں کرائی“جبکہ اللہ تعالی نے آپ کی شان میں کہہ رکھا ہے: ”ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بھولے گا،مگر جو کچھ اللہ چاہے “ (الاعلی:۶۔۷) اس کے باوجود آپ سے بھول ہوگئی ۔

اسی قبیل سے حضرت عمر بن خطاب رضى الله عنهما کا حضرت عماربن یاسر رضى الله عنه کے ساتھ پیش آمدہ قصہ ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دونوں کو کسی ضرورت کے تحت بھیجا، دونوں جنبی ہوگئے،پانی نہ ملنے کی صورت میں حضرت عمار صنے اجتہاد کی اور مٹی کو پانی کے حکم میں مان کر اس میں چوپائے کی طرح لوٹ پوٹ کرنے لگے تاکہ پانی کی طرح مکمل بدن مٹی سے تر ہوجائے،پھرنماز پڑھی۔جہاں تک حضرت عمرص کا معاملہ ہے تو آپ نے نماز نہ پڑھی۔ بالآخر اللہ کے رسول اکے پاس آئے تو آپنے ان کی رہنمائی فرماتے ہوئے حضرت عمار   رضى الله عنه سے مخاطب ہوکر کہا ” تمہارے لیے اتنا کافی تھا کہ اپنے ہاتھوں کو یوں کرتے” پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر ایک مرتبہ دے مارا،دائیں سے بائیں کا مسح کیااور اپنی دونوں ہتھیلیوں اور چہرہ کا مسح کیا”۔

حضرت عمار بن یاسرص خلافتِ فاروقی میں اور اس سے قبل بھی یہ حدیث بیان کرتے تھے ،چنانچہ ایک روز حضرت عمر ص نے ان کو بلایا اور ان سے پوچھا آخر یہ کونسی حدیث ہے جسے تم بیان کرتے ہو؟ حضرت عمار صنے قصہ سناتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب ہم دونوں کو رسول اللہ ا نے کسی ضرورت کے تحت بھیجا اور ہم دونوں جنبی ہوگئے تو آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں زمین پر لوٹ پوٹ کرنے لگا،پھر دربارنبوی میں اس قضیہ کا فیصلہ ہوا”تمہارے لیے اتنا کافی تھا کہ اپنے ہاتھوں کو یوں کرتے….”

لیکن حضرت عمر  رضى الله عنه کو یہ قصہ یاد نہ رہا اور بول پڑے:عمار! اللہ سے ڈریں،حضرت عمار صنے ان سے کہا: اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ آپ کے زیرِ اطاعت رہ کر جس کو اللہ نے میرے اوپر فرض کر رکھا ہے اس کو بیان نہ کروں تو آپ کا حکم سر آنکھوں پر، تب حضرت عمرص نے کہا :ہم آپ کا رخ اسی طرف پھیر دیتے ہیں جس کا آپ نے قصد کیا ہے یعنی آپ اپنے موقف پر قائم و دائم رہیں۔

غرضیکہ حضرت عمر رضى الله عنه بھول بیٹھے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  نے حالتِ جنابت میں پانی نہ ملنے پرتیمم کا حکم فرمایاتھاجیساکہ حدث اصغرمثلاً پیشاب ،پائخانہ اور ہو ا خارج ہونے سے ہواکرتا ہے۔

مذکورہ بیانات سے مقصود یہ ہے کہ انسان گاہے بہ گاہے نسیان کا شکار ہو جاتا ہے جس کی بنیادپر شرعی حکم اس سے مخفی رہ جاتا ہے چنانچہ وہ ایسا موقف اختیار کر بیٹھتا ہے جس میں یقینا وہ معذور ہوتا ہے لیکن جس کو دلیل کا علم ہوجائے تو پھر وہ معذور نہیں۔

چوتھا سبب:دلیل تک تو رسائی ہو لیکن سمجھنے میں غلطی ہوگئی ہو۔

اس کے لیے بھی ہم دومثال پیش کرتے ہیں پہلی مثال قرآن مجید سے اور دوسری مثال سنت نبوی سے۔

 پہلی مثال:قرآن مجید سے اللہ تعالی کا یہ قول”اوراگر تم بیمار ہویا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو“۔(النساء: ۳۴)

علماءکرام کے مابین( اَو لاَمَستُمُ النِّسَاء) کے معنی میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے،بعض نے تو اس سے مرادمطلق”لمس” اور بعض نے خواہشات کو برانگیختہ کرنے والا”لمس”مراد لیا ہے اور تیسرے فریق نے اس سے مراد جماع لیا ہے اور یہی موقف حضرت ابن عباس صکا ہے۔

چنانچہ جن لوگوں نے آیت سے مطلقا لمس مراد لیاہے وہ یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی مرد‘ عورت کے کھال کو چھولے تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا(اور جو لوگ شہوت کی شرط لگاتے ہیں) ان کے یہاں شرط پائے جانے کے وقت وضو ٹوٹ جائے گا بصورت دیگر نہیں ٹوٹے گا جبکہ مذکورہ ہر دوحالت میں وضوکا نہ ٹوٹنا ہی صحیح ہے، آیت پرغور کرنے سے بھی پتہ چلتاہے کہ حق جماع کے قائلین کے ساتھ ہی ہے ۔ اور جیساکہ حدیث میں ہے کہ نبی اکرم انے اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیا اور بغیروضو کیے نماز کے لیے روانہ ہوگئے۔(ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ )

دوسری مثال:سنت نبوی سے:جب اللہ کے رسول ا غزوہ احزاب سے لوٹ کرجنگی اسلحہ اتار چکے تو حضرت جبریل ںآپ کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے ہم نے تو ابھی تک اسلحہ(ہتھیار) نہیں رکھا ہے آپ بنوقریظہ کا رخ کریں،چنانچہ آپ نے صحابہ کرام کو نکلنے کا حکم دے دیا اور فرمایا”بنوقریظہ میں عصر کی نماز پڑھنا” صحابہ کرام کو سمجھنے میں اختلاف ہوا،کچھ نے یہ سمجھا کہ اللہ کے رسول کا مقصد نکلنے میں جلدبازی کرنا ہے تاکہ عصر کے وقت بنوقریظہ پہنچ جائیں لیکن وہ راستہ ہی میں تھے کہ عصر کا وقت ہوگیااور وہ لوگ بنا تاخیرنماز پڑھ لیے جبکہ دوسرے فریق نے یہ سمجھا کہ اللہ کے رسول کا مقصد عصر کی نماز بنوقریظہ ہی میں پڑھنا ہے چنانچہ تاخیر درتاخیر کرتے گئے یہاں تک کہ بنوقریظہ پہنچ گئے اور پھر غیر وقت میں نماز پڑھی۔(بخاری، مسلم )

بلاشبہ حق وقت پر نماز پڑھنے والوں کے ساتھ ہی تھا کیونکہ وقت پر نماز کے وجوب کے سلسلے میں نصوص صریح ہیں اورمذکورہ نص متشابہ کے ضمن میں آتا ہے اور تنازع کی صورت میں نجات کی راہ متشابہ کو محکم پرمحمول کرنے ہی میں ہے،معلوم ہواکہ اختلاف کے اسباب میں سے دلیل کو اللہ تعالی اور اس کے رسول کی منشاءکے خلاف سمجھنا ہے۔

پانچواں سبب:نص شرعی کا علم ہو لیکن یہ منسوخ ہوگیا ہو اور مجتہد کو ناسخ کا علم نہ ہو،چنانچہ اسی منسوخ حدیث کوصحیح سمجھتے ہوئے اس کے مطابق معنی و مفہوم مراد لے:

ایسی صورت میں وہ معذور ہوگاکیونکہ اصل قاعدہ یہی ہے کہ جب تک ناسخ کا علم نہ ہوجائے کسی حدیث پر نسخ کا حکم نہیں لگا یا جاسکتا ہے۔اسی قبیل سے حضرت عبداللہ بن مسعودصکا بحالتِ رکوع نمازی کے اپنے دونوں ہاتھوں کے رکھنے کا مسئلہ ہے،ابتدائِ اسلام میں یہ مشروع تھا کہ نمازی اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑکر اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھے پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ہاتھوں کو گھٹنو ں پر رکھنے کا حکم صادر ہوا، جس کا ذکر صحیح بخاری وغیرہ میں ہے،البتہ حضرت ابن مسعود ص کو نسخ کا علم نہ ہوسکا اس لیے وہ پہلی حالت ہی میں نماز پڑھتے رہے،ان کے بغل میں حضرت علقمہ اور اسود رضی اللہ عنہما جدیدطریقہ کے مطابق نماز پڑھ رہے تھے، حضرت ابن مسعود صنے ان کو تطبیق(رکوع کی حالت میں دونوں ہاتھوں کو دونوں رانوں کے بیچ ملا کر رکھنا) کا حکم دیا( مسلم ) اور ان کو اس طریقہ سے منع کیا۔آخر ایسا کیوں؟صرف اور صرف اس وجہ سے کہ ان کو نسخ کا علم نہ ہوسکا تھا اور انسان اپنی بساط کے مطابق ہی مکلف بنایا گیا ہے۔جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے” اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا….” (البقرہ : ۶۸۲)

آج الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں آئے دن نشر ہونے والے اختلافات کی وجہ سے لوگ شکوک وشبہات کے شکار ہوچکےہیں،اور یہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ ہم کس کی تابعداری کریں؟

سب سے پہلے واضح ہوکہ علمائے کرام سے مراد وہ لوگ نہیںجن کا شمار تو اہل علم میں ہورہا ہے لیکن وہ اس کے اہل نہیں،ہمارے پیش نظر تو وہ علمائے امت ہیں جو ملت اسلامیہ کی خیرخواہی اور علم کی خدمت میں مشہورو معروف ہیں، ایسے علمائے ربانی کی اتباع کے تعلق سے ہمارا موقف کیا ہونا چاہیے؟ اور ہم ان میں سے کس کی پیروی کریں؟ کیا انسان امام کی ہی تابعداری کرےگا گرچہ حق دوسروں کے ساتھ ہو ؟یادلیل کی روشنی میں راجح قول کا متبع بنے گا ؟

اس کا جواب دوسری صورت ہی ہے،چنانچہ جس کو دلیل کا علم ہوجائے تو اس پر اس کی اتباع ہی ضروری ہے گرچہ یہ ائمہ میں سے کسی امام کے مخالف ہی کیوں نہ ہو، اور جو یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ کے رسول کے علاوہ دوسرے کے قول کو اثبات ونفی ہر دوصورت، ہرحال اور ہرزمانے میں لینا واجب ہے تو گویا وہ غیر رسول کے لیے رسالت کے خصائص وامتیازات کی شہادت دیتا ہے جبکہ یہ فضیلت وبرتری اللہ کے رسول ہی کو حاصل ہے،چنانچہ ان کے علاوہ ہر کسی کا قول لیا بھی جاسکتا ہے اور چھوڑا بھی جاسکتا ہے۔

جہاںتک معاملہ اخذو استنباط کا ہے تو ہم کو یہ جاننا ضروری ہے کہ کون شخص نصوص شرعیہ سے احکام استنباط کرنے کا ملکہ رکھتا ہے؟ تو لوگ اس باب میں تین قسم کے ہیں۔

(1)  ایسا عالم جس کو اللہ تعالی نے گوہر علم سے نوازا ہے اور فقہی بصیرت عطا کی ہے ۔

 (2)    ایسا طالب علم جس کے پاس شریعت کاعلم تو ہے لیکن اس متبحر عالم کے درجہ کو پہنچا ہوا نہیں ہے۔

 (3)   عام آدمی جس کو شرعی نصوص کی معلومات نہ ہو۔

 فریق اول :جہاں تک فریق اول کی بات ہے تو اس کو اجتہاد کا پورا پورا حق حاصل ہے بلکہ اس پر واجب ہے کہ لوگوں کی مخالفت کا چنداں پروا کئے بغیر دلیل کے عین مطابق موقف اختیار کرے کیونکہ اس کو اسی کا حکم ہوا ہے جیساکہ ارشاد ربانی ہے    (النسآ :۳۸) ”اس کی حقیقت وہ لو گ معلوم کرلیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں“ اور یہ نتیجہ اخذکرنے والے ہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے کلام کے مدلولات کی صحیح معرفت رکھتے ہیں۔

فریق ثانی :جہاں تک فریق ثانی کی بات ہے جس کو اللہ نے علم سے تو نوازا ہے لیکن درجہ ¿ کمال کو نہیں پہنچ پایا ہے تو اس کو اپنے دائرہ علم میں رہ کر عام فہم اور ظاہر و باہر مسائل کے لیے ادلہ شرعیہ سے استدلال کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن پھر بھی احترازواجب ہے اور اپنے سے زیادہ واقف کار اہل علم سے استفسار میں کوتاہی نہ کرے،کیونکہ غلطی کا ارتکاب کر بیٹھنا اس کے لیے بھی مستبعد نہیں ہے، اس طور پرکہ عام کو خاص،مطلق کو مقید اور محکم کو نسخ کا قائم مقام بنادے اور اپنی کم علمی کے سبب اس کا پتہ بھی نہ ہو۔

فریق ثالث :رہی بات فریق ثالث کی جو علم سے عاری ہے تو اس کے لیے واجب ہے کہ اہل علم سے دریافت کرے جیساکہ فرمان الہی ہے:

”پس تم اہل علم سے پوچھ لو اگر خود تمہیں علم نہ ہو“۔(الانبیاء  ۷،النحل :۳ ۴)

چنانچہ ان کی ذمہ داری پوچھنا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کس سے پوچھے گا؟شہروں میں بےشمار علماءہیں اور ہر ایک کا دعوی ہے کہ میں عالم ہوں،یا لوگوں کا گمان ہے کہ یہ تمام کے تمام عالم ہیں، کس سے پوچھا جائے؟ تو ہم کہیں گے کہ ایسے افرادکی ذمہ داری ہے کہ اقرب الی الصواب عالم کی تلاش کریں یا ہم ان سے یہ کہیں گے جن کو اہل علم میں شمار کرتے ہیں ان سے پوچھ لیںکیونکہ مفضول کو کبھی کبھار کسی خاص مسئلہ میں رشدو ہدایت مل جاتی ہے اور افضل توفیق الہی سے محروم رہ جاتا ہے چنانچہ اس سلسلے میں اہل علم کے دومتضاد آراءہیں۔

کچھ اہل علم کا موقف ہے کہ ان پڑھ حضرات کے لیے ناگزیر ہے کہ اپنے شہر کے مشہور ومعروف اورمعتمد علماءکی جانب بوقت ضرورت رجوع کریں کیونکہ جس طرح جسمانی بیماری سے پریشان انسان اپنے مرض کی تشخیص کےلیے ماہرین اطباءکو تلاشتا پھرتا ہے ،ویسے یہاں پربھی اسکے حق میں یہ اصول منطبق ہوتا ہے، اس لیے کہ علم دلوں کی دوا ہے اور دونوں کے درمیان کچھ فرق نہیں ہے۔

دوسرے فریق کا رجحان ہے کہ عامی کے لیے یہ واجب نہیں ہے کیونکہ بسااوقات افضل کا علم ہرمسئلہ میں بالاتر ا ور قول فیصل نہیں ہوتا اور اس قول کو تقویت اس طرح ملتی ہے کہ صحابہ ¿ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فاضل کی موجودگی میں مفضول سے سوال کیاکرتے تھے۔

میرے نزدیک افضل اور متدین علماءسے سوال کرنا افضلیت کے قبیل سے ہے وجوب کے قبیل سے نہیں کیونکہ افضل کبھی کسی خاص مسئلہ میں خطا کرجاتا ہے جبکہ مفضول کو اس مسئلہ میں راہ راست کی توفیق مل جاتی ہے چنانچہ اولیت کے قبیل سے ہوگا کہ ایسے علمائے کرام سے سوال کریں جو علم، تقوی، پرہیزگاری اور دیانتداری میں صواب سے قریب تر ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*