لباس اورزینت کے آداب

حافظ عبدالحفیظ عمری مدنی (کویت)

لباس اللہ تعالی کی ایک اہم نعمت ہے جس کا مقصد ستر پوشی اور شرم و حیا کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا ہے ، لباس اگر شریعت کے تقاضوں کو پورا نہ کرے تو شرم وحیا کے رخصت ہونے کا اندیشہ ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالی نے ظاہری لباس کاذکر فرماتے ہوئے معنوی لباس تقوی کی طرف ابھارا ہے جس میں شرم و حیا بھی داخل ہے ،اللہ تعالی نے فرمایا: ﴾ یَابَنِی آدَمَ قَد اَنزَلنَا عَلَیکُم لِبَاسًا یُّوَارِی سَوآتِکُم وَرِیشًا وَلِبَاسُ التَّقوَیٰ ذٰلِکَ خَیر ، ذٰلِکَ مِن آیَاتِ اللّٰہِ لَعَلَّھُم یَتَذَکَّرُونَ﴿۔(الاعراف : ۶۲)۔

اے آدم کی اولاد ! ہم نے تمہارے لیے لباس پیداکیا جو تمہاری شرمگاہوں کو چھپاتاہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوی کا لباس یہ اس سے بڑھ کر ہے ۔ یہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یادرکھیں ۔

ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : [لباس]:ستر پوشی کی چیزوں کوکہتے ہیں اور [ریش ]:ظاہری زینت کی چیزوں کوکہتے ہیں ۔ لباس ؛ انسانی زندگی کی ضرورت ہے جبکہ ریش؛ ضرورت زندگی سے زائد اور کمالیات میں سے ہے ۔

لباس اور زینت اللہ کی نعمتیں ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالی نے ان آیتوں میں اپنے بندوں پر احسان جتلایا ہے ۔ اس نعمت کی صحیح قدراسی وقت ہوسکتی ہے جب کہ اس کا استعمال شریعت کے بتائے ہوئے آداب اور اصولوں کے مطابق ہو مندرجہ ذیل سطور میں لباس اور زینت کے اصول و آداب عرض ہیں :

1۔ ستر ڈھانکنا : ستر ڈھانکنا ایک اہم اسلامی ادب ہے ،بلکہ واجب ہے : کیونکہ سترکھلارکھنے سے کئی برائیاںپیدا ہوتی ہیں اور اسلام نے برائیوں تک پہنچانے والے تمام راستوں کو بند کردیا ہے ،اور مردوںاور عورتوں کو ایک دوسرے کی ستر(شرمگاہوں) کو دیکھنے سے منع فرمایاہے: ۔لَا یَنظُرِ الرَّجُلُ اِلَی عَورَةِ الرَّجُلِ وَ لَا المَراَةُ اِلَیٰ عَورَةِ المَرَاةِ ( مسلم )۔ مرد آدمی دوسرے مرد آدمی کا ستر(شرم گاہ) کو نہ دیکھے اور نہ عورت دوسری عورت کا ستر(شرم گاہ)کو دیکھے….۔

۰ بہز بن حکیم کہتے ہیں کہ :

”میں نے کہا اے اللہ کے رسول ہمیں اپنی شرمگاہیں کہاں کھولنا چاہیے اور کہاں چھپاناچاہیے ؟ آپ انے فرمایا: اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے ۔ میں نے کہا : یارسول اللہ جب لوگ ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہوں تو کیا کیاجائے ؟ آپ نے فرمایا: تم استطاعت بھر کوشش کرو کہ اسے کوئی نہ دیکھ سکے،میں نے کہا اگر ہم میں کا کوئی شخص تنہا ہوتو کیا (شرم گاہ کھلا رکھ سکتا)ہے ؟ آپ انے فرمایا: اللہ تعالی لوگوں سے زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۔ (ابوداود،ترمذی ، ابن ماجہ : حسن )۔

2۔ سفید لباس پہننا مستحب ہے :

۰ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا:اِلبَسُوا مِن ثِیَابِکُم البَیَاضَ فَاِنَّھَا مِن خَیرِ ثِیَابِکُم وَکَفِّنُوا فِیھَا مَوتَاکُم ….الحدیث ۔(احمد،ابوداود،ابن ماجہ ،ترمذی:صحیح)۔سفید کپڑے پہنو اس لیے کہ وہ تمہارے بہترین کپڑوںمیں سے ہیں اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دو۔

۰ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا: اِلبَسُوا مِن ثِیَابِکُم البَیَاضَ فَاِنَّھَا اَطھَرُ وَاَطیَبُ وَکَفِّنُوا فِیھَا مَوتَاکُم ۔(احمد، نسائی ،ابن ماجہ: صحیح)۔سفید لباس پہنو اس لیے کہ وہ زیادہ پاک اور اچھا ہے اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دو۔

3۔ رنگوں میں زعفرانی اور خالص لال رنگ کا لباس پہننا منع ہے :

عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیںکہ : رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مجھے دوزعفرانی کپڑے پہنے دیکھاتو فرمایا: یقینا یہ کفار کے کپڑے ہیں لہذا تم انہیں نہ پہنو۔ (مسلم ، احمد ، نسائی )۔

یعنی اس میں کافروں کی مشابہت ہے ، لہذا ایسا لباس جو غیر مسلموں کی مذہبی یا قومی پہچان ہے تو اس کا پہننا حرام ہے ۔

4۔ ایسا لباس جو خالص لال نہ ہو بلکہ اس میں دیگر رنگوں کی آمیزش ہو تو ایسا لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے : کیوں کہ رسول اللہ ا کے بارے میں براءبن عازب فرماتے ہیں کہ : میں نے آپ کو لال لباس زیب تن کیے ہویے دیکھا ، میں نے (آپ پر )اس سے خوبصورت کوئی اور چیز (لباس) نہیں دیکھی۔ (بخاری )۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ لال لباس یمن کی چادر تھی اور یمن کی چادریں خالص لال رنگ سے رنگی ہوئی نہیں ہوتی تھیں ۔ (فتح الباری: ۰۱/ ۹۱۳ ) ۔

۰ جن احادیث میں کالے یا سرخ رنگ کے لباس پہننے کا ذکر ہے اس سے مراد سرخی مائل یا سیاہی مائل لکیر دار کپڑے ہیں ۔ حافظ ابن قیم رحمه الله نے لکھا ہے کہ بالکل سیاہ ، سبز اور سرخ لباس آپ نے نہیں پہنا ، حدیث میں ایسے رنگوں سے مراد ان رنگوں کا غالب ہونا ہے ، البتہ دستار مبارک اور سردیوں میں اوپر لینے والی چادر خالص کالے رنگ کی استعمال فرمائی ہے ۔ (فہم الحدیث جلد ۲، ص:۷۴۲)۔

5۔ لباس پہنتے ہوئے سیدھی جانب سے شروع کرنا چاہیے : عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ : نبی کریم صلى الله عليه وسلم اپنے ہر(اچھے)کام میں سیدھی جانب سے (شروع کرنا ) پسند فرماتے تھے : جوتے پہنتے وقت، کنگی کرتے وقت اور وضو کرتے وقت۔ (مسلم)۔

6۔ کپڑا پہنتے وقت یہ دعا پڑھیں: اَلحَمدُ لِلّٰہِ الَّذِی کَسَانِی ھٰذَا الثَّوبَ ، وَرَزَقَنِیہِ مِن غَیرِحَولٍ مِنِّی وَلَاقُوَّةٍ۔ ( ابوداود ) ۔

۰ معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا جو شخص کپڑا پہن کر یہ دعا پڑھے تواللہ تعالی اس کے اگلے( اور پچھلے )گناہ بخش دیتاہے ۔ ( ابوداود ، دارمی، البانی نے اس حدیث کو حسن کہاہے سوائے قوسین کے الفاظ کے)۔

7۔ جب نیا لباس پہنیں تو یہ دعا پڑھیں :

۰ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ا جب کوئی نیاکپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے مثلا عمامہ ،قمیص، یا چادر پھر یہ دعا پڑھتے : اَللّٰھُمَّ لَکَ الحَمدُ اَنتَ کَسَوتَنِیہِ ، اَساَلُکَ مِن خَیرِ ہِ وَخَیرِ مَاصُنِعَ لَہ وَاَعُوذُ بِکَ مِن شَرِّہِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہ ( ابوداود، ترمذی :صحیح) ۔

8۔ نیا لباس پہننے والے کے لیے یہ دعا دیں : ۔ تُبلِی وَ یُخلِفُ اللّٰہُ تَعَالَیٰ۔ ( بخاری ،احمد ، ابوداود) ۔   اور جب لباس اتاریں تو بِسمِ اللّٰہِ۔ کہہ کر اتارے۔ (ترمذی و صحیح الجامع )۔

9۔ مرد کا لباس اونچا اور عورت کا لبا س لمبا ہوہونا چاہیے : شریعت نے دونوں کے لباس میں لمبے پن اور چھوٹے پن کے لحاظ سے فرق کیا ہے ۔ مرد کے لیے آدھی پنڈلی سے لیکر ٹخنوں سے اوپر تک حد مقرر کی ہے اور عورت کے لیے دونوں قدم بھی ڈھانکنا لازم ہے تاکہ مردوں کے لیے فتنہ کا باعث نہ بنے ۔

٭ عجیب بات یہ ہے کہ آج معاملہ بالکل الٹ چکا ہے ؛اکثر مرد اپنے کپڑوں کو نیچے کرلیے ہیں یہاں تک کہ زمین کوجھاڑودینے لگ گئے ! اور اکثر عورتیں اپنا لباس اونچااورچھوٹا کرلیں یہاں تک کہ ان کی پنڈلیاں ظاہر ہونے لگیں اور بعض اس سے بھی تجاوزکر گئیں ۔

یہ ایک کبیرہ گناہ ہے جس پر احادیث میں سخت وعید آئی ہے :

۰ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : دونوں ٹخنوں سے نیچے جتنے حصہ پر تہبند لٹکا ہو گا وہ جہنم کی آگ میں (جلایا جائے گا)۔ اور امام احمد کی روایت میں یوں ہے کہ)۔ مومن کا تہبند آدھی پنڈلیوں سے لیکر ٹخنوں کے اوپر تک ہے ،لہذا جس کا تہبند اِس سے نیچے ہوگا وہ جہنم کی آگ میں (جلایا جائے گا)۔ (بخاری ،احمد، نسائی)۔

۰ ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالی قیامت کے دن بات نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف نظرِ کرم فرمائے گا اور نہ ہی انہیں (گناہوں سے )پاک کرے گا ، ان کے لیے درناک عذاب ہے ۔ رسول اللہ ا اس بات کو تین بار فرمایا ، ابوذر نے کہا : یہ لوگ ناکا م اور نامرادہوگئے ! یارسول اللہ !یہ لوگ کون ہیں ؟ !آپ ا نے فرمایا : اپنا تہبند لٹکانے والا ، احسان جتلانے والا ، جھوٹی قسم کھاکر اپنا سامانِ تجارت بیچنے والا ۔ (مسلم)۔

۰ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے(ایک بار) تہبند کا ذکر فرمایا تو ام سلمہ – ام المومنین – نے پوچھا : یارسول اللہ ! عورت ( کا تہبند کہا ںتک ہونی چاہیے )؟آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : (پنڈلی سے )ایک بالشت نیچے رکھے ، ام سلمہ ؓ نے کہا: تب تو اس کا (کچھ حصہ ) ظاہر ہوگا ۔ آپ فرمایا : ہاں تو ایک ہاتھ نیچے رکھ لے،اس سے زیادہ نہ کرے۔ (احمد ، ابوداود، ترمذی ابن ماجہ ، مالک ، دارمی : صحیح)

۰ نوٹ : عورت کواپنا کپڑا لمبا رکھنے کاحکم ہے؛ تاکہ اس کے دونوں قدم چھپ جائیں ، اگر عورت کا کپڑا اس کے قدموں کو نہ چھپا سکے تو موزے پہن کر بھی انہیں ڈھانک سکتی ہے ۔

ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : اکثر اہل علم کے نزدیک عورت کا اپنے قدموں کو ڈھانکنا مشروع بلکہ واجب ہے ۔ لہذا عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے دونوں قدموں کو کسی اضافی کپڑے سے یا موزے وغیرہ سے ڈھانک لے ۔(فتاوی ابن عثمین : ۲/۸۳۸)۔

10۔ تکبر سے کپڑا لٹکانا حرام ہے : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی قیامت کے دن اس شخص کی طرف نظرِ(رحمت ) سے نہیں دیکھے گا( یعنی اس پر غضبنا ک ہوگا) جس نے تکبر کے ساتھ اپنا تہبند (ازار ، پیانٹ،لنگی وغیرہ ٹخنے سے نیچے ) لٹکا کر چلتاہے ۔ (بخاری ، مسلم،احمد)۔

۰ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ ایک شخص تکبر کے ساتھ اپنا تہبند گھسیٹ کر چل رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ، اب وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا رہے گا۔ (بخاری ،مسلم،احمد)۔

۰ نوٹ : بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر دل میں تکبر نہ ہوتو تہبند ٹخنوں سے نیچے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس کے لیے وہ ابوبکر صدیق کی مثال پیش کرتے ہیں جبکہ ابوبکر صدیق کے واقعہ میں ان کے لیے کوئی دلیل اور جواز موجود نہیں ہے ،اس کی تفصیل حدیث میں یوں آئی ہے کہ : ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا لٹکائے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ کرم نہیں فرمائے گا۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یا رسول اللہ میرا تہبند کا ایک جانب لٹک جاتا ہے الا یہ کہ میں اس کا خیال کرتارہوں ،نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہیںجو تکبر سے ایسا کرتے ہیں۔ (بخاری ، مسلم،احمد، ترمذی ، نسائی،ابوداود، ابن ماجہ ،مالک) ۔

جولوگ اس واقعہ سے دلیل لیتے ہیں ا ن سے کہاجائے گاکہ اگر آپ کے اندر تین شروط پائی جائیں توآپ کوبھی اپناکپڑا لٹکانے کی اجازت ہے :

۱۔ آپ کے تہبندکا صرف ایک جانب لٹکتا ہو نہ کہ تمام جانب ۔ ۲۔ جب بھی آپ کا تہبند لٹک کر نیچے آجائے تو آپ اسے اوپر اٹھالیں، کیونکہ یہ چیز آپ کے اختیار کے بغیر ہورہی ہے ۔جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے ۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ ابوبکر نے فرمایا :(( میراتہبند کبھی کبھی نیچے لٹک جاتا ہے ))۔ شاید چلنے وغیرہ کی وجہ سے جب حرکت پیدا ہوتی ہے تو بغیر اختیار کے ان کا کمر بند ڈھیلاہوجاتا تھا اور جب وہ ا س کا خیال رکھتے تھے تو وہ نیچے نہیں آتا تھا اس لیے کہ جب بھی ان کا تہبند ڈھیلاہوجاتا تو وہ اُسے کس کرباندھ لیتے تھے ۔ (فتح الباری : ۰۱/۶۶۲)۔ ۳۔ نبی کریم ا آپ کے حق میں اس بات کی شہادت دیں کہ آپ تکبر کرنے والے نہیں ہیں !۔ اور اب اِس آخری شرط کا پایا جاناناممکن ہے ۔

اس واقعہ سے صرف اتنی بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کوئی بیمار ہے یا دبلا پتلا ہے اور اس کا تہبند احتیاط کے باوجود نیچے آجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، لیکن آج یہ چیز فیشن بن چکی ہے اور غیروں کی تقلید پر مبنی ہے ۔

٭ فائدہ : ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کی تین حالتیں ہیں :

۱۔ تکبر کے ساتھ کپڑالٹکائے رکھنا : اس کی وجہ سے [اللہ تعالی قیامت کے دن نہ اس سے بات کرے گا ، نہ اس کی طرف نظرِ کرم فرمائے گا ( یعنی اس پر غضبنا ک ہوگا)،اور نہ ہی اس کو گناہوں سے پاک کرے گا]،دوسرے یہ کہ[ وہ حصہ جہنم میں جلایا جائے گا]۔ (بخاری ، مسلم ، احمد)۔

۲۔ بغیر تکبرکے عمداً اور ہمیشہ ٹخنے سے نیچے رکھنا : اس کے لیے ایک عذاب ہے کہ [وہ حصہ جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا]۔(بخاری ،احمد، نسائی )۔

۳۔ بغیر اختیار اور بغیر تکبر کے عارضی طورپر تہبند لٹک کر نیچے آجائے: تو یہ حالت نہی میں داخل نہیں ہے ۔(فتح الباری : ۰۱/۷۶۲)۔ اس لیے کہ سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم ا جلدی میںاپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد آئے تھے ۔ (بخاری ، احمد، نسائی )۔ اور ابوبکر صدیق کے ساتھ جوحالت پیش آتی تھی وہ بھی اسی ضمن میں داخل ہے ۔ جیسا کہ اوپر گزر چکاہے۔ (فتاو ی ابن عثیمین رحمه الله )۔

۰ تکبر کے ساتھ کپڑا لٹکانے کی قید ایک عمومی اور غالب قید ہے ورنہ تکبرہر حالت میں مذموم اورحرام ہے ؛چاہے کپڑا ٹخنے سے اوپر ہی کیوں نہ ہو،اس لیے کہ تکبر ؛ اللہ کی خاص صفت ہے ،لہذا جو شخص تکبر کرے گا وہ جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا ۔ (دیکھیے : مسلم ، احمد، ابوداو،ابن ماجہ۔فتح الباری : ۰۱/۱۷۲)۔

 لباس وغیرہ میں نعمت کا اظہار مستحب ہے: جسے اللہ تعالی نے مال عطافرمایا ہے اسے چاہیے کہ وہ اسراف اور تکبر کے بغیر اچھا اور خوبصورت لباس زیب تن کرے ،اپنے آپ پر سختی یا بخیلی نہ کرے بلکہ عمدہ اورخوبصورت لباس پہن کر اللہ کی عطاکردہ نعمت کا اظہار کرے ۔ ابوالاحوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : میں نبی کریم ا کے پاس ایک معمولی اور حقیر کپڑے میں آیا ، آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ، آپ انے فرمایا: کونسا مال (تمہارے پاس ہے ؟) ۔ انہوں نے کہا : اللہ نے مجھے اونٹ، بکریاں ،گھوڑے اور غلاموں میں سے (بہت کچھ )دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا:”جب اللہ تعالی نے تمہیں مال دیا ہے تو اس کی نعمت اور اس کے کرم کا اثر تمہارے اوپر ظاہرہوناچاہیے“۔ (ابوداد، نسائی،احمد:صحیح)

اس سلسلے میں لوگ تین گروپ میں بٹے ہوئے ہیں کچھ لوگ تو دینی تقشف یا بخیلی کی وجہ سے تفریط کا شکار ہیں، حقیراور معمولی لباس پہنتے ہیں جبکہ کچھ لوگ افراط کا شکار ہیں ، مہنگے سے مہنگا لباس پہنتے ہیں اور اسراف و فضول خرچی میں مبتلاہیں ۔ اور کچھ لوگ میانہ روی اور اعتدال پر قائم ہیںاور بغیر اسراف اور تکبر کے اپنے لباس اور رہن سہن میں اللہ کی دی ہوئی نعمت کا اظہار کرتے ہیں۔

مباح اور جائز زینت میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرناچاہیے: اللہ تعالی نے فرمایا: وَالَّذِینَ اِذَا اَنفَقُوا لَم یُسرِفُوا وَ لَم یَقتُرُوا وَ کَانَ بَینَ ذٰلِکَ قَوَامًا﴿”اور جو خرچ کرتے وقت بھی نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی‘بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل راہ ہوتی ہے “ اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ ،پیو ، پہنواور صدقہ کرو بغیر اسراف اور بغیر تکبر کے“(بخاری )

فائدہ :اچھا لباس چاہے نفیس ہو یا غیر نفیس ، تکبر میں داخل نہیں ہے ۔ وعید تواس شخص کے حق میں ہے جو تکبر اورخود پسندی میں مبتلاہوجائے ۔

ابن مسعود رضى الله عنه  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی تکبر ہو ، ایک شخص نے پوچھا: آدمی پسند کرتاہے کہ اس کا کپڑا عمدہ ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو ( تو کیا یہ تکبر ہے ؟) ، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے ، تکبر تو یہ ہے کہ حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کو حقیر جانے “۔(مسلم)”

تمام دلائل کو جمع کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو شخص دوسروں کو حقیر جانے بغیر اللہ کی عطاکردہ نعمت کا اظہار کرنے اور اس کا شکر بجالانے کے لیے جائز لباس میں سے جتنا بھی عمدہ اوراچھالباس پہن لے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ (فتح الباری : ۰۱/۱۷۲)

جمعہ یا کسی خاص مناسبت کے لیے مخصوص لباس اور زینت کا اہتمام کرنا جائز ہے :

عبد اللہ بن سلام صسے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ا کو جمعہ کے دن منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا :”تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ دو کپڑے خرید لے جمعہ کے دن کے لیے اپنے کام کے کپڑوں کے علاوہ“ ۔ (ابن ماجہ ،ابوداود ، ابن حبان: صحیح)۔

اسی طرح مہمان اوروفود کے استقبال میں خاص زیب وزینت کرنا بھی جائز ہے : عمر صنے بازار میں دیکھا کہ ریشمی جوڑا (لباس) بیچا جارہاتھا ، عمرص کو بہت پسند آیا، نبی کریم ا سے فرمایا : اے اللہ کے رسول آپ اسے خرید لیں اور جمعہ ،عیدکے دن اوروفود کی آمد پر ان کے استقبال میں زیب تن فرمالیں ۔ نبی کریم ا نے ان پر نکیر فرمائی کہ جو دنیا میں ریشمی لباس پہنے گا قیامت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ البتہ جمعہ کے دن اور وفود کی آمدپر جائز لباس وزینت کے استعمال سے منع نہیں فرمایا (امام بخاریؒ نے باب التجمل للوفود :”وفود کے لیے زیب وزینت کرنے کا بیان “ باندھنے کے بعد مذکورہ حدیث ذکرفرمائی ہے دیکھئے فتح الباری : ج۶،ص:۱۷۱)۔

امام نووی رحمه الله  اس حدیث کی روشنی میں فرماتے ہیں : ”جمعہ کے دن ، عیدکے موقع پر اور وفود وغیرہ کے استقبال میں عمدہ لباس پہننا مستحب ہے “۔ ( شرح النووی ج۴۱،ص۸۳)۔

لباس اور زینت میں حرام اور ممنوع چیزیں

٭ اللہ تعالی نے زینت اور پاک روزی بندوں کے لیے پیدا فرمائی ہے جو لو گ اس کو اپنے اوپر حرام کرلیتے ہیں اللہ نے ان پر نکیر فرمائی ہے : ﴾ قُل مَن حَرَّمَ زِینَةَ اللّٰہِ الَّتِي ا خرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزقِ ﴿(الاعراف : 32)”آپ فرمایئے کہ اللہ تعالی کے پیدا کیے ہوئے اسبابِ زینت کو ‘ جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے، اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس شخص نے حرام کیاہے ؟ !“ یعنی اللہ کی پیداکردہ حلال زینت کو اپنے اوپر حرام کرلینا کسی کے لیے جائزنہیں ہے ۔

البتہ اسلام نے لباس ، زینت اور مظہر میں بعض چیزوں کو حرام بھی قراردیا ہے :

۱۔ شہرت اور اور تکبر کا لباس پہننا حرام ہے : ایسا عمدہ لباس جو عرف عام سے خارج ہویاایسا حقیر لباس جو عرف عام سے خارج ہو وہ شہرت کا لباس ہے اورلوگوں کی نظرِالتفات کا باعث ہے لہذا ایسا لباس چاہے اچھا ہو یا برااس کا پہننا حرام ہے:

ابن عمرصسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:”جو شخص دنیا میں شہرت کا لباس پہنے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا“۔ (احمد، ابوداود : حسن)

چونکہ شہرت کا لباس پہن کر دنیا میں عزت اورناموری چاہتا تھا اس لیے قیامت میں اس کے برعکس اُسے ایسا لباس پہنایا جائے گا جس سے اس کی ذلت اور رسوائی ہوگی ۔

۲۔ بغیر کسی عذر کے مردوں کے لیے سونا اور ریشمی لباس پہننا حرام ہے :

سیدناعلی صسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ریشم کو اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور سونے کو بائیں ہاتھ میں پکڑا پھر فرمایا :”یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اورعورتوں کے لیے حلا ل ہیں“ ۔(ابوداود،نسائی ،ابن ماجہ :صحیح)۔

ابوامامہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ”جو شخص دنیا میں ریشم پہنے وہ آخرت میں نہیں پہنے گا“۔ (مسلم)

سیدناابوہریرہ رضي الله عنه سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سونے کی انگوٹھی (پہننے )سے منع فرمایاہے ۔ (بخاری ، مسلم )۔

٭ حذیفہ ص فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتنوں میں پینے سے اور ان میں کھانے سے ، موٹا اور باریک ریشم پہننے سے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے (بخاری ، مسلم)۔ لہذا مردوں کا ریشمی بیڈشیٹ ، ریشمی صوفہ نیز ریشمی جائے نماز وغیرہ استعمال کرنا حرام ہے ۔

۳۔ ایسے کپڑے پہننا یا استعمال کرنا حرام ہے جن پر صلیب یا کسی جاندار کی تصویر ہو :

 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک تکیہ خریدا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں ، نبی کریم صلى الله عليه وسلم  نے جب اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر داخل نہیں ہوئے ، میں نے آپ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار دیکھے تو عرض کیا : میں اللہ سے توبہ کرتی ہوں (آخر ) میں نے کیا گناہ کیا ہے (آپ اندر کیوں نہیں آتے )؟! نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: یہ کیساتکیہ ہے ؟ !میں نے کہا : تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس پر ٹیک لگائیں ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ” اس قسم کی تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب ہوگا،ان سے کہا جائے گا کہ ان میں جان ڈالو (نیز آپ نے فرمایا): فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو “۔ (مسلم)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہصلى الله عليه وسلم

نے اپنے گھرمیں کوئی ایسا کپڑا رہنے نہیں دیا جس میں صلیب کی تصویر ہو؛ بلکہ آپ صلى الله عليه وسلم  نے اسے پھاڑ دیا “(بخاری)۔

۴۔ مرد کو عورت کی اور عورت کو مرد کی شکل وصورت اختیار کرنا حرام ہے : اس سلسلے میں سخت وعید آئی ہے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایسا کرنے والوں کے لیے لعنت فرمائی ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے لعنت فرمائی ہے عورتوں کی شکل وشباہت اختیا رکرنے والے مردوں پراور مردوں کی شکل وشباہت اختیار کرنی والی عورتوں پر “(بخاری )

یہ مشابہت مختلف چیزوں میں ہوسکتی ہے مثلا:لباس میں، گفتگو میںاور چلن وغیرہ میں۔لہذا اگر کوئی مرداپنے لباس ، یا گفتگویا چلن وغیرہ میں عورت کی شباہت اختیار کرے تو وہ ملعون ہے اسی طرح اگر کوئی عورت اپنے لباس یا گفتگویا چلن وغیرہ میں مرد کی شباہت اختیارکرے تو وہ بھی ملعون ہے ۔ آج کل نوجوانوں کا ایک طبقہ فاسق اور بدکار وں کی تقلید اور مشابہت میں فخر محسوس کررہاہے !!

۵۔ عورت کو تنگ اور ایساباریک لباس پہننا بھی حرام ہے جس سے اُس کا بدن ظاہر ہو : ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ ؛ رسول اللہ انے فرمایا: ”جہنم میں جانے والے دو قسم کے لوگ ایسے ہیں جنکو میں نے ابھی تک ( دنیا میں ) نہیں دیکھے : …. ان میں سے دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوتی ہیںمَردوں کو بہکانے والیاں اور خود بہکنے والیاں ان کے سر بختی اونٹوں کے کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوں گے ایسی عورتیں نہ جنت میں جائیں گی اور نہ جنت کی خوشبو سونگھ سکیں گی ، حالانکہ جنت کی خوشبو طویل مسافت تک پہنچتی ہے“ ( مسلم )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*