انگوٹھی پہننے کے آداب


حافظ عبدالحفیظ عمری مدنی (کویت)

۱۔ انگوٹھی پہننا جائز ہے : مرد اور عورت دونوں کے لیے انگوٹھی پہننا جائز ہے البتہ مردوں کے لیے صرف چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے: ابن عمررضى الله عنه  کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، صحابہ نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوائیں، آپ صلى الله عليه وسلم کے بعد آپ کی انگوٹھی ابوبکر رضى الله عنه  نے پہنی پھر عمررضى الله عنه  نے پھر عثمان رضى الله عنه  نے پہنی، یہاں تک کہ اُن سے [اریس] نامی کنویں کے اندر گرگئی ۔ (بخاری )۔

۰ صحابیات بھی انگوٹھیاں پہنتی تھیں جیساکہ اس حدیث سے واضح ہے کہ: ایک مرتبہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم عید کے موقع پر عورتوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی تو عورتیں اپنے زیور اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں ۔ ( بخاری)۔

۲۔ سونے کی انگوٹھی وغیرہ پہننا مردوں کے لیے حرام ہے :۰ ابوہریرہ رضى الله عنه کہتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے ۔ (بخاری )۔

۰ عبداللہ بن عباس رضى الله عنه  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے اُتار کر پھینک دیا اور فرمایا : ”تم لوگ آگ کے شعلے کا قصد کررہے ہواور اسے اپنے ہاتھ میں پہن رہے ہو“رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے چلے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا کہ تم اپنی انگوٹھی اٹھالو اور اُسے (دوسرے ) فائدے میں استعمال کرو ۔ اُس شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اُسے ہرگز نہیں لونگا جسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پھینک دیا ہے“ ۔ (مسلم )۔

۳۔ انگوٹھی میں نگینہ لگانا درست ہے : انس رضى الله عنه  کابیان ہے کہ ”نبی کریم  صلى الله عليه وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا“ ۔ (بخاری )۔

۴۔انگوٹھی کے نگینہ میں نقش کرنا جائز ہے : انس رضى الله عنه  کہتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کسریٰ ،قیصر اور نجاشی کو خطوط لکھنا چاہا تو آپ سے عرض کیا گیا : کہ وہ لوگ مُہر کے بغیر کوئی خط قبول نہیں کرتے تو آپ ا نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس میں محمد رسولاللہ کا نقش تھا ۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا : [محمد ]ایک سطر میں ، [رسول ] دوسری سطر میں اور[ اللہ] تیسری سطرمیں ۔

۰ عبداللہ بن عمر رضى الله عنه  کہتے ہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اس (کے نگینہ پر )(محمد رسول اللہ) کا نقش بناہواتھا۔ اور آپ ا نے فرمایا :” کوئی شخص میری اس انگوٹھی جیسا نقش نہ بنوائے “۔ (بخاری مسلم )۔

نوٹ : کیونکہ آپ صلى الله عليه وسلم سے بطور مہر استعمال کرتے تھے لہذایہ حکم حیات نبوی کے ساتھ خاص تھاتاکہ کوئی دوسرا شخص آپ کے نام مبارک سے دھوکہ نہ دے سکے ، اب یہ خطرہ نہیں رہا اس لیے انگوٹھی پر کلمہ توحید وغیرہ نقش کرایا جاسکتاہے ۔ (جاری)

۵۔ انگوٹھی سب سے چھوٹی انگلی (خنصر)یااس کے بازووالی انگلی میں پہننا مستحب ہے :

انس رضى الله عنه  بیان کرتے ہیں :” نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی انگوٹھی اس انگلی میں ہوتی تھی اور انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی طرف اشارہ کیا “۔ (مسلم )۔

۶۔ درمیانی یا شہادت کی انگلی (سبابہ) میں انگوٹھی پہننا منع ہے: علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ میں اپنی انگوٹھی اِس (سبابہ :شہادت ) انگلی میں یا اس کے بازو والی (درمیانی ) انگلی میں پہنوں ۔ (یہ شک حدیث کے ایک راوی عاصم ابن کلیب کی جانب سے ہے)۔(مسلم ، ابوداود)۔

ان احادیث کی بنیاد پر مستحب ہے کہ جو شخص انگوٹھی پہنے وہ اپنی (خنصر) سب سے چھوٹی انگلی میں یا اس کے بازووالی انگلی میں پہنے، درمیانی انگلی یا اس کے بازو والی شہادت کی انگلی میں پہننا مکروہ ہے ۔

۷۔ انگوٹھی دائیں یا بائیں کسی بھی ہاتھ میں پہننا جائزہے : امام نووی رحمه الله  فرماتے ہیں :

”فقہاءکا اجماع ہے کہ (انگوٹھی)سیدھے ہاتھ میںپہننا جائز ہے اور بائیں ہاتھ میں بھی پہننا جائز ہے ۔ نیزکسی ایک ہاتھ میں پہننا بھی مکروہ نہیں ہے ۔ البتہ انگوٹھی پہننے میں کونساہاتھ افضل ہے؟اس بارے میں فقہاءکا اختلاف ہے کیونکہ سلف صالحین کی ایک بڑی تعداد سیدھے ہاتھ میں پہنتی تھی اور ایک بڑی تعداد بائیں ہاتھ میں پہنتی تھی ؛لہذا اس سلسلے میں دونوں کی گنجائش ہے“ ۔ وللہ الحمد۔(شرح مسلم : جلد۷:۴۱/۹۵)۔

۸۔ انگوٹھی پہنتے ہوئے اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھنا مستحب ہے :

انس رضى الله عنه  بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے چاندی کی انگوٹھی اپنے سیدھے ہاتھ میں پہنی ، جس کا نگینہ حبشہ کا بناہواتھا ، آپ صلى الله عليه وسلم اس نگینہ کو ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے ۔ اور عبداللہ بن عمررضى الله عنه  بیان کرتے ہیں کہ : آپ صلى الله عليه وسلم جب انگوٹھی پہنتے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کے اندر کی جانب رکھتے تھے ۔ (بخاری مسلم )۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*