سرمہ لگانے کے آداب

حافظ عبد الحفیظ عمری مدنی (کویت)

مردوں کے لیے زینت کے طورپر سرمہ استعمال کرنا درست نہیں ہے اس لیے کہ زینت اور سنگار کرنا عورت کی صفت ہے

۱۔ سرمہ لگانا زینت ہے لہذایہ زینت صرف عورتوں کے لیے خاص ہے ،مردوں کے لیے زینت کے طورپر سرمہ استعمال کرنا درست نہیں ہے ،البتہ بطورعلاج مرد اور عورت دونوں کے لیے جائز ہے ۔ عرب کے لوگ اسے آشوبِ چشم کے وقت بطور علاج استعمال کرتے تھے :

۰ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں اس بات ذکر آیا ہے کہ : ایک عورت کا شوہر انتقال کرگیا اس کے بعد اس کی آنکھ میں تکلیف شروع ہوگئی ، اس کے گھر والے نبی کریم ا کے پاس آئے اورسرمہ لگانے کی اجازت طلب کی لیکن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ عورت (عدت کے زمانے میں ) سرمہ نہ لگائے (بخاری )۔ یعنی آشوب چشم کے وقت بطورعلاج سرمہ لگانا اُن لوگوں کے اندر عام تھا ، لیکن چونکہ اس میں زینت بھی ہے اس لیے انہوں نے آپ صلى الله عليه وسلم سے وضاحت طلب کی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے حالت عدت میں سرمہ لگانے سے منع فرمایا۔

۰ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : اور سب سے بہترین سرمہ [اِثمِد]ہے جو آنکھ کی روشنی کو بڑھاتاہے اور بال اگاتاہے ۔ (احمد، ابوداود : صحیح)۔

۰ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے [اِثمِد]سرمہ استعمال کرنے کی ترغیب دلائی ہے اس لیے کہ اس میں بہت سے فوائد ہیں : اثمد استعمال کرو اس لیے کہ وہ بالوں کو اگاتاہے ، آنکھ کے میل کچیل کو دور کرتاہے اور روشنی کو تیزکرتاہے ۔ (السنة لابن ابی عاصم، طبرانی ، فتح الباری : کتاب الطب، ابن حجر نے اسے حسن کہا ہے )۔

۲۔ سنت یہ ہے کہ طاق عدد میں لگایاجائے یعنی تین بار دائیں آنکھ میں اور تین بار بائیں آنکھ میں یا دائیں آنکھ میں تین بار اور بائیں آنکھ میں ایک بار ۔ تاکہ مجموعی طورپر طاق عدد ہوجائے یا پھر دائیں آنکھ میں ایک بار اور بائیں آنکھ میں دو بار لگائیں۔

مراجع :

۱۔ کتاب الآداب فواد عبدالعزیزشلہوب۔

۲۔ صحیح بخاری مترجم اردواز مولانا محمدداود راز۔

۳۔ فہم حدیث ج ۲،از میاں محمد جمیل ایم اے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*