غیرمسلموں میں طریقہ دعوت ( مفتی محمد سرور فاروقی ندوی – آچاریہ )

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں محمد

اگر موقع ہو تو اسی نشست میں ورنہ آئندہ رسالت کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کو بتائیں کہ دنیامیں جتنی بھی قومیں اپنے پاس ایشوری گیان ہونے کا دعوی کرتی ہیں ان کے یہاں آخری رسول کا تذکرہ موجود ہے ۔ آخری رسول کا تذکرہ توریت،انجیل،بودھ دھرم اور قرآن مجید میں ملتا ہے ۔

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا تذکرہ ویدوں کی دنیا میں

ویدوں میں تقریباً ۱۳ جگہ پر نراشنس کا لفظ آیا ہے ،جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ جس وقت آئے گا اس کی باتوں پر عمل کرنے میں ہی نجات ملے گی چنانچہ اتھر وید (20: 127) میں ہے ” لوگو! سنو نراشنس کی بہت تعریف کی جائے گی “

آپ پوری تاریخ انسانی پر نظر ڈال کر دیکھیں تو آپ کو واحد شخصیت محمد بن عبداللہ کی ملے گی جن کی تعریف اس وقت پوری دنیا میں ہو رہی ہے ۔ وہ اس طرح کہ پوری دنیا کا جو نظام شمسی ہے اس کے اعتبار سے پورے عالم میں ہر وقت کسی نہ کسی نماز کا وقت ہوتا ہے تو ظاہر ہے کہ ہر منٹ اذان میں اور تشہد میں محمد  کی تعریف بیان کی جاتی ہے ۔ اگرکوئی شخص محمد  کے علاوہ ثابت ہوتا ہو تو اس سلسلے میں آپ بتائیں ورنہ آپ اسے قبول فرمائیں ۔

اور اس نراشنس کے بارے میں جو مختلف پیشین گوئیاں کی گئی ہیں ان میں یہ ہے کہ :

٭سو نشکوں سے یکت ہوگا : جس سے مراد اصحاب صفہ ہوسکتے ہیں ۔

٭اسے اپنی جائے پیدائش ترک کرنی پڑے گی: رسول اللہ  نے بھی ترک وطن کیا تھا ۔

٭تین سواروں سے یکت ہوگا: یعنی تین سو سے زائد گھوڑسوار اسے دئیے جائیں گے جن سے وہ جنگ کرے گا ۔ مراد جنگ بدر ہو سکتی ہے اس لیے کہ محمد صلى الله عليه وسلم  نے بھی جنگ میں 313 اصحاب کے ساتھ جنگ کی تھی ۔

ان تمام دلائل سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ وہ آخری نبی جن کا ذکر تمام کتب میں کیا گیا ہے وہ محمد بن عبداللہ ہی ہیں ‘ صرف زبان کا فرق ہے کہ عربی میں محمد ،ہندی اور سنسکرت میں نراشنس اور انگریزی میں پیرا کلیٹ اور فارسی میں فارقلیط کے نام سے موسوم کیا گیا ہے لیکن پوری پیشین گوئیاں زمانے کے اعتبار سے بھی ایک ہی شخص پر صادق آتی ہیں ۔

اس لیے محمد جتنے ہمارے ہیں اتنے ہی پوری دنیا کے ہیں اور قرآن پر جتنا ہمارا حق ہے اتنا ہی حق آپ کا بھی ہے ۔

تو آئیے اب ہم اپنے باپ آدم کی طرف چلتے ہیں وہ جس دھرم کو لے کر آئے تھے وہ یہی اسلام دھرم تھا ، اردو میں اسلام کہہ دیا اور ہندی میں ”سروسمرپڑ دھرم “بات ایک ہی ہے ،ہم سب کے باپ بھی ایک ہی رہے اور دھرم بھی ایک ہی ہے لیکن آپ وہیں رہے اور آگے کے آنے والے آخری پیغمبر یا نراشنس کونہیں پہچان سکے اور ہم ان پر آستھا رکھتے ہیں۔

اس لیے ہم آپ کا دھرم نہیں بدل رہے ہیں بلکہ آپ کا بھولا ہوا سبق یاد دلارہے ہیں کہ آپ صحیح دھرم پر آجائیں اور ان چیزوں سے باز آجائیںجنہیں ذاتی مفاد کی خاطر گڑھ لی گئی ہیں۔

میں آپکے ذہن سے اس شبہے کا ازالہ بھی کردینا چاہتاہوں کہ اسلام کے بانی محمد  نہیں بلکہ اسلام دھرم کی ابتداءآدم (آدی مانو) سے ہوئی هے البتہ محمد صلى الله عليه وسلم پر اسلام دھرم مکمل ہوا ‘ اگر آخری نبی کو نہ مانیں گے تو دنیا وآخرت میں نجات کیوں کر مل سکے گی ؟

آپ کے ہاں جو خرابیاں آئیں وہ بالکل بجا ہیں ،اس لیے کہ جب محمد  کے ماننے والوں میں جن کے صرف چودہ سو برس ہوئے ہیں ‘ قبر كي پوجا آگئی تو اگر آپ کے ہاں مورتی پوجا کئی ہزار سال بعد آئی تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ، لیکن تعجب اس وقت ہوتا ہے جب کسی کو کوئی محسن اس کی بھولی ہوئی بات یاد دلائے تو اس وقت وہ اسے اپنا دشمن سمجھے یا یہ سمجھے کہ یہ مجھے دھوکہ دے رہا ہے ۔ہاں! ایک بات آپ کے ذہن میں آرہی ہوگی کہ” اگر کسی نبی کو آنا تھا تو بھارت ورش میں آتا “

ٹھیک ہے چونکہ کل یوگ میں ایک ہی دوت آنا تھا اور وہی آخری تھا جسے پورے عالم کی قیادت کرنی تھی تو ظاہر ہے کہ وہ ہندوستان میں کیسے آتا ‘ اس کو تو ایسی جگہ آنا چاہیے تھا جو پورے عالم کا سینٹر یعنی مرکز ہو ۔ محمد صلى الله عليه وسلم عرب دیش ہونے کی وجہ سے وہاں نہیں بھیجے گئے تھے بلکہ دنیا کا سینٹر ( کیندر بندو) ہونے کی وجہ سے بھیجے گئے تھے ۔ کیونکہ آپ کی بعثت ہی اس لیے ہوئی تھی کہ پورے عالم کے تمام انسانوں کو ستے مارگ (صراط مستقیم) دکھائیں ‘ آپ کو بھی ان سے محبت اور آستھا اتنی ہی ہونی چاہیے جتنی مجھ کو ہے ۔

غیرمسلموں میں تبلیغی مساعی کو بہتر بنانے کا عمل

تمام مذاہب کی کتب مقدسہ کے تقابلی مطالعہ کے ذریعہ اسلام کی حقانیت ثابت کرنا ۔

ادیان عالم کے تحقیقاتی مراکز قائم کرنا ۔

غیرمسلموں خصوصاً ہندو مذہب میں دعوت وتبلیغ کو محبت وہمدردی کے جذبے سے عام کرنا ۔ خود چل کر ملاقات کرنا اور ان کے اشکالات کو خوش اسلوبی سے دور کرتے ہوئے ان کے سامنے اسلام کا تعارف کرانا ۔

غیرمسلموں سے ملاقات کے لیے ہفتہ میں ایک دن وقت نکال کر جانا اور اشاعت اسلام کے لیے ہمہ تن کوشش کرنا ۔

غیرمسلموں کے شبہات کے ازالہ کے لیے کتابچے شائع کر نا اور تعارف اسلام پر مبنی لٹریچر کی اشاعت کرنا۔

ملک کے تمام اسلامی تنظیموں کو متحد ہوکر دعوتی کاز کو ملکی اور عالمی سطح پر بغیر کسی شور وہنگامہ کے عام کرنا ۔

 مسلم نوجوانوں کو منتخب کرکے ان کو دعوتی ٹریننگ دینا اوران کو خود اعتمادی کے ساتھ دعوت کے لیے تیار کرنا ۔

مسلم عوام کو غیرمسلموں کے ساتھ اچھے سلوک برتنے پر زور دینا اور اسلامی تعلیمات سے آشنا کرانا ۔

ایسے کتابچوں کا انتظام کرنا جن میں اسلام میں داخل ہونے والوں کے لیے تشفی بخش سامان ہو‘ اور انہیں محسوس ہو کہ ہمارا مذہب بدلا نہیں گیا ہے بلکہ وہی مذہب ہے جس پر ہمارے اول باپ آدم تھے ۔

ایسی تعلیم گاہ کا انتظام کرنا جہاں اسلام میں داخل ہونے والوں کو مختصر اور جامع تربیت دی جاسکے ۔

عصری تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم مسلم طلباء کی ایسی تربیت کرنی کہ وہ اپنے غیرمسلم دوستوں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں ۔

مناسبات اور تقریبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں تعارف اسلام پر مشتمل کتابیں تقسیم کرنے کا اہتمام کرنا ۔

 

 

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*