خوشبو استعمال کرنے کے آداب

 حافظ عبد الحفيظ عمري مدني

 ۱۔ خوشبو استعمال کرنا مستحب ہے : خوشبو کا استعمال نفس میں راحت وانبساط پیدا کرتا ہے۔ رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ اچھی اور پاک خوشبواستعمال کرتے تھے ۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ” میں نے کوئی حریر و دیبا نہیں چھوا جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو اور نہ کبھی کوئی عنبر یا مشک یا کوئی ایسی خوشبو سونگھی جو رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم کی خوشبو سے عمدہ ہو “۔ (بخاری ، مسلم )

۰ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ” میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو سب سے عمدہ خوشبو لگا یا کرتی تھی ، یہاں تک کہ میں خوشبوکی چمک آپ کے سراور آپ کی داڑھی میں دیکھتی تھی“ ۔ (بخاری )۔

۲۔ خوشبوکا استعمال مرداور عورت ہردونوں کے لیے جائز ہے لیکن دونوں کے لیے حج یا عمرہ کے وقت احرام کی حالت میں حرام ہے ۔(بخاری ، مسلم ) ۔

۳۔ عورت کے لیے بھی دو حالتوں میں خوشبو کا استعمال حرام ہے :

۰ پہلی حالت یہ ہے کہ جس عورت کا شوہر انتقا ل کرجائے اسے چارماہ دس دن تک خوشبو استعمال کرنا حرام ہے : ام عطیہ رضی اللہ عنہا کابیان ہے کہ : ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے سے منع کیا جاتاتھا، البتہ شوہر کی(موت پر ) چارماہ دس دن ۔ (سوگ منانے کا حکم تھا)کہ ہم سرمہ نہ لگائیں ، خوشبو نہ لگائیں اور نہ ہی رنگا ہوا کپڑا پہنیں البتہ ایسا کپڑا (پہننے کی اجازت تھی ) جس کا (دھاگا) بننے سے پہلے ہی رنگا گیا ہو۔ اور طہر(حیض سے پاک ہونے) کے وقت جب ہم میں سے کوئی غسل کرلے تو ہمیں اجازت دی گئی کہ ہم خوشبو استعمال کریں اور ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا جاتا تھا“۔    (بخاری ، مسلم ) ۔

۰ دوسری حالت یہ ہے کہ : جب عورت کسی ایسی جگہ جائے جہاں اجنبی مرد موجود ہوں حتی کہ مردوں کے راستے سے بھی گزرنا پڑے جہاں سے مردوں تک خوشبو پہنچ سکتی ہے تو ایسے وقت خوشبو کا استعمال عورت کے لیے حرام ہے ۔ بہت سی عورتیں اس معاملے میں کوتاہی برتتی ہیں ، جبکہ اس سلسلے میں سخت وعید وارد ہے : ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”جو عورت خوشبو لگا کر کسی قوم پر سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے“ ( احمد، نسائی ، ترمذی،ابوداود،دارمی: حسن) ۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا ایک عورت سے سامنا ہوا جس سے خوشبو اور عطر کی مہک آرہی تھی اس کے دامن سے غبار اڑ رہاتھا تو ابوہریرہ رضى الله عنه نے فرمایا: ”او جبّار کی بندی! کیا تومسجد سے آرہی ہے ؟ ! “اس نے کہا : ہاں ۔ ابوہریرہ رضى الله عنه  نے فرمایا : میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم صلى الله عليه وسلم سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ : ”جوعورت مسجدمیںخوشبو لگاکرآتی ہے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ (اپنے گھر ) لوٹ جائے اور جنابت کی طرح غسل نہ کرلے“ (مسلم )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*