گوشت خوری : اسلام کا نقطہ نظر

 ہندووں کی چند متعصب تنظیمیں عام دنوں میں بالعموم اورعیدقرباں کے موقع پر بالخصوص یہ واویلامچاتی ہیں کہ مسلمان حیوانات کو ذبح کرکے بڑی بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ذیل کے سطور میں اسی غلط فہمی کا ازالہ کیاگیا ہے۔ اس غلط فہمی کے ازالہ سے پہلے چند بنیادی باتوں کا سمجھ لینا بیحد ضروری ہے

 [1] گوشت خوری کو اس وجہ سے بے رحمی کہاجاتا ہے کہ اس میں ایک جان کو قتل کیا جاتا ہے ۔ اگر اس اعتبار سے غور کیاجائے تو سوچنا چاہےے کہ کیا پیڑپودوں میں جان نہیں ہوتی ۔جبکہ اس دور میں سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ پیڑپودے بھی احساسات سے عاری نہیں،اُن میں بھی جان ہوتی ہے۔اس تحقیق کا سہرا ایک ہندوستانی سائنس داں آچاریہ جگدیش چندربوس کے سرجاتا ہے انہوں نے نباتات پراپنی تحقیقات کے ذریعہ ثابت کیا کہ نباتات بھی حیوانات کی طرح جاندارہیں ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔انہوں نے نباتات کے احساسات کو ریکارڈ کرنے کے لےے ایک آلہ ایجاد کیا ۔ اس آلہ کے ذریعہ انہوں نے یہ دکھایا کہ نباتات بھی دوسری جاندار چیزوں کی طرح دکھ سکھ کا احساس رکھتے ہیں ۔ کیا اس تحقیق کی بنیاد پر غلہّ،دالیں،سبزی ،پھل کھانا چھوڑ دینا چاہےے؟۔

[2] ہندو لوگ اپنے کھانوں میں دہی کو سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں دودھ سے دہی بنانے والے وہ کروڑوں بیکٹیریا ہوتے ہیں جو دودھ میں پیدا ہوتے ہیں تو کیا اس وجہ سے دہی کھانا چھوڑ دینا چاہےے؟۔

[3] ہم جس ہوا میں سانس لیتے ہیں اس میں کروڑوں اور اربوں جراثیم تیرتے پھرتے ہیں جو ہماری سانس کے ساتھ جسم میں جاکر مرجاتے ہیں ۔ کیا اس لےے ہوا میں سانس لینا چھوڑ دینا چاہےے ؟۔

[4] ہم جس زمین پرچلتے ہیں اس پر ہمارے چلنے سے کتنے ہی کیڑے مکوڑوں کی جان جاتی ہے تو کیا ہمیں زمین پر چلنا بند کر دینا چاہےے ؟ ۔

معلوم ہوا کہ انسانی زندگی کی بقا اور تحفظ کے لےے قدم قدم پر جاندار مخلوقات کی ہلاکت لازم آتی ہے اوراُسے گواراکیا جاتا ہے پھر انسانوں کی غذائی ضروریات کے لےے جانوروں کو ذبح کرنے کی بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی جبکہ حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔

اب اس مسئلہ پر ذرا اس پہلو سے بھی غور کیجےے :

(1) دنیا میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں گھاس کا تنکا بھی پیدا نہیں ہوتا ، یہاں کے لوگوں کی زندگی کا دارومدار مچھلی اور ان جانوروں کے گوشت پر ہوتا ہے جو وہاں پائے جاتے ہیں ۔ کیا گوشت کھانے پر پابندی لگانا ان کو بھوکامارنا نہیں ہوگا جس کے نتیجے میں وہ زندگی سے محروم ہوجائیں گے؟ ۔

(2) پالتو جانور جب تک دودھ اور بچے دینے کے قابل ہوںاپنے مالکوں کے لےے فائدہ مندہوںگے لیکن جب اس قابل نہ رہیں توان کے اخراجات کا بوجھ کون اٹھائے گا؟جب جانوربوجھ بننے لگیںگے تو ان کو پالنے کی ذمہ داری کون لے گا ؟

(3) گوشت میں پروٹین ہی پروٹین ہوتی ہے ، گوشت کے پروٹین انسانی جسم کا جزو بننے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں اس لےے ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ متوازن غذا میں گوشت کا ہونا ضروری ہے ۔

گوشت خوری کی يہی اہمیت ہے جس کی وجہ سے اسلام ، يہودیت ،اور عیسائی مذہب گوشت خوری کی اجازت دیتے ہیں بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کے زمانے میں گوشت خوری عام تھی اور انہوں نے کبھی اس کی مخالفت نہیں کی۔ وہ خود بھی گوشت کھاتے تھے ۔ انتقال سے قبل انہوں نے گوشت کھایا تھا ۔ بدھ مت کے ماننے والوں میں جانور ذبح نہ کرنے کا رجحان ڈھائی سو سال قبل مسیح کے ایک بدھ حکمراں اشوک کے زمانے سے پیدا ہوا ہے ۔ اس عہد میں دیوتاوں کے نام پر اور ان کے آستانوں پر جانوروں کی قربانی کرنے اور ان کا گوشت کھانے کا عام رواج تھا ، اشوک نے اس پر پابندی لگادی اور اس قانون کو سختی سے نافذ کیا ۔

خود ہندودھرم کی کتابیں نہ صرف گوشت خوری کی اجازت دیتی ہیں بلکہ گائے کا گوشت کھانے کا تاکیدی حکم بھی دیتی ہیں ۔

منواسمرتی میں لکھا ہے : ” جو شرادھ اورمدھوپرک میں پروسے گےے گوشت نہیں کھاتا وہ اکیس جنموں تک مویشی بنتا ہے “(۵۳۵)

”کھانے کے لائق جانووں کو کھانے والے کو دوش( گناہ) نہیں ہوتا ، کیوںکہ کھانے کے لائق جانور کو اور نہ کھانے والے جانور کو برہما جی نے پیدا کیا ہے “ (۵۰۳)

مہابھارت کے دن پرومیں آتا ہے کہ راجارتی دیو کو اس لےے شہرت ملی کیوںکہ وہ گایوں کو ذبح کرکے اپنے باورچی کھانے میں پکوایا کرتا تھا : ”راجا رتی دیو کی رسوئی کے لےے دوہزار مویشی کاٹے جاتے تھے، روزانہ دوہزار گائیں کاٹی جاتی تھیں“ (۰۱۸۱)

برہم دیوت پُران میں آتا ہے :” پانچ کروڑ گایوں کا گوشت اور مالپوئے برہمن لوگ کھاگےے“ (پرکِرتی کھنڈ، ادھیائے ۱)

اسی پُران میں مہادیو سویگیہ نام کے راجہ کے بارے میں کہتے ہیں : ”جس کے راجیہ میں پکا ہوا گوشت برہمنوں کو روز دیا جاتا ہے “ ۔ (۲۱۰۵)

رام چندر جی کو ہندومت میں بہت اہم مقام حاصل ہے ۔ انہوں نے جب چودہ سو سال کا طویل عرصہ اپنی بیوی سیتا اور بھائی لچھمن کے ساتھ بن باس میں گزارا تو اس دوران جنگلی پھلوں کے علاوہ ہرن اور دوسرے جانوروں کا شکار کیا اوراُن کا گوشت کھایا ، اس کی تفصیل والمیکی کی راماین میں موجود ہے ۔

مذاہب میں صرف جین مت گوشت خوری کا مخالفت ہے ۔ اس کا سبب اس کا”اہنسا“کا نظریہ ہے ۔ اہنسا کا مطلب یہ ہے کہ کسی جان دار کو تکلیف نہ پہنچائی جائے ۔ اس نظریہ کو اگر اس کے وسیع مفہوم میں لیا جائے تو کوئی انسان اس دنیا میں زندگی نہیں گزار سکتا ۔ اس لےے کہ ہرلمحہ قدم قدم پراس سے اہنسا کا صدور ہوگا ۔ یہ نظریہ جین مت کے تصور کائنات اور نظام حیات سے تو ہم آہنگ ہے کہ وہ ترکِ دنیا ، ترکِ تمدن اورترکِ خواہشات ولذات کا داعی ہے لیکن جو مذاہب دنیا اور اسبابِ دنیا سے فرار کی تلقین نہیں کرتے اُن کے نزدیک یہ کیوںکر قابل قبول ہوسکتا ہے ؟ !

(تفصیل کے ليے دیکھيے غیرمسلم کے شبہات اور ہمارا موقف: پروفیسر عمرحیات خان غوری (ص ۵۰۱۔۱۱۱) اور مولانا محمدرضی الاسلام ندوی کا مقالہ گوشت خوری۔ اسلام کا نقطہ نظر: جو دوقسطوں میں ماہنامہ راہِ اعتدال فروری مارچ ۱۰۰۲ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*