افریقی باکسرز اسلام کے سایہ میں

 

براعظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے 9 باکسرز نے کراچی میں بے نظیر بھٹوشہید انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنمنٹ کے دوران عیسائیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا ۔

 

مفتی نعیم کے ہاتھوں اسلام قبول کرنے کے بعد یہ نوجوان باکسرز بہت خوش اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے ۔ان میں سے چھ کا تعلق سنٹرل افریقن ریپبلک سے ہے اور تین کیمرون کے شہری ہیں ۔

 

واضح رہے کہ یہ باکسرز بے نظیر بھٹو شہید انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنمنٹ میں شرکت کے لیے حکومت پاکستان کی دعوت پر اپنے کوچ اور باکسنگ فیڈریشن کے صدر کے ہمراہ کراچی آئے تھے ۔ کے پی ٹی اسپورٹس کامپلکس میں ان کے مقابلے جاری تھے ۔ یہ ٹورنمنٹ اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیاجب 4 جنوری 2010 کی شب وسطی افریقن ریپبلک سے تعلق رکھنے والے 6 باکسروں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں ۔ بعد ازاں ان باکسرز کے لیے 5جنوری کی دوپہر2بجے پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی جانب سے مقامی ہوٹل میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ممتاز عالم دین مفتی نعیم کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا ۔ صحافیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس وقت خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب تقریب کے منتظمین کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ6وسطی افریقی باکسرز کے ساتھ کیمرون سے تعلق رکھنے والے تین باکسرز بھی اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ بعدازاں مفتی صاحب نے 9 باکسروں کو کلمہ طیبہ پڑھاکر انہیں دائرہ اسلام میں داخل کیا ۔ اس موقع پر مفتی نعیم کی جانب سے ان کے قبول اسلام کی ایک سند تیار کرکے نوجوانوں کو دے دی گئی ۔ قبول اسلام کی بابرکت اور روح پرور تقریب کے بعد مہمان باکسرز نے اپنے کوچ کے ہمراہ واپس کے پی ٹی اسپورٹس کامپلکس چلے گئے ۔ ”امت “ کی جانب سے نومسلم باکسرز اور ان کے کوچ سے خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا ۔ جب ”امت“ ٹیم کے پی ٹی اسپورٹس کامپلکس پہنچی تو وہاں مختلف ممالک کے باکسرز کے درمیان مقابلے جاری تھے اور رنگ کے اطراف موجود عام شائقین کے ساتھ نومسلم نوجوان افریقی باکسرز بھی بیٹھے ہوئے مقابلوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ وسطی افریقہ سے تعلق رکھنے والے 6نومسلم نوجوان سفید کاٹن کے شلوار ، قمیص پہنے اور سروں پر سفید ٹوپیاں لگائے الگ ہی دکھائی دے رہے تھے ۔

 

9 افریقی باکسرز کے قبول اسلام کا سارا کریڈٹ ان کے کوچ محمد کلام بے کو جاتا ہے ۔ ”امت ‘’ کی جانب سے انٹرویو کی خواہش ظاہر کرنے پر ان باکسرز کے کوچ محمدکلام بے نے ”امت “کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق سنٹرل افریقن ریپبلک کے شہر بنگوی سے ہے اور 1967ءسے باکسنگ کے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ الحمد للہ وہ پیدائشی مسلمان ہیں اور انہوں نے اپنی ٹیم کے عیسائی کھلاڑیوں کے ساتھ ہمیشہ برادرانہ اور دوستانہ رویہ رکھا جس کی وجہ سے باکسرز اسلام کی تعلیمات سے متاثر تھے ۔ محمد کلام کے مطابق جب وہ حکومت پاکستان کی درخواست پر اپنی ٹیم کے 6کھلاڑیوں کے ہمراہ کراچی پہنچے تو پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے عہدہ دار رات 2بجے ایر پورٹ پر استقبال کے لیے موجود تھے ۔ یہ افریقی کھلاڑی پاکستانی آفیشلز اور دیگر لوگوں کے حسن سلوک اور مہمان داری سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اگلی ہی رات انہوں نے اپنے کوچ سے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کردی ۔ محمد کلام بے اپنے کھلاڑیوں کے اس فیصلے پر خوشی سے سرشار ہوگئے اور انہوں نے فوری طور پر پاکستان فیڈریشن کے حکام کو مطلع کیا وسطی افریقہ کے جن کھلاڑیوں نے اسلام قبول کیا ان کے افریقی نام اور مفتی نعیم کی جانب سے رکھے گئے اسلامی نام کچھ اس طرح سے ہیں :

٭ سیلی بانگے (اقبال حسین )

٭کبوڈو آئی گور (محمداکرام)

٭نیام بونگوی (عبیدالرحمن )

٭بانگوی (تیمور حسین )

٭این گو کو (محمدعلی)

٭ین ڈراسا (علی اکبر)

جبکہ کیمرون سے تعلق رکھنے والے باکسرز کے نام

٭میمدوا (محمد یاسر)

٭کیچی می (محمد راشد)

٭ٹچ ویم (محمد احمد) رکھے گئے ہیں ۔

 

وسطی افریقہ ٹیم سے تعلق رکھنے والے باکسرز کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی عوام کے اخلاق اور حسن سلوک سے بہت متاثر ہوئے ہیں ۔ یہاں جس گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا گیا اور بعد ازاں خلوص ومحبت کے رویے کو وہ زندگی بھر نہیں بھول سکتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے ہمیں اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اپنے اہل خانہ اور دوستوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے تاہم وہ تمام مشکلات کو جھیلنے کے لیے تیار ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام باتیں ان کے ذہنوں میں موجود تھیں تاہم ان کے کوچ محمد کلام بے ان کی بہت ہمت افزائی کر رہے تھے اور اسلام سے متعلق بہت سی باتیں بھی سکھا رہے تھے ۔

 

نومسلم باکسر محمد علی کا کہنا تھا یہ امکان بہت کم ہے کہ انہیں اپنے اہل خانہ یا دوستوں کی جانب سے کسی مخالفت یا رویے کا سامنا کرنا پڑے کیوں کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ان کے ملک میں خواتین اور مردوں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کے رجحان میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

 

تمام نومسلم کھلاڑیوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے وطن جاکر تبلیغ دین کا کام کریں گے ۔ ان کھلاڑیوں کی عمریں24سے 30سال کے درمیان ہیں۔ان کے چہروں سے خوشی اور سکون جھلک رہا تھا ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*