غیرمسلموں میں طریقہ دعوت

 

مفتی محمد سرور فاروقی ندوی (آچاریہ )

 

آج پوری دنیا میں خدابیزاری کی جو کیفیت پائی جا رہی ہے اس کی ذمہ دار بہت حد تک خود قوم مسلم ہے کیوں کہ اسی کے پاس خالق کائنات کا عطا کیا ہوا وہ ابدی قانون ہے جس میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے مسائل کا حل موجود ہے لیکن افسوس کہ نہ مسلمانوں نے اسے خود اپنایا اور نہ ہی دوسری قوموں کے سامنے اس کا تعارف کرایا ۔

کچھ دنوں سے اس کا احساس تھا کہ ہم جس قوم کے درمیان زندگی گزا ر رہے ہیں کل قیامت کے میدان میں اگر سوال ہوگیا کہ تم ان کے درمیان میںتھے ان کی دوکانوں سے سودا خریدتے اور ہرطرح کے معاملات کرتے تھے لیکن تم نے کبھی انہیں جہنم سے بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی ‘تو اس وقت ہم کیا جواب دے سکیں گے اِن سوالات نے ہندو مذہب کا تعارف اور ویدوں کے مطالعہ پر مجبور کیا تو کچھ ایسے مشترک کلمے سامنے آئے جن کے ذریعہ برادرانِ وطن سے بات کرنا آسان ہوجاتا ہے اور مکمل دعوت قرآن وسنت کے مطابق ان کی زبان میں پیش کرتے ہیں تو وہ متوجہ ہوتے ہیں اور سلیم الفطرت لوگ حقیقت پر مبنی چیزں پر غور کرکے اسلام قبول کرتے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے متوجہ کرانے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ اللہ پاک ہم سب کو تمام انسانوں کو جہنم سے نکالنے والوں میں شمار فرمائے ۔

ہم یہاں چند موٹے موٹے اصولوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں جسے ہر داعی کو اپنے ذہن میں مستحضر رکھنا چاہیے :

(1) اپنی دعوت پر خود اعتمادی کے ساتھ سو فیصد کامل یقین ہو

(2) فرق باطلہ خصوصاً ہندوؤں کے فرقوں ، ان کی تنظیموں وتحریکات کے عقائد سے پوری طرح واقفیت ہو۔

(3) استحضار نیت کے ساتھ ہمدردانہ انداز میں موقع ومناسبت سے بقدر ضرورت بات کی جائے ۔

(4) گفتگو مدعو کی زبان میں کی جائے اور قوی امید رکھی جائے ۔

(5) نقطہ اشتراک تلاش کرنے کی کوشش کی جائے جیسے انبیاء”یا قوم“ کے لفظ سے ابتداءکرتے ہیں ، اسی طرح داعی کو چاہیے کہ بھائی کا رشتہ نکال کر مدعوکو توحید کی دعوت پیش کرے، آخرت کے حالات سامنے لائے اور اس کا ان کو نفع ونقصان سمجھائے ،پھر رسالت کے عقیدہ کو واضح کرے تاکہ مخاطب قرآنی تعلیمات سے آشنا ہوسکے مثلاً

 

جب کسی ہندو بھائی کے ہاں ملاقات کے لیے جائیں یا کسی سفر میں ساتھ ہوجائے تو ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے چپکے چپکے اپنے رب سے دعا کریں کہ اے مالک اس شخص کی پیشانی کو اپنے سامنے جھکنے کی توفیق دے اور شریعت مصطفوی کے آغوش میں ڈال دے تاکہ یہ جہنم کے اتھاہ سمندر سے نکل کر جنت کے چمن میں اپنا بسیرا کرلے ۔

 

پھر اس شخص کا نام پوچھیں، اس کی مصروفیات کا جائزہ لیں اور اسے گفتگو کرنے کا موقع دیں تاکہ اس کے اندر کے حالات اور اس کے عقائد کا صحیح اندازہ لگ سکے ۔ اس کے بعد اس کی آنکھوں کے ذریعہ آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہوگا یا نفرت کی نگاہوں سے ۔ اس سے اندازہ ہوجائے گا کہ آپ کوکس انداز سے گفتگو کرنی ہے یا ابھی گفتگومؤخر کرنا بہتر ہے

 

اب آپ اس سے کہیں کہ ہم نے آپ سے تعارف اس لیے حاصل کیا ہے کہ آپ اللہ (پرمیشور) کی بنائی ہوئی زندہ تصویر(مورتی) ہیں۔ آپ کو دیکھ کر ہمارا پرمیشور یادآرہا ہے آپ کی اس عمدہ تخلیق کو دیکھ کر ہم اپنے معبود تک پہنچ رہے ہیں، اس اللہ نے اپنی مخلوق کے دکھ سکھ میں شریک رہنے اور اس کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے کا حکم دیا ہے ۔اگر کوئی آپ کو یا اللہ کی بنائی ہوئی کسی صورت کو کوئی تکلیف پہنچاتا ہے تو وہ اللہ (پرمیشور) کوبھی تکلیف (کشٹ) پہنچاتا ہے ۔ یوں سمجھئے کہ اگر کوئی شخص کسی کمہار کے برتن کو اس کے سامنے توڑدے یا اسے کسی گڑھے یا خندق میں پھینک دے تو اس کمہار کو کتنا صدمہ پہنچے گا وللہ المثل الاعلی

 

آپ سے بات کرنے کا میرا ایک ہی مقصد ہے کہ ہمیں جو علم الہی ( ایشوری گیان ) قرآن کے روپ میں ملا ہے اس کی بابت ہم آپ کو بتائیں اور اگر آپ کے پاس کچھ گیان (علم) ہو آپ ہمیں بھی بتاسکتے ہیں تاکہ گیان کا آدان پردان ہوجائے

 

اب اسے کھل کر بات کرنے کا موقع دیں تاکہ آپ کو اندازہ لگ سکے کہ وہ ہندوؤں کے کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے ۔ مورتی کا پجاری ہے ، نرنکاری ہے ، انش واد کا قائل ہے ….

 

جب بات شروع ہوگی تو وہ مختلف قسم کے سوالات بھی کرے گا تاہم آپ سوالات کو مؤخر کرکے اس کا رخ ایکتا یعنی توحید کی طرف موڑ یں اور کہیں کہ ہم سب ایک ہی باپ (پتا) کی اولاد(سنتان) ہیں ، ہم سب کا اللہ صرف ایک ہی ہے اور ہم سب کی آتمائیں بھی ایک ہی جگہ سے آئی ہیں پھر ماں کے پیٹ میں ہم سب بنے ہیں ، اس کے بعد اس دھرتی پر ہم سب رہ رہے ہیں لیکن یہاں کے بعد ایک دوسری دنیا ہوگی جس کا نام آخرت (پرلوک) ہے ۔

 

ہم سب کو مرنے کے بعد وہیں واپس جانا ہے اور ہم سب کے نبی آدم عليه السلام (آدی مانو) سب سے پہلے نبی تھے ، اس کے بعد نوح علیہ السلام آئے جن کو مہاجل پلاون والے منو سے بھی جانا جاتا ہے ۔ جن کی کشتی (ناوکا) پر ہم سوار تھے ۔ ان سب رشتوں سے آپ ہمارے بھائی ہیں۔ اب بھائی کی ذمہ داری ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرے وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرے ۔ اس لیے جو مجھے گیان ہے وہ میں آپ تک پہنچانے کی کوشش کررہاہوں تاکہ آپ بھی اس پر غور کریں

( یہ ہوا پہلا نقطہء اشتراک اور اب توحید کامل پیش کریں)

 

اب آپ کا مخاطب جن چیزوں پر عقیدہ رکھتا ہوگا وہ اس پر اپنا پورا زور صرف کرے گا لیکن آپ اچھے انداز میں رخ موڑتے ہوئے رسالت کی طرف متوجہ کریں اور کہیں :

اللہ (پرمیشور) کی طرف سے جو بھی رسول (سندیشٹا ) آتے وہ ایک ہی مالک کی طرف بلاتے اور کہتے تھے کہ تمہارا مالک وہی ایک اللہ ( پرمیشور) ہے۔ اس لیے تم لوگ صرف اسی کے سامنے سر جھکاو ¿ اور میں صرف اسی کی طرف بھیجا ہوا رسول ( سندیشٹا) ہوں ۔

 

لیکن سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوجاتی ہے کہ اس آنے والے رسول (سندیشٹا) کو ہی سب کچھ سمجھ کر اسی کی پوجا پاٹ میں لگ جاتے ہیں ۔ یہ تو اسی طرح ہوا کہ کوئی اپنے بیٹے کو پوسٹ مین سے خط بھیجے جس میں کچھ ہدایتیں ہوں لیکن اس کا لڑکا اس خط کو نہ پڑھے اور نہ عمل کرے اور صرف پوسٹ مین کی ہی خدمت میں لگ جائے کہ آپ بہت اچھے ہیں آپ ہمارے پتا جی کا خط لائے ۔ اس سے کیا پتا جی خوش ہوں گے ؟ ہرگز نہیں

 

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پوسٹ مین کو چائے پانی کے بعد رخصت کرتا اور اس پر عمل کرتا جو پتا جی کی طرف سے آیا تھا ۔ آج یہی ہورہا ہے کہ ہم تمام دیوی دیوتاؤں کو وہ مرتبہ دیتے ہیں جو اللہ کو دینا چاہیے اور اس مالک کا صرف نام لے لیتے ہیں لیکن اصل پوجا انہیں سندیش واہکوں کی ہونے لگتی ہے ۔   (جاری)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*