غیرمسلموں میں دعوت، وسائل وذرائع اور رکاوٹیں

 محمد خالد اعظمی (کویت)

جناب محمد اقبال ملا سکریٹری شعبہ

دعوت جماعت اسلامی ہند سے ایک

غیر رسمی ملاقات

 

محترم جناب محمد اقبال ملا کا تعلق صوبہ کرناٹک سے ہے، موصوف جماعت اسلامی ہندکی مختلف ذمہ داریوں کو نبھاتے رہے ہیں، آج کل وہ جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری شعبہ دعوت ہیں ۔ جب راقم السطور نے اُن سے مجلہ ”المصباح“ کے لیے دعوت کے موضوع پر گفتگوکرنی چاہی تو فوراً تیار ہوگئے ۔ ہماری اور جناب محمد اقبال ملا کے مابین گفتگوکافی طویل تھی لیکن قارئین کے فائدے کی چیزیں پیشِ خدمت ہیں۔

 دعوت کا مفہوم

دعوت کاعمومی معنی بندگان خدا کوخدا کی کامل بندگی کی دعوت دینا بالخصوص ہمارے معاشرے میں توحید سے محروم انسانوں کو توحید سے واقفیت کراناہے۔اسی ضمن میں رسالت ، آخرت اور انسانی مساوات کی بنیادی تصورات اور ان کے تقاضوں سے روشناس کرانا بھی آتاہے۔جبکہ دوسری جانب دعوت کا سلبی پہلویہ ہے کہ شرک اور انسانی تقسیم، اوتارواد، اورآواگمن کے غلط تصورات اور ان کی خامیوں کو مدلل انداز میں پیش کیاجائے۔

 

دعوت کے وسائل وذرائع

یہ پوچھے جانے پر کہ دعوت کے کاموں میں کن کن وسائل وذرائع کا استعمال ہوناچاہےے‘ جناب ملا صاحب نے فرمایا کہ قدیم اور جدید دونوںطرح کے وسائل کااستعمال ہوناچاہےے انہوں نے قدیم وسائل کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ انفرادی اور وفودکی شکل میں ملاقاتیں کرنا اور غیرمسلموں کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرانا، ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کے اشکالات اورذہن میں پیدا ہونے والے سوالوں کے تشفی بخش جوابات دینا۔ اسکے علاوہ کتابچوں،فولڈرس، ہینڈبل ،سمپوزیم عید ملن افطارپارٹی اور مختلف مناسبات پر ہونے والے خطابِ عام وغیرہ ۔ دوسری جانب جناب ملا صاحب جدید وسائل کے استعمال سے متعلق فرماتے ہیں کہ اس ترقی یافتہ دور میں میڈیا نے کافی عروج حاصل کرلی ہے لہذا دعوتی میدان میں کام کرنے والے اداروںاورافراد کو چاہیے کہ ان وسائل کا پورااستعمال کریں تاکہ بندگان خداتک بسہولت اسلام کی دعوت پہونچائی جاسکے

دعوت کے کام کے لیے الیکٹرونک میڈیا بھی بہت ہی اہم ذریعہ ہے جیسے ٹی۔وی چینل کا استعمال۔

 

دعوت کی راہ میں داخلی وخارجی رکاوٹیں

غیر مسلموںمیں دعوتی کام کے مسائل پرجناب محمد اقبال ملا نے کہا کہ یہاں دو طرح کے مسائل ہیں خارجی اور داخلی خارجی مسائل کا تعلق اسلام،تحریک اسلامی اور مسلمانوں کے خلاف پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیازبردست مخالفانہ پروپگنڈہ کررہی ہے۔

جب کہ ہندوستان کی سات ریاستوں میں تبدلی مذہب مخالف قانون نافذہے ، اس کی وجہ سے لوگ اسلام قبول کرنے اور کروانے میںبھی خوف محسوس کرتے ہیں، لیکن یہ دونوں خارجی رکاوٹیں دعوت دین کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ، لیکن ہماری اصلی اور حقیقی رکاٹیں داخلی ہیںجن کا تذکرہ کیے بغیر چارہ نہیں ۔ ان رکاوٹوں کی وضاحت کرتے ہوئے جناب ملا صاحب نے بتایا کہ :

ہمارے اکثرداعیوں میں اللہ کے بندوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کا جذبہ ابھی تک پیدا نہیں ہواہے ‘جبکہ ہمارے ملک میں اچھے اچھے دعاة موجود ہیں ۔

ئمسلمانوں کا اخلاقی، سماجی ،اور معاشرتی بگاڑ ،جسکے باعث وہ غیرمسلموں میں اسلام کا عملی نمونہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

ئمسلکی تعصب اورمسلمانوں کاآپسی اختلاف بھی ايک اہم رکاوٹ ہے جس نے د عوتی فضا کو مزید خراب کردیا ہے۔

ئسب سے اہم اور بنیادی رکاوٹ داعیوں کامقامی زبان سے ناواقفیت ہے ۔

 

نومسلموں کے مسائل

جب راقم الحروف نے نومسلموں کے مسائل سے متعلق دریافت کیا تو جناب اقبال ملا صاحب نے فرمایا کہ ان کے بہت سارے مسائل ہیں جن میں سے چند یہ ہیں :

اسلامی تعلیم وتربیت ، جس میں کلمہ شہادت سے لے کر وضو، غسل ،نماز ،نماز جمعہ وعیدین ، نماز جنازہ وغیرہ سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ ہے۔

ئقانونی مسئلہ ۔

ءروزگار کا مسئلہ ۔

ئسب سے بنیادی اور سماجی مسئلہ شادی بیاہ کاہے ۔ عمومی صورتحال یہ ہے کہ نومسلم لڑکیوں اور لڑکوں کو مسلم معاشرہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگر نومسلم لڑکا پڑھالکھا اور اچھے منصب پر فائز ہے تومسلم معاشرہ طوعاً وکرھاً اپنی لڑکی اس کو دے دیتے ہیںلیکن نومسلم لڑکیوں کو اپنی بہوبنانے کے لیے کم ہی تیار ہوتے ہیں۔ مہاجرین وانصار جیسی فضا بنانے کے لیے ہمارے مسلم بھائی تیار نہیں۔

ہمارے بعض مسلم بھائیوں کی سوچ یہ ہے کہ اگر غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہونگے تو اس سے ہندوستانی فضا میں کشیدگی پیداہوگی، ایسی فکروخیال رکھنے والے خود ہمارے لیے مسئلہ ہیں۔

مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد نومسلموں کے لیے اسلامی مراکز کی کمی ‘جہاں ان کی صحیح ڈھنگ سے تربیت کی جاسکے:

آپ کوسن کر حیرت ہوگی کی جس ملک میں ایک ارب لوگ بستے ہوں وہاں صرف چھ یا سات اسلامی مراکز ہیں۔ اس سے زیادہ ہماری بے حسی اور کیا ہوگی ، ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اسلامی مراکز کی تعمیر کی جائیں۔

نومسلم مرد وخواتین کے لیے الگ الگ مرکز ہونے چائیے۔

نومسلموں کی تعلیم وتربیت کے لیے قرآن وسنت کی روشنی میں ایک جامع نصاب بنایاجائے ۔

 

دعاة کے نام پیغام

اخیر میں جناب اقبال ملا نے داعیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے دعاةکے لیے انتہائی سازگار ماحول فراہم کررکھا ہے۔ دعوت کے لیے مواقع کی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ مواقع خود بخود فراہم ہورہے ہیں

برادرانِ وطن اسلام کوجاننے اور سمجھنے میں دلچسپی لے رہے ہیں ، وہ اسلام سے نفرت نہیں کرتے بلکہ اسلام کے بارے میںجان کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور شکریہ بھی ادا کرتے ہیں البتہ دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس سنہرے موقع سے کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*