نئی نسل کا اسلام پر اعتماد ملت کا اہم ترین مسئلہ (مولانا محمد الیاس محی الدین ندوی)

 گھروں میں لا دینیت کا مزاج بچوں کے ليے تباہ کن ثابت ہورہاہے

  مجھےاس وقت اپنے بچپن میں جب میری عمر غالباً پندرہ سولہ سال تھی‘ اپنے گھر میں والد صاحب مرحوم کی طرف سے روزانہ منگوائے جانے والے اخبارات میں صفحہ اول پر شائع ہونے والی ایک تصویر رہ رہ کر یاد آرہی ہے، جس میں ہندوستان کے سابق صدر گیانی ذیل سنگھ اپنی عین صدارت کے دوران جس پر وہ ۲۸۹۱ء تا ۷۸۹۱ء فائز تھے ایک دن اپنے مذہبی مرکز گردوارہ ٹیمپل امرتسر پنجاب میں مندر کے باہر دروازہ پر بیٹھ کر کنارے رکھے ہوئے زائرین کے جوتوں کو صاف کر رہے تھے۔

یہ سزا ان کو سکھوں کی مذہبی قیادت کی طرف سے گولڈن ٹیمپل پر فوجی حملہ میںحکومت ہند کے ساتھ شریک ہونے کی وجہ سے دی گئی تھی اور ان کے مذہبی مرکز کے تقدس کی پامالی کا کفارہ ان سے اس صورت میں کرایا جارہا تھا جس کو انہوںنے بسر و چشم اپنے عہدے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے قبول بھی کیا۔

 ابھی کچھ دن پہلے ہماری موجودہ صدر جمہوریہ محترمہ پرتیبھا پاٹل کی ایک تصویر بھی نظر سے گذری جس میں وہ ہمارے ایک مسلم پڑوسی ملک کی خاتون ممبران پارلیمنٹ سے ملاقات کر رہی تھیں، محترمہ سر سے پیر تک ہندو مذہب سے تعلق رکھنے کے باوجود اتنی پردہ پوش تھی کہ فل آستین کی بلاوز میںٹخنوں کے نیچے تک ساڑی میں ایسی ملبوس تھیں کہ پیر کے ناخن تک نظر نہیں آرہے تھے، سوائے ان کے چہرے اور ہتھیلیوں کے ان کا پورا جسم ڈھکا ہوا تھا، ان کی یہ تصویر ہمیں ان کے بیرونی ممالک کے سفر میں بھی نظر آئیں اور خود ہمارے ملک میں یورپی سربراہوں کے استقبال میں بھی، لیکن افسوس کہ دوسری طرف ہماری جن مسلم بہنوں کا وہ استقبال کر رہی تھیں بحیثیت مسلم خواتین شریعت کی ہدایات کے مطابق ان میں سے کسی کا سر ڈھکا ہونا تو دور کی بات اکثروں کی گردنیںاور بعضوں کے سینے بھی ان کی آزادئی فکر کا واضح ثبوت دے رہے تھے۔

تیسرا واقعہ بھی اسی سلسلے کا سنئے ! وہ زیادہ پرانا نہیں 1979سے 1984ء تک ہمارے ملک کے ایک نائب صدر جمہوریہ جسٹس ہدایت اللہ ہوا کرتے تھے جن کی نسبت اتفاق سے اسلام ہی کی طرف تھی، وہ 1969ء میں دو ماہ قائم مقام صدر جمہوریہ بھی رہے، اس کے علاوہ وہ 1968ءسے 1970ء تک ملک کے سب سے بڑے قانونی عہدے یعنی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر بھی فائز رہے، اسلام سے ان کی نفرت ووحشت کے اگر میں ان کی زندگی کے کچھ واقعات بیان کروں تو آپ کہیں گے کہ شاید انہوںنے انتقال سے پہلے اپنے غیر اسلامی کاموںسے توبہ کرلی ہو، اس لئے میں ان کے آخری لمحے کا واقعہ سناتاہوں، انہوںنے مرتے وقت وصیت کی کہ مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کے بجائے ہندووںکی رسم کے مطابق جلا دیا جائے، چنانچہ ان کی وصیت کے مطابق عمل کیا گیا ۔

  مذکورہ بالا واقعات میں موجود تینوں شخصیات کی ان حرکات و سکنات اور افعال و اقوال پر ذرا ٹھنڈے دل سے غور کیجئے، تینوں کا تعلق اگرچہ الگ الگ مذاہب ، ہندوازم، سکھ ازم اور اسلام سے ہے ،لیکن تینوں ہمارے اسی ملک کے باشندے اور یہاں کے سب سے بڑے منصب پر فائز رہ چکے ہیں، ایک طرف اول الذکر دونوں صدور ِہند کا اپنے مذہب پر کس قدر اعتماد ہے ! گیانی ذیل سنگھ ملک کے سب سے بڑے عہدے پر فائز رہنے کے باوجود اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں کہ ان کے متعلق یہ تاثر قائم ہو کہ ان کو سکھ مذہب سے کسی جرم کی پاداش میں خارج کردیا گیا، اپنے مذہب سے اپنی وابستگی کو باقی رکھنے کے لئے وہ حقیر و ذلیل کام کرنے کے لئے بھی تیار ہوئے، چاہے دنیا والوں نے ان کی اس تصویر سے جو کچھ بھی تاثر لیا ہو ۔

 اسی طرح محترمہ پرتیبھا پاٹل عہدہ صدارت پر بر قراری کے لئے‘ لالچ میں کوئی ایسا کام کرنا نہیں چاہتیں جو آج کے ترقی یافتہ دور میں فیشن کے نام سے ایک سفارتی ضرورت ہے اور اس منصب سے میل کھانے والی بات ہے، اپنے سر سے لمحہ بھر کے لئے دو پٹہ ہٹانا یا اپنی ہتھیلی یا پیر کے ٹخنوں تک کی نمائش ان کو قبول نہیں ۔

 دوسری طرف جسٹس ہدایت اللہ ہیں جن کو اپنے مذہب سے جو اس کائنات کا سب سے بر حق ، معقول،منطقی،فطری اور عقلی مذہب ہے اپنی زندگی میں اس کی طرف نسبت پر ان کو نہ صرف عار ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی مسلم قبرستان میں دفن ہوکر اس کی طرف منسوب ہونے پرشرم محسوس کر رہے ہیں ، دوسرے الفاظ میںآپ یوں کہےے کہ اول الذکر دونوں صدور کو اپنے مذہب پر کس قدر اعتماد ہے اور آخرالذکر کو کس قدر عار !!!

اس کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں ؟

 قرآن و حدیث کی روشنی میں جب ہم ان تینوں واقعات کے پسِ پردہ موجود اسباب و محرکات کا سنجید گی سے تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں اس نتیجہ پر پہنچنے میں دیر نہیں لگتی کہ بچپن میں ان دونوں صدور کی مستحکم مذہبی تعلیم نے ان کا اپنے مذاہب پر اعتماد بحال رکھا اور آخر الذکر کو ان کی ابتدائی عمر میںاسلامی و دینی تعلیم دلانے میں ان کے والدین اور سرپرستوں کی کوتاہی نے اس عبرتناک انجام تک پہنچادیا، ان سب کا خلاصہ یوں سامنے آیا کہ حق ہو یا باطل جب تک اس پر محنت نہیں ہوتی وہ اپنا اثر نہیں دکھاتا، باطل مذاہب پر جب محنت ہوئی تو اس کے اثرات ظاہر ہوئے اور حق پر توجہ نہیں دی گئی تو اس کا اثر ظاہر نہیں ہوا، دنیا میں اثرات و نتائج محنتوں پر مرتب ہوتے ہیں ، جن والدین نے اپنے مذاہب پر اپنی اولاد کو باقی رکھنے کی کوششیں کیں اس کے نتائج سامنے آئے اور اسلام کے بر حق ہونے کے باوجود والدین کی طرف سے اس سلسلہ میں بے توجہی برتی گئی تو اس کے منفی اثرات سامنے آئے، آج ہم اپنے ارد گرد معاشرہ پر نظر دوڑائیں تو ہمارے پورے ملک یا صوبے ہی میں نہیں بلکہ ہمارے گاﺅں اور آس پاس کے علاقوں میںایسے سیکڑوں نہیںبلکہ ہزاروں” ہدایت اللہ “نظر آئیںگے جو اگرچہ مرنے کے بعد اپنے آپ کو جلانے کی وصیت تو نہیں کر رہے ہیں لیکن اسلام پر ان کا اعتماد ختم ہوچکا ہے،مومن اورمسلم کہلائے جانے کے باوجود اسلام سے متعلق اپنے تشکیکی افکار و خیالات اور غیر اسلامی نظریات کی وجہ سے چاہے دنیا والوں میں ان کا شمار مسلمانوں میں ہوتا ہو لیکن عند اللہ عملًا وہ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں، دنیا کی ترقیات سے مرغوب ہوکر وہ اسلامی قوانین و احکام میں لچک و نرمی کا مطالبہ کرنے اور اپنے کو سیکولر، ملک کے وفادرا ور ہمدرد ثابت کرنے کے لئے غیر مسلم دانشوروں کے وہ نہ صرف شانہ بشانہ بلکہ بعض اوقات ان سے دو قدم آگے نظر آتے ہیں، عیسائی مشنری اسکولوں میں اپنے بچوں کے زیر تعلیم ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور ان کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ روزانہ ان اسکولوں کی صبح کی اسمبلیوں اور کلاسیز میںان کی زبانوں سے کفریہ اور شرکیہ کلمات ادا ہو رہے ہیں، کلچرل پروگراموں اور تفریح کے نام سے وہ ایسے پروگراموں کا حصہ بنتے ہیں جس میں ناچ گانوں اور نغمات و سرور ہی نہیں بلکہ غیر اسلامی حرکات و سکنات کا ارتکاب کرناپڑتا ہے ، یہ تو خیر غیر اسلامی اور مشنری اسکولوں اور کالجوں کا حال ہے جہاں بڑی تعداد میں خود عیسائیوں سے زیادہ مسلم بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں، خود اپنے مسلم مینجمنٹ اسکولوں کا یہ عالم ہے کہ اس کے ذمہ داروں کا وہاں زیر تعلیم طلباء کو دین پر باقی رکھنے کی فکر کرنا تو دور کی بات ان کو اسلام سے ان کے اسکولو ں کی نسبت پر بھی شرم محسوس ہوتی ہے اور عیسائیوں کی طرح ان کے اسکولوں کے نام بھی ”میری“ اور” سینٹ“ سے شروع ہوتے ہیں تاکہ دور دور تک کسی کو ان کے اسکول کے مسلم اسکول ہونے کا شبہ نہ ہو ، جہاں اپنی ضروریات سے فارغ ہونے کے لےے کھڑے ہوکر استنجاء کرنے کے ”پیشاب پاخانے“ اور مخلوط تعلیم ہے جسے وہ ثقافت اور کلچر کا حصہ سمجھتے ہیں‘ ان سے اپنے اسکولوں میں اسلامی تعلیمات کی گنجائش نکالنے کی امید کیوںکر کی جاسکتی ہے ! ؟

 

 

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*