جنوب ہند میںدعوت وتبلیغ کا ایک شہسوار ڈاکٹر سعید احمدمدنی کے ساتھ ایک ملاقات

محمد خالد اعظمی (کویت )

 

یہ گفتگوایک ایسے شخص سے ہے جس نے زندگی کے اتار وچڑھاؤکا قریب سے مشاہدہ کیاہے ، اس کے باوجودوہ اپنی پرانی روایت سے چمٹاہواہے ،جب میں نے اس کی وجہ جاننی چاہی تواس نے جواب دیا کہ میں انبیائی کام کو پھلتا پھولتادیکھنا چاہتاہوں ، چاہے جیسی بھی قربانی دینی پڑے ،اس کے شاہداپنوں کے علاوہ غیربھی ہیں ، جسے ہم لوگ ڈاکٹرسعید احمد عمری مدنی کے نام سے جانتے ہیں۔موصوف۱۶۹۱ءمیں آندھراپردیش کے ضلع کرشنا کے ایک گاؤں پڈنہ میں پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم مقامی مدرسہ میں حاصل کی ، پھر جنوبی ہندوستان کی مشہوردرسگاہ جامعہ دارالسلام عمرآبادسے فضیلت ، مدراس یونیورسٹی سے افضل العلماء،آندھراپردیش یونیورسٹی سے گریجویشن ، اورمزید حصول تعلیم کی غرض سے سعودی عرب تشریف لے گیے جہاں گریجویشن ، ماسٹر اورڈاکٹریٹ کی ڈگریاں جامعة الامام محمد بن سعودالاسلامیة سے حاصل کیں۔واپسی کے بعد تین سال تک جامعہ دارالسلام عمرآباد میں شعبہ دعوت کے انچارج رہے ، آج کل وہ دعوت وتبلیغ کے میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں جس کے اچھے نتائج ظاہرہوئے اور ہورہے ہیں۔ڈاکٹرسعیداحمدمدنی سے یہ اہم اور طویل گفتگو کویت میں ہوئی ہے ۔

 

سوال : آپ سعودی عرب میں پرسکون زندگی گزار رہے تھے ہرطرح کا آرام تھا، کسی طرح کی کوئی فکر نہیں تھی ، پھر آپ کے اندر دعوتی کام کرنے کا خیال کب اور کیسے پیدا ہوا؟

 

جواب: بچپن میں علمائے کرام ہمارے گھر آیاکرتے تھے جن کے قیام وطعام کا نظم گھر ہی پرہوتاتھا ،اوروہ حضرات مضافات میں دعوت و تبلیغ کافریضہ انجام دیتے تھے ، ان داعیوں کایہ طریقہ کافی متاثرکن تھا ، اسی وقت سے میرے دل میں یہ جذبہ پیدا ہواکہ میں بھی داعی بنوں گا، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے یہ موقع عنایت فرمایا ۔


 

جامعہ دار السلام کی تعطیلات بالخصوص رمضان المبارک میں ہم چند طلباءایک گروپ کی شکل میں ایک ماہ کا پروگرام مرتب کرتے اور اسی حساب سے پورا ماہ گزارتے ، مثلاًپہلے عشرہ میںگھر پر دعوتی کام کرتے، دوسرے عشرہ میںایک ساتھ قرب وجوار کا دعوتی دورہ کرتے، اورآخری عشرہ میں علاقے کی بڑی مساجد میں جاکر تقریریں کرتے اور معتکف بھی ہوتے۔

 

یہ تھا ہماری چھٹیوںکا دعوتی انداز۔ جامعہ سے فراغت کے بعد جمعیت اہلحدیث ہندکا ضلعی ناظم بھی بنایا گیا تھا جس کے تجربات کی وجہ سے دعوتی کام میں مزیدپختگی آئی۔

 

سوال : آپ کس شخصیت سے دعوتی میدان میںزیادہ متاثر ہوئے ؟

 

جواب: اپنے بڑے بھائی مولانا نذیر احمد سے متاثر ہواہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے گھرپر ایک گونگا کام کیا کرتا تھا ،بھائی نے اشاروں ہی اشاروں میں اس کو اسلام کی دعوت دی جس سے وہ گونگا مشرف بہ اسلام ہوا ،اس واقعہ کا میری زندگی میں بہت زیادہ اثرہوا۔

 

سوال : آپ اپنے تجربات کی روشنی میں بتائیں کہ خلیجی ممالک میں کام کرنے والوں کے درمیان دعوت کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے ؟

 

جواب: خلیجی ممالک میں کام کرنے والے خوش نصیب ہیں، اللہ تعالی نے انہیں اتنا سنہری موقع عنایت فرمایاہے ،جہا ں دنیا کے ساتھ دین اوروہ بھی خالص دین سیکھنے کا موقع ملتاہے ، جس کی ہمارے ممالک میں کمی پائی جاتی ہے ، جب یہ افراد چھٹیوں میں اپنے وطن جائیں تو پہلے سے ہی چھٹیوں کا پروگرام مرتب کرلیںاو ر دعوتی کام کو سرفہرست رکھیں مثلاً:اپنے پرانے غیرمسلم دوستوںسے ملاقاتیں کرنا اورانہیں اسلام سے متعارف کراناوغیرہ ۔ خلیجی ممالک میں مقیم برادران وطن سے مستقل روابط رکھیں اور ان کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہوں ۔یہ چیز دعوتی کام میں بہت زیادہ ممدومعاون ثابت ہوتی ہے ¾ ساتھ ہی اپنے وطن عزیزاورقرب وجوارمیں رہنے والوں کا تعاون کریں جیسے داعیوں ، اساتذہ اور ائمہ ومؤذنین کی کفالت وغیرہ۔ یہ ہمارا اخلاقی اور بنیادی فریضہ ہے۔

 

سوال : بیرون ممالک بالخصوص خلیجی ممالک میں اسلام قبول کرنے والوں کے بہت سارے مسائل ہیں ان کو کیسے حل کریں ؟

 

جواب: بیرون ملک جوشخص بھی کلمہ پڑھے ،اس سے ہمارا تعلق مستقل رہنے کے ساتھ اس کی تربیت صحیح نہج پر کریں ، پھر جب وہ اپنے وطن جائے تووہاںبھی اس کی دیکھ ریکھ کا نظم منظم انداز میں ہو، جس سے وہ اسلام پر مضبوطی سے قائم رہے اور اچھا داعی بن سکے۔ ایسادیکھنے میں آتاہے کہ خلیجی ممالک میںبہت سارے غیر مسلم اسلام قبول کرتے ہیں لیکن جب وہ اپنے وطن واپس جاتے ہیں تو اپنے پرانے مذہب پر لوٹ جاتے ہیں ،اس میں کوتاہی ہماری ہے جس کا ہمیں اللہ تعالی کے پاس جواب دینا ہوگا ۔

 

سوال : آپ نے ڈاکٹریٹ کرکے گاؤں میں دعوتی کام کرنے کا پروگرام کیسے بنایا جب کہ زیادہ تر لوگ دیہاتوں سے شہروں کا رخ کرتے ہیں؟

 

جواب: مجھ کو گاؤں پسند ہے اور اس ماحول میں رہ کردعوتی کام کرنامیں اپنے لیے خوش نصیبی سمجھتا ہوں ،اگر سارے دعاة گاؤں چھوڑدیں تو پھر گاؤں میں دعوت کاکام کون کرے گا؟۔

 

آج کل بیشترلوگ گاؤں چھوڑکر شہروں کوترجیح دے رہے ہےں بالخصوص علماءکرام ¾ مدارس سے فراغت کے بعد گاؤں چھوڑدیتے ہیں اورروزگار کی تلاش میں خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں، اب کوئی بھی عالم یا داعی گاؤں میں رہنا پسند نہیں کرتا،کیونکہ گاؤں کی زندگی دشواریوں سے گھری ہوئی ہے ،جہاں رہنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ۔

 

یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ گاؤں میںدعوتی کام کے نتائج کافی اچھے ہیں، ہم چند لوگ دوران سفر ایک ایسے گاؤں میں پہونچے جہاں مسجد نہیںتھی ، ہم لوگوں کی کوششوں سے وہاں ایک مسجد تعمیرہوئی ،حسن اتفاق اس گاؤں کے ایک ستر سالہ ریٹائرڈمسلم اسکول ٹیچر سے ملاقات ہوئی ، جس کا کہنا تھا کہ اس مسجد کی تعمیر سے قبل نہ ہم نے اذان کی آواز سنی اور نہ ہی نماز پڑھی تھی اورنہ ہی اسلام کے متعلق کچھ معلوم تھا ؟ہمیں صرف اتنا معلوم تھا کہ مسلمان وہ ہے جس کا ختنہ ہوگیاہو یا مرنے کے بعد دفنا دیا گیاہو ، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے ۔

 

الحمدللہ ہندوستان میں ان دنوںدعوتی کوششیں جاری ہیں، اورکام اچھا ہورہاہے تاہم کام میں مزید سرگرمی لانے کی ضرورت ہے۔

 

سوال : مدارس کے طلباءمیںدعوتی شعور پیدا کرنے کے کیا طریقے ہوسکتے ہیں؟

 

جواب: جب مدینہ منورہ سے ہندوستان واپس آیا تو جامعہ دارالسلام عمرآبادمیں تین سال بحیثیت مدیر قسم الدعوة رہا ، ا س دوران جامعہ کے تمام شعبوں میں دعوتی موضوعات پر لیکچر دیتا ، یہاں تک کہ کمپیوٹر شعبہ میں بھی۔

 

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ طلباءکا ذہن دعوتی بنے اور فراغت کے بعد جب وہ لڑکے میدان عمل میںاتریں تو وہ داعیانہ کردار اداکرسکیں۔

 

سوال: ہندوستان میں داعیوں کی ٹریننگ کے لیے کیا کوئی سنٹربھی ہے ؟

 

جواب: جامعہ دارالسلام اپنے منہج اور طرز تعلیم کے معاملہ میں منفردہے، اس ادارہ سے تقریباً۰۵۱ تربیت یافتہ دعاة ٹریننگ حاصل کرکے دعوت کا کام کررہے ہیں اور یہ ملک کے مختلف علاقوں کے مدارس کے علمائے کرام سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان علمائے کرام کامزاج دعوتی بھی بناتے ہیں ، یہ طریقہ کافی مفید ثابت ہوا ہے ، اس کے علاوہ کچھ دعاة کو چند عنوانات پر ٹرینڈکرکے مضافات کی مساجد میں بھیجاجاتاہے جہاں وہ تقریریں کرتے ہیں اورسامعین ان داعیوں کی تقریروںسے متاثر ہوکر دعوتی کام کے لیے آگے آرہے ہیں۔جامعہ میںایسے نوجوانوں کے لیے دعوتی ٹریننگ کانظم ہے،ٹریننگ کے بعد یہی تربیت یافتہ نوجوان اپنے اپنے علاقوں میںبرادران وطن کے درمیان کام کررہے ہیں اوراس کے اچھے نتائج ظاہرہورہے ہیں،اور بعض ایسے دعاة بھی ہیں جو صرف غیر مسلموں میں کام کرتے ہیں، جامعہ میں ایک شعبہ نومسلم بھائیوں کی تعلیم وتربیت کابھی ہے ۔

 

نومسلم برادران کے لیے تربیتی سنٹر ز زیادہ سے زیادہ کھولنے کی ضرورت ہے ۔ یہ سنٹر ز جتنے زیادہ ہونگے اتنا ہی ہمارے لیے سودمند ہوگا۔

 

سوال : دعوتی کام میں مناظرے کس قدر مفید ہوسکتے ہیں؟

 

جواب: داعیوں کومناظروں سے کوسوںدوررہنا چاہیے ،اس کے بجائے دعاة انفرادی اوراجتماعی ملاقاتوں کا اہتمام کریں، رفاہی کاموں کو عام کریں،جس سے لوگ قریب آئیں گے ،حقیقت تو یہ ہے کہ اب مناظروں کا دورختم ہوگیا۔

 

سوال : آپ اپنے تجربات کی روشنی میں بتائیں کہ دعوتی کام میں مختلف طبقہ کے لوگوں سے تعاون کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے ؟

 

جواب: اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو لائیں جن میں تھوڑا بہت دعوتی کام کرنے کا جذبہ ہو ،اِس کے علاوہ جو لوگ عملی طور پر ساتھ نہیںآ سکتے لیکن دعوتی میدان میںتعاون کرنے کے خواہش مند ہیں اور ایسے لوگ مادی حیثیت سے تعاون کرسکتے ہوں تو اس طرح کے لوگوں کا تعاون حاصل کرناہمارے لیے مفید اورسودمندہوگا ۔کوشش کرنی چاہیے کہ ایسے لوگ ہمارے قریب آئیں۔

 

ہماری کوشش ہے کہ اہل خیر اورعلماءایک ساتھ بیٹھیں تاکہ ایک دوسرے کے خیالات سے واقف ہوسکیں،اور زیادہ سے زیادہ تربیتی ودعوتی کورسیز چلائے جائیں،چھوٹے چھوٹے تربیتی کیمپس لگائے جائیں چاہے یہ کیمپس ایک یا دودن کے ہی کیوں نہ ہوں، اس سے لوگوں کے اندر دعوتی شعور پیدا ہوتا ہے ۔

 

سوال:کیا دعوتی کام کے لیے مستقل فارغ ہونے کی ضرورت ہے ؟

 

جواب: دعوت کے کام کے لیے خاص وقت نکالناضروری نہیں بلکہ چلتے پھرتے دعوتی کام کیاجاسکتاہے۔

 

ایک دفعہ کاواقعہ ہے ،میںبس میں سفر کررہا تھا، ڈرائیورنے گا نا زورزور سے بجانا شروع کردیا، میں نے اس سے کہا کہ میں تم کو اس سے بھی اچھی چیز سنا سکتاہوں ، وہ کہنے لگا :کیا چیز ہے؟ میں نے کہا :پہلے گانا بجانا بند کرو، اس کے بعد سنا ¶ں گا، اس نے گا نابجانا بندکردیا ۔ تب میں نے اپنے بچے کو کہا: ﴾عم یتسائلون ﴿کی تلاوت کرے ، اس نے تلاوت شروع کردی،تلاوت سن کروہ مدہوش ہوگیا ، اور کہنے لگا کہ اتنی مسحور کن آواز تو میںنے سنی ہی نہیں تھی، اس کے اندر کیا کہاگیاہے بتائیے تو ذرا …. اس کے بعد میں نے اس آیت کی تفسیر کردی، میری بات سن کر وہ اتنا متاثر ہوا کہ کہنے لگا کہ اتنی اچھی بات تو مجھے آج تک کسی نے نہیں بتائی تھی، ہمارے ہندو پنڈت ہندو مذہب کے بارے میں جوقصے کہانیاں بتاتے ہیں وہ جھوٹ او ردجل پر مبنی ہےں، حقیقت تو یہی ہے کہ سب کا خالق ایک ہے اور وہی ہماری عبادتوں کا مستحق ہے ۔

 

سوال : داعیوں کے لیے کچھ توشہ ؟

 

جواب:۹داعی کو سب سے زیادہ علم کی ضرورت ہے ، اس کے ساتھ ساتھ بصیرت کی بھی اہمیت ہے اور داعی جس نقطہ کی طرف مدعو کو بلارہا ہے اس کی معرفت سے پورے طورپر آگاہی کے ساتھ قرآن وحدیث ، عقیدہ وفقہ کی پوری معلومات ہونی چاہیے

 

داعی جب میدان عمل میں آئے تو اسے چاہیے کہ وہ دعوتی موضوعات سے پوری طرح باخبرہو جیسے فن دعوت اس کے تحت تاریخ دعوت، دعاة کی سیرت، دوسرے مذاہب کی معلوما ت اور بالخصوص سیرت نبوی کی معلومات ۔

 

اس کے ساتھ ساتھ داعیوں میں چند بنیادی صفات ضرور ہونی چاہیے مثلاً نرم مزاجی ، بلند اخلاقی،دوسروںکے لیے اپنے آپ کو نچھاور کردینے والا ، مدعو کو معاف اور درگزر کرنے والا ،لوگوں سے مشورے کرکے کام کرنے والا اور سب سے بڑی بات راتوں کو اٹھ کر اللہ کے حضور دعائیں کرنے اورگڑگڑانے والا اور دن میں دعوت کا کام کرنے والاہو۔

 

خلاصہ یہ کہہ لیں کہ داعی کے اندرتین چیزوں کا پایا جانا ناگزیرہے ،پہلی چیز: ایمان عمیق یعنی ایمان میں پختگی، اسلام کی تعلیمات پر جتنا مضبوط اور پختہ یقین ہوگا اسی کے حساب سے دعوتی جذبہ میں اضافہ بھی ہوگا۔ دوسری چیز: فہم دقیق : یعنی حق اور حق کے جزئیات کا پورا علم۔ تیسری چیز اتصال وثیق یعنی تعلق باللہ، داعی اگر اتصال وثیق تک ہونچ جائے تو اس کو دعوتی میدان میں لطف اور مزہ آئے گا۔

 

۹داعی کبھی بھی مدعو کو حقیر نہ سمجھے کیونکہ قرآن واحادیث میں سب کی اپنی اہمیت ہے اور نبی اکرم ا نے اپنے مدعویین کے ساتھ اچھا معاملہ کیا ہے چاہے حبشہ کے غلام بلال حبشی ہوں یا یمن اوردوسرے ممالک کے بادشاہ ۔

 

۹داعیوں کے کرنے کے تین بنیادی کام ہیں :

 

پہلاکام: علم کو عام کرناتا کہ جہالت ختم ہوجائے ۔

 

دوسراکام: معروف کو پھیلاناتا کہ منکر ختم ہوجائے

 

تیسرا کام: اسلام کو اتنا عام کرناجس سے کفر وشرک کا خاتمہ ہوجائے ۔

 

سوال : کیا داعی کوئی خاص شخص ہوگا؟ اور دعوت کا حکم کیا ہے؟

 

جواب: داعی ہر شخص ہو سکتا ہے اور دعوت فرض عین ہے ، اپنی استطاعت کے مطابق پوری امت دعوت میں لگ جائے۔

 

سوال : ڈاکٹرصاحب ! دعوت کا موضوع کیا ہونا چاہیے ؟

 

جواب: دعوت کا موضوع اسلام ، توحید ،ر سالت اور عمل صالح (نماز، روزہ ، حج وغیرہ)ہے ۔

 

سوال : دعاة کے لیے دعوتی اسلوب کیا ہوسکتا ہے ؟

 

جواب: قرآ ن کریم میں ایک ہی جگہ تین بنیادی دعوتی اسلوب کاتذکرہ کیا گیاہے، جس میں سے ایک حکمت دوسرا موعظہ حسنہ اور تیسرا مجادلہ ہے جوبحالت ضرورت استعمال کیاجاتاہے ، حکمت اور موعظت حسنہ کے ذریعہ ہرشخص کو دعوت دی جا سکتی ہے ۔لیکن آج داعی کوجس چیزکی سخت ضرورت ہے وہ صحیح ریفرنس کا حصول ہے اوریہ قرآن وحدیث اورسیرت نبوی ہی کے ذریعہ مل سکتاہے، جب تک داعی ان ریفرنس کو دعوت کے لیے استعمال نہیں کرے گا اس وقت تک وہ بھٹکتارہے گا ۔

 

محترم ڈاکٹر سعید احمدمدنی کے ساتھ یہ مجلس بے حدخوشگوار رہی اللہ تعالی ہم سب کو دین کا داعی بنائے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*