لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

 

صفات عالم محمد زبير تيمي

 

یہ جنوری 2010ءکا شمارہ ہے ،اس کاپہلا شمارہ نومبر 2008میں منظرعام پر آیا تھا، اس طرح اب تک ہم15شمارے آپ تک پہنچا چکے ہیں ، اس رسالے کا اجراءمحض اس لیے عمل میں آیاتھا تاکہ کویت کی سرزمین پر تارکین وطن کو دینی غذا فراہم کی جا سکے ۔ مختلف دعوتی ،تربیتی اور اصلاحی موضوعات کے ذریعہ ان کے دینی ذوق کوپروان چڑھایاجا سکے ۔چنانچہ اجراءکی تجویز عمل میں آنے کے بعدیہ فیصلہ ہوا کہ یہ رسالہ بیس صفحات پر مشتمل ہوگا، دس ہزار کی تعداد میں چھپے گا ،اوراسکی مفت تقسیم عمل میں آئے گی۔چونکہ دیارغیرمیںدینی مجلے کا اجراءاردو داں حلقے کے لیے نیک فال کی حیثیت رکھتا تھا، اسی لیے اس وقت ہم نے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کیا حالانکہ ہمارایہ کام ipc کی دعوتی ذمہ داریوں کے سامنے ثانوی حیثیت رکھتا تھا ، مزیدیہ کہ ہمارے پاس مستقل اردو شعبہ بھی نہیںتھا،اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ساراکام مسلم کمیونٹی کے تعاون سے انجام دینا ہے ۔

 

اب مسئلہ یہ تھا کہ مجلے کی تیاری سے لے کر قارئین تک اُسے پہنچانے میں بے شمارافرادکی ضرورت تھی ، اس کاصحیح اندازہ اسی کو ہوسکتا ہے جس نے عملی طور پراِسے برتاہو، لیکن جب احباب کو اطلاع ہوئی توسب نے اس عمل کی ستائش کی،اور ہرطرح کے تعاون کا وعدہ دیا۔پہلے شمارہ کے منظرعام پر آتے ہی ہمیں اندازہ ہوگیا کہ ہمارے پاس مخلص احباب کی خاصی تعدادموجود ہے جو بے لوث خدمات انجام دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ قارئین کی طرف سے بھی حوصلہ افزائی کے کلمات، دعاؤں اور تحسین پرمبنی خطوط موصول ہوئے جس سے ہمت کو مہمیزلگا۔

 

مادیت کے اس دور میں جہاں ہر چیز کی پیمائش مادی پیمانے سے ہوتی ہے ہمیں ایسے مخلص احباب ملے جنہوں نے ہر قدم پر اپنا تعاون پیش کیا اور ان شاءاللہ آئندہ بھی پیش کرتے رہیں گے ، ان کے لیے شکریہ کے رسمی الفاظ کافی نہیں تاہم پیارے نبی اکا فرمان ہے ”جو لوگوںکاشکریہ ادانہیں کرسکتا وہ اللہ کا بھی شکرگزارنہیں بن سکتا “ اس لیے آج ہم اپنے ان سارے محسنین ،معاونین ،اور کرم فرماؤں کو تجلیات کے اس کالم میں یا دکرنا چاہیںگے جنہوں نے مجلہ کے تئیں کسی طرح کی قربانی پیش کی ہے۔ پاکستانی کمیونٹی میں اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کے احباب بے لوث قربانی پیش کرتے ہیں،تو ہندوستانی کمیونٹی میں ائی ایم اے اور اس کے نوجوانوں کی شاخ یوتھ وینگ اسی طرح کڑپہ اسلامی سوسائٹی کے احباب کا تعاون ہر قدم پر ساتھ رہتاہے ۔کسی مادی فائدہ کے بغیردس ہزار افراد تک رسالے کو پہنچانے کا جنون اسی کو سوار ہوسکتا ہے جس نے اپنی زندگی کا مقصد دین الہی کی سرفرازی بنا لی ہو۔ اس مدت میں ہم نے اپنے احباب کو پایا کہ بار بار فون کرکے تازہ شمارے کی آمد کی خبر لےتے ہیں ، اپنے کندھوں پر کارٹون لاد کر ہمارے قارئین تک پہنچاتے ہیں،حالانکہ ان کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں، کاموں کا ہجوم ہوتا ہے ، ڈیوٹی کے تقاضے ہوتے ہیں ۔ اظہار نعمت کے طور پر ہمیں کہنے دیا جائے کہ ہمیں جو معاونین اور احباب ملے ہیںخواہ وہ ipc میں ہوں یا ipc سے باہر ہوں وہ سب نہایت خلیق ، ملنسار ، ایثار وقربانی کے پیکر ،تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے ہیں۔

 

هم ا پنے قابل احترام اہل قلم کے بھی بےحدسپاس گزارہیںجو اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجوداپنی نگارشات ہمیں نوازتے رہتے ہیں،ہم اپنی ادارتی کمیٹی کی طرف سے ان سب کو ایک بار پھر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،اور رب ذوالجلال سے دعا گوہیںکہ بارالہا ! تو ان کی قربانیوں کا بہترین بدلہ عطا فرما،ان کی آل واولاد کی حفاظت فرما، اور انہیں خوش اور شادآباد رکھ ۔ آمین .

 

عزیز قاری ! اس تحریر سے ہمارامقصود آپ تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ مادیت کے اس دور میں بھی ہماری قوم بیدار ہے ، دین کی بے لوث خدمت کا جذبہ رکھتی ہے، دین کے لیے ہرطرح کی قربانی پیش کرسکتی ہے۔ ہرکلمہ گو مسلمان کو ایسا ہی ہونا چاہیے ، مسلمان ہونا ایک حرکت ہے ، ایک تحریک ہے ،ایک جوش اورولولہ ہے ۔ آسان پسندی ، عیش کوشی اور بے مقصدیت مسلمان کا شیوہ نہیں ،ہمیں آپ سب کے مفید مشوروں کی ضرورت ہے ، آپ کے قلمی تعاون کی ضرورت ہے ، اور ایسے افراد کی بھی ضرورت ہے جو کویت کے ہرگوشہ میں یہ رسالہ اردو کے شائقین تک پہنچا سکیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*