سراجا منيرا

ثمینہ ضیاء (کویت)

 میرے رسول کی زندگی میرے لیے سراجا منیرًا کی طرح ہے….روشن چراغ…. چمکتا ہوا چاند ….یا پھر سورج کی طرح چار سو روشنی پھیلاتا ہوا….چراغ کو جو بھی نام دے لیں اس کا کام ہے روشنی پھیلانا۔ میں اپنی زندگی کو ہر رخ سے ٹٹولتی ہوں، ہر پہلو سے دیکھتی ہوں۔ انفرادی و اجتماعی معاملہ ہو، مشکل چھوٹی ہو یا بڑی….رہنمائی صرف اور صرف آپ صلى الله عليه وسلم کی زندگی اور آپکے اسوہ سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ میں اپنے پیارے رسول کی زندگی کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں کھانا پینا، رہائش، اولاد، رزق کی تلاش، سبھی مصروفیات نظر آتی ہیں۔

 

میں ان مصروفیات کے اندر اپنے عمل کی دنیا تلاش کرتی ہوں تو ایک چیز مجھے آپ صلى الله عليه وسلم کی 23سالہ زندگی میں ہمہ وقت نظر آتی ہے اور وہ ہے آپ صلى الله عليه وسلم کا دعوتی کرداریعنی ہمہ وقت دعوت….اس میں کوئی وقفہ نہیں ہے….چھٹی کا دن نہیں ہے۔ مسلسل محنت! کوئی آرام نہیں ہے، راہ میں کوئی مشکل راستہ روک نہیں سکی۔ کفرستان کو دار الاسلام بنا دیا۔ خاندان، برادری، معاشی حالات کا سامنا تھا مگر کسی میں بھی اپنا دامن نہیں الجھایا۔ کوئی لمبا وقفہ دعوت کی راہ میں حائل نہیں ہوا۔ کھانا پینا، سونا جاگنا، چلنا پھرنا، فجر قبل فجر سب کام دعوة کے tools کے لیے استعمال کیا۔ زندگی کا مشن بنا کر اسکو بہت ضروری کام سمجھ کر کیا۔

 

ہمہ وقت کی فکر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کو اس کام سے کتنی محبت تھی، کتنی لگن تھی ،کتنی فکر تھی….میں بھی اس طرح تڑپنا چاہتی ہوں۔ میں آپ صلى الله عليه وسلم کی سیرت کے اس گلدستے کو چننا چاہتی ہوں! میں وہ کام جو میرے نبی ا نے کیا تھا یعنی دعوت الی اللہ کا کام …. تربیت و تزکیہ کا کام…. میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو نمونہ بناتے ہوئے دعوت الی اللہ کے کام کو اپنے لیے چنتی ہوں کہ مجھے آپ صلى الله عليه وسلم سے محبت ہے اور یہ کام میری زندگی کا بھی معیار اور تڑپ بن جائے تو میں اپنے عمل اور دعوت کے کام کے درمیان فاصلہ ناپ کر رہ جاتی ہوں۔

 

آج احساس جاگا کہ نیا ماحول، نئی جگہ، نئی زبان میں یہ کام مجھے مشکل کیوں لگ رہا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بھی تو مدینہ اسٹیٹ میں، نئے ماحول میں دعوتی کام شروع کیا تھا۔ جب آپکی سیرت پر نظر ڈالی تو اپنے سارے اوہام اچانک اڑتے نظر آئے۔ اپنے عمل کے بوجھ کو دیکھتی ہوں اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی کٹھن زندگی کو تو ایک بات صاف نظر آتی ہے کہ زندگی کا کوئی لمحہ ضایع کئے بغیر مشن سے جڑ جانا میرے نبی صلى الله عليه وسلم کا اسوہ ہے۔ اللہ کرے کہ یہی میری زندگی کا بھی اسوہ بن جائے۔ جب دعوت کا کام کرنے کے لیے میری زبان لڑکھڑاتی ہے تو پھر حضرت موسیٰ عليه السلام کی دعا میری تمنا بن جاتی ہے۔ اور جب محمد صلى الله عليه وسلم کا جبرئیل عليه السلام کے حکم ’اقرائ‘ کے جواب میں یہ کہنا یاد آتا ہے کہ ’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘، پھر یوں ہی جب کبھی دل اداس ہوتا ہے اور اپنے دعوتی کاموں کی رفتار یا پھر دعوتی مزاج کی کمی دیکھتی ہوں تو وہ تڑپ اپنے اندر نہیں پاتی جو میرے رسول ا کے اندر تھی جسکے بارے میں قرآن نے گواہی دی لعلّکَ باخِع نفسکَ الا یکونو مومنینَ (الشعراء3) یہ گواہی قرآن کی میرے رسول صلى الله عليه وسلم کے بارے میں تھی تو احساسِ ندامت سے میرے آنسو گر پڑتے ہیں کہ کیا میرے بارے میں بھی کوئی یہ گواہی دے سکتا ہے؟ ؟؟

 

 میرے محسن، میرے مربی، میرے آقاا….دن ہو یا رات، آپ کا اسوہ میرے لیے مشعلِ راہ ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ صحابہ کرام رضوان الله عليهم اجمعين رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہتے تھے ۔ مجھے سعد بن معاذ رضى الله عنه  بہت یاد آئے تو میرا دل چاہا کہ کاش میں بھی اپنا سب کچھ اسی طرح قربان کرنے کا عزم کر لوں غزوہ بدر میں انصار کی طرف سے سعد بن معاذ رضى الله عنه نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے اپنی وفاداری و حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہاتھا:

 

”آپ جہاں چاہیں تشریف لے جائےں، جس سے چاہیں تعلق استوار کر لیں، جسے چاہیں کاٹ دیں، ہمارے مال میں سے جو چاہیں لے لیں اور جو چاہیں دے دیں۔ جو آپ لیں گے وہ ہمارے نزدیک اس مال سے زیادہ بہتر ہوگا جو آپ چھوڑیں گے۔ اور جو بھی آپ فیصلہ کریں گے، ہمارا فیصلہ ہر حال میں اسکے تابع ہوگا، خدا کی قسم ! اگر آپ پیش قدمی کرتے ہوئے برک غماد تک جائیں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے اور اگر آپ ہمیں لے کر اس سمندر میں بھی کودنا چاہیں گے تو ہم اس میں بھی کود جائیں گے“۔‘

 

میں سوچتی ہوں کہ یہ الفاظ سنکر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کس قدر خوش ہوئے ہوں گے۔ آپ ا کے دل کو کس قدر اطمینان ہوا ہوگا۔ کیا میں بھی یہ سب کچھ کہنے کو تیار ہوں؟

 

کیا میری زندگی دعوت کا بوجھ اٹھانے کو تیار ہے؟ ندامت کے احساس کے ساتھ آنسو بے وقعت، بے قیمت آنسو ڈھلک گئے!! سعد بن معاذ رضى الله عنه کے ان الفاظ نے نبی ا کی کسقدر ہمت بڑھائی ہوگی جبھی جانگسل معرکے میں قدم رکھنا آپ کے لیے کتنا آسان ہو گیاہوگا!

 

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنے ساتھیوں سے اسلامی تحریک کو اٹھانے کا حلف لیتے تھے۔ یہ وہ ساتھی تھے جنھیں دعوت کے میدان میں آپ ا کے ساتھ چلنا تھا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  اپنے ساتھیوں سے جو حلف لیتے تھے اس کے نکات یہ ہیں:

 

۱۔ سستی و چستی ہر حال میں اللہ کی بات سنیں گے اور مانیں گے۔

 

۲۔ تنگی اور خوشحالی ہر حال میں خرچ کریں گے۔

 

۳۔ بھلائی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔

 

۴۔ اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے سے نہیں ڈریں گے۔

 

۵۔ ہر حال میں سمع و طاعت کاثبوت دیںگے۔

 

۶۔ جان و مال سے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کی حفاظت کریں گے۔

 

یہ تھے وہ الفاظ جنہیں بول کر صحابہ کرام رضوان الله عليهم اجمعين اسلامی تحریک کا بوجھ اپنے کاندھوں پراٹھاتے تھے….یہ وعدہ تھا ہی انقلاب کا اعلان…. میں اور میرے ساتھی اس وعدہ کے مقابلے میں کتناہلکا بوجھ اٹھاتے ہیں اور پھر نبھاتے بھی کم ہیں

 

کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ میں نے خوب صلہ دیا

 

جو میرے غم میں گھلا کیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا

 

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی زندگی کا مشن میری بھی زندگی کا مشن بن سکتا ہے۔ سیرت کے اسوہ حسنہ کے دعوتی پہلو میں بھی اپنی زندگی کا مشن بنا سکتی ہوں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی دعوت کا سارا دارومدار آپکی سیرت کی پاکیزگی اور آپکی دعوت کی صداقت پر تھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے کبھی کسی پر دھونس نہیں جمائی، کبھی رعونت نہیں دکھائی، کبھی بھی انسانیت کی تحقیر نہیں کی۔ آپ صلى الله عليه وسلم لوگوں کے درمیان ہمہ وقت موجود تھے۔ یہی وجہ تھی کہ دشمنوں کے دل مسخر ہوتے چلے گئے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سینے میں انسانیت سے بھری محبت تھی کہ بغیرکاغذ قلم کے اتنا بڑا انقلاب 23 سال میں برپا ہو گیا۔

 

محسنِ انسانیت صلى الله عليه وسلم کا یہ مقدس انقلاب جسکے پاسبان ہم بنائے گئے ہیں۔ اسوہ حسنہ پر عمل کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں…. اس مایوسی میں…. نبی پاک صلى الله عليه وسلم کی دعا مردہ زمین میں زندگی بخشتی ہے…. میں بھی محسنِ اعظما کی دعا کی مستحق بن سکتی ہوں۔ یہ دعا میرے حق میں بھی پوری ہو سکتی ہے، اگر میں نے دعوت الی اللہ کا کام آپ صلى الله عليه وسلم کے مطابق ٹھیک ٹھیک کیا۔ میں اپنے حبیب کی زندگی سے دعوت الی اللہ کے کام کا عزم کرتی ہوں اور رب ذوالجلال سے دعا کرتی ہوں کہ مجھے اس کی توفیق بخشے۔آمین

 

میرے رہنما تیرا شکریہ کروں کس زبان سے بھلا ادا

میری زندگی کے اندھیرے شب میں چراغِ فکر جلا د

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*