استفادے سے محروم لوگ

دکتورمحمد عبدالرحمن العَریفی

 

مجھے بخوبی یاد ہے کہ ایک دفعہ مجھے موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہوا جو مختصر سے سوال پر مشتمل تھا ”یا شیخ ! خودکشی کے متعلق شرعی حکم کیا ہے ؟ “

میں نے موبائل پر سائل سے رابطہ کیا۔ دوسری طرف سے ایک نوجوان کی آواز آئی جس نے اپنی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھاہی تھا۔

میں نے کہا: ”معاف کرنا آپ کا سوال مجھے سمجھ میں نہیں آیا ، ذرا دہرادیجئے ۔“ اس نے زندگی سے بیزار لہجے میں جواب دیا : ”شیخ ! سوال تو بڑا ہی واضح ہے کہ خودکشی کے متعلق شرعی حکم کیا ہے ؟“ میں نے چاہا کہ اسے ایسا جواب دوں جس کی اسے توقع ہی نہ ہو ۔

میں ہنسا اور بولا : ” مستحب(پسندیدہ) ہے ۔“

”کیا ؟“ وہ چلایا ۔

میں نے پوچھا :” کیا ہم یہ طے کرنے میں آپ کا ہاتھ بٹائیں کہ آپ کو خودکشی کے لیے کون سا طریقہ استعمال کرناچاہیے ؟“

نوجوان چپ رہا ۔ اس پر میں نے کہا: ”اچھا!یہ تو بتائیں کہ آپ کیوں خودکشی کرنا چاہتے ہیں ؟“

وہ بولا: ”کیوں کہ مجھے کوئی ملازمت نہیں ملتی ،لوگ مجھے پسند نہیں کرتے ،دراصل میں ایک ناکام انسان ہوں۔“

پھر اس نے مجھے تفصیل سے اپنے حالات بتائے ۔ وہ اپنے آپ میں بہتر تبدیلی لانے اور اپنی دستیاب صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا تھا ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر افراد کو یہ مسئلہ درپیش ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آخر انسان اپنے آپ کو اس قدر گھٹیا کیوں تصور کرلیتا ہے ؟ وہ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے لوگوں کو ہی کیوں تاکتا رہتا ہے ؟ ان کی طرح وہ بھی پہاڑ کی بلندیوں پر کیوں نہیں پہنچ جاتا ؟ یا کم ازکم لوگوں کی دیکھا دیکھی وہ پہاڑ پر چڑھنا ہی شروع کردے ۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

 

وَمَن یَتَھَیَّب صُعُودَ الجِبَالِ

یَعِش اَبَدَالدَّھرِ بَینَ الحُفَر

”جوکوہ پیمائی سے گھبراتا رہتا ہے وہ ہمیشہ گڑھوں میں زندگی بسرکرتا ہے ۔“

کیا آپ جانتے ہیں کہ کون آدمی اس کتاب سے یا اِن اصولوں پر لکھی گئی کسی بھی کتاب سے کبھی بھی استفادہ نہیں کرسکتا ؟

وہ بے چارہ انسان جس نے اپنی بُری عادتوں کے رُوبرو سرتسلیم خم کردیا ہے ، جو اپنی موجود صلاحیتوں پر قناعت کرکے بیٹھ گیا اور کہتا ہے کہ میں کیا کروں ۔ یہ میرے مزاج کا حصہ ہے ۔اللہ نے مجھے ایسا ہی بنایا ہے ۔میں اس کا عادی ہوچکا ہوں ۔میںاپنا طریقِ کار تبدیل نہیں کرسکتا ۔ لوگ میرے اس مزاج کے عادی ہوچکے ہیں ۔ اگر آپ کہیں کہ میں خالد جیسی تقریر کرنے لگوں یا احمد جیسا خوش باش نظرآؤں یا جواد کے مانند لوگوں کا پیارا بن جاؤں تو یہ محال ہے ، وغیرہ وغیرہ ۔

ایک دن میں ایک مجلس میں حاضر تھا ۔ میرے ساتھ ایک خاصے عمررسیدہ بزرگ تشریف فرماتھے ۔ مجلس میں بیٹھے تقریباً سب عوام کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور معمولی صلاحیتو ںکے مالک تھے ۔ وہ بزرگ اپنے آس پاس بیٹھے لوگوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔ وہ مجلس کے دیگر افراد میں صرف اپنی بڑی عمر کی وجہ سے نمایاں تھے ۔ اس کے علاوہ ان میں ایسی کوئی خاص بات یا غیرمعمولی صلاحیت نہیں تھی ۔

میں نے وہاں ایک مختصر سی تقریر کی جس میں شیخ عبدالعزیز بن باز رحمه الله  کے ایک فتوے کا ذکر کیا ۔ جب میں اپنی بات کرچکا تو بڑے میاں فخریہ لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوئے :

”میں اور ابن باز ہم جماعت تھے ۔ آج سے چالیس سال قبل ہم مسجد میں شیخ محمد بن ابراہیم رحمه الله  کے پاس اکٹھے پڑھاکرتے تھے ۔“

میں حیران ہوکر ان کی طرف دیکھنے لگا ۔ یہ خبر سناکر مارے خوشی کے ان کے چہرے کی دھاریاں دمک رہی تھیں ۔ وہ اس بات پر

بے حد مسرورتھے کہ اُنہیں کسی زمانے میں ایک کامیاب انسان کی صحبت حاصل رہی ہے جبکہ میں دل ہی دل میں انہیں ملامت کر رہاتھا: ”اے لاچار آدمی ! تم بھی ابن باز کی طرح کامیاب کیوں نہ ہوسکے تمہیں تو راستے کا علم بھی تھا ،پھر تم نے اپنا سفر جاری کیوں نہ رکھا ؟“

ایسا کیوں ہے کہ ابن بازرحمه الله  وفات پائیں تو منبرومحراب اُن پر روئیں ، لائبریریاں آنسو بہائیں اور ایک زمانہ اُن کے فراق پر نوحہ کناں نظر آئے اور جب تمہیں موت آئے توشاید تم پر رونے والا کوئی نہ ہو ! اور اگر کوئی روئے بھی تو زیادہ سے زیادہ دل جوئی کی خاطر یا رسمِ دنیا کے طور پر ۔

ہم میں سے ہر ایک کبھی نہ کبھی یہ ضرور کہتا ہے کہ میں فلاں بڑے آدمی کو جانتا ہوں یا میں فلاں کا ہم جماعت رہاہوں یا فلاں کے ساتھ میری مجلسیںجما کرتی تھیں۔ ان باتوں پرناز نہیں کرناچاہیے ۔ فخر کی بات صرف یہ ہے کہ آپ بھی اُسی بلندی پر پہنچیں جس پر وہ فائز ہوئے ۔ ہم میں سے ہرایک کو بہادر بننا اور آج ہی سے یہ عز م کرنا ہوگا کہ وہ اپنی اُن صلاحیتوں سے جن کے کارآمدہونے پر اسے اطمینان ہے ، اپنی زندگی میں فائدہ اٹھائے گا اور ایک کامیاب انسان بننے کی کوشش کرے گا ۔

اس لیے تُرش رُوئی چھوڑ کر اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائیں ۔ افسردگی کو خیرباد کہہ کرہشاش بشاش اور خوش باش نظر آئیں ۔ کنجوسی چھوڑ کر کشادہ دِلی اپنائیں ۔ اپنے غصے پر قابو پائیں اور اُسے بُردباری اور ٹھہراو ¿ میں بدل ڈالیں ۔ مصائب کے گھُپ اندھیروں میں خوشی کی کرنیں تلاش کریں ۔ اپنے آپ کو ایمان ویقین اور اعتماد کے ہتھیاروں سے لیس کریں ۔ اپنی زندگی میں دل چسپی لیں۔ اس سے لطف اٹھائیں ، زندگی کے دن تھوڑے ہیں ، اُنہیں بے جا غم ، بے مقصد پریشانیوں میں ضائع نہ کریں

حاصل : ”بہادر وہ ہے جو پختہ عزم کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو ترقی دیتا رہے اور اُن سے بھرپور فائدہ اٹھائے ۔“

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*