مردہ دلوں کو زندگی عطا کیجئے

اسماء فضل محمدی

 

حضرت ابراہیم بن اسحاق رحمہ اللہ ایک مرتبہ بصرہ کے بازار سے گزر رہے تھے، لوگوں نے انہیں روک کر پوچھا: اے ابن اسحاق! آخر کیا وجہ ہے کہ ہم خوب دعائیں کرتے ہیں،لیکن شرف قبولیت کو نہیں پہنچتیں۔انہوں نے جواب دیا کہ: تمہارے دل دس چیزوں کی وجہ سے مردہ ہوچکے ہیں۔ لوگوں نے تفصیل جاننی چاہی، اُس پر ابو اسحاق نے کہا:

 

(1) تم نے اللہ کو پہچانا ضرور،مگر اس کا حق ادا نہیں کیا۔

(2) تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ اللہ کے رسول اسے بے پناہ محبت کرتے ہو ؛ لیکن درحقیقت تم نے ان کی سنتوں کو چھوڑ رکھا ہے۔

(3) تم قرآن کریم کی تلاوت تو کرتے ہو، مگر اس پر عمل نہیں کرتے۔

(4) تم اللہ کی نعمتوں سے خوب لطف اندوز ہوئے، مگر اس کا شکریہ ادا نہیں کیا۔

(5) تم تو کہتے ہو کہ شیطان ہمارا دشمن ہے، جب کہ تمہارے اعمال اس کی اتباع کی گواہی دیتے ہیں۔

(6) تم کہتے ہو کہ ہمارا ایمان ہے کہ جنت بر حق ہے، حالانکہ تم نے اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کی۔

(7) تمہارا ایمان ہے کہ جہنم بھی بر حق ہے؛لیکن تم نے اس سے نجات کی کوئی تدبیر اختیار نہیںکی۔

(8) تمہیں یقین ہے کہ ایک دن موت تمہیں آپکڑے گی؛لیکن اس کے لیے تم نے کوئی تیاری نہیں کی۔

(9) تم جب نیند سے بیدار ہوتے ہو‘ تو دوسروں کی عیب جوئی تمہارا مشغلہ بن جاتا ہے، اور تمہیںاپنے گریبان میں جھانکنے کی فرصت نہیں ملتی۔

(10) اپنے مردوں کو تم قبرستان میں دفنا ضرور دیتے ہو، مگر اس سے کوئی عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

 محترم حضرات ! دعاؤں کی عدم قبولیت کے یہ دس اسباب سن کر وہاں موجود لوگوں کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ اب میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا ان اسباب کو جاننے کے بعد آپ کی آنکھیں نم ہوئیں….؟ اگرنہیں ….توانہیں دوبارہ سہ بارہ پڑھیں۔ہمیں اس کاشکوہ بہت رہتا ہے کہ اللہ رب العالمین ہماری دعائیں قبول نہیں کرتا؛ لیکن شکایت اور اس کے اظہار سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور غور کرنا چاہیے ان اسباب پر، جسے حافظ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان فرمایا۔ ہو نہ ہو کوئی سبب ہمارے اندر موجود ہواور ہمارے لبوں سے نکلنے والی فریادیں ، دعائیں بارگاہ الٰہی تک پہنچنے سے قاصر رہ جاتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو محاسبہ نفس کی توفیق بخشے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*