ایمان کی علامتیں

ڈاکٹر عبدالحمید مخدومی

 

ایمان کی ستر شاخیں ہیں تو اس سے لاز م آتا ہے کہ ہر شاخ کی ایک علامت ہوگی سب سے پہلے تو ہم کو یہ جاننا ہوگا کہ ایمان ہے کیا چیز ؟ ایمان اس یقین کی کیفیت کو کہتے ہیں جو دل میں پائی جاتی ہے ۔

 

مثلاً خدا پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے وجود پریقین کیا جائے ،اس کی صفات کو تسلیم کیا جائے ، اس کی سب سے بڑی صفت توحید ہے ۔یعنی اس کو ایک سمجھنا نہ اس کے کوئی ماں باپ ہیں نہ بیٹے بیٹیاں ہیں، اور نہ بھائی بہنیں ۔ وہ یکا وتنہا ہے ۔ اس ذیل میں ایمان کی علامت یہ ہوگی کہ اگر کوئی شخص خدا کے بارے میں کسی غلط بات کا اظہار کرے تواہل ایمان کا یہ وطیرہ ہوگا کہ فوراً وہ اس کی تردید کردے گا اور برملا خدا کے بارے میں صحیح عقیدے کا اعلان کردے گا ۔

 

اسی طرح اس کے رسولوں پر ایمان لانے کی بات آتی ہے تو ایک مسلمان تمام انبیاءعلیھم السلام پر ایمان رکھے گا ۔

 

اور ان کی کتابوں پر ایمان یہ ہے کہ زبور ،توریت اور انجیل پر ایمان رکھے اور قرآن کو آخری کتاب مانے ۔ یہ اللہ کا کلام اپنی اصل شکل میں موجود ہے ،اس کا پورا پورا احترام کرے اور اس کے تمام احکامات اور تعلیمات پر عمل کرے ۔ ان کو پڑھے ،سمجھے اور ان پر عمل کرے اور اس کے کلام کو غیر مسلم اصحاب تک پہنچائے ۔ یا پھر جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں ان کی مدد اور ہمت افزائی کرے اور حتی الامکان اس کام میں ہاتھ بٹائے ۔ قرآن کی بے حرمتی یا اس کی توقیر کے خلاف کوئی کچھ کر رہا ہو تو اس کے خلاف احتجاج کرے خاموش تماشائی بن کر کھڑا نہ رہے ۔

 

فرشتوں پر ایمان رکھے ،جب جبرائیل ،اسرافیل ،عزرائیل یا میکائیل علیھم السلام کا ذکر آئے دل احترام اور محبت کے جذبے سے سرشار ہو ۔رسول کریم اکا ذکر آئے تو فوری آپ ا پر درود پڑھے ، یہ ایمان کی علامت ہے ۔ درود اس طرح پڑھے کہ قریبی لوگ اس کوسنین۔

 

آخرت پر ایمان کی علامت یہ ہے کہ آدمی آخرت کی جوابدہی کا تصور اپنے دل میں مستحضر رکھے اور

 

اپنے دوست ، احباب ، رشتہ داروں میں مختلف انداز سے چرچا کرتا رہے ۔ یوں کہے : ”بھائی کل خداکے پاس جواب دینا ہے کیا جواب دوگے “؟ کہیں بھی بے ایمانی بد دیانتی اور ظلم کرتے ہوئے کسی کو دیکھے تو فوری اس شخص کو ظلم سے روکے یا پھر زبان سے منع کرے یا قلم سے کام لے اور برائی کو ختم کرنے کی کوشش کرے ، ظلم کو دیکھ کر خاموش ہوجانا ایمان کی علامت نہیں ہے ۔

 

تقدیر پر ایمان رکھے ، اپنی تقدیر کا شکوی نہ کرے ، خدا سے ہمیشہ خوش گمان رہے ، آنے والے وقت کے بارے میں اپنے تعلق سے کوئی غلط بات نہ کہے ، ہمیشہ یہ دعا کرتا رے کہ ایمان سلامت رہے اور ایمان پر خاتمہ ہونے کی دعا کرتا رہے ۔ گفتگو میں خدا کا ذکر جیسے الحمدللہ ،سبحان اللہ، ماشاءاللہ، اللہ اکبر اکثر وبیشتر کرتا رہے ۔ کوئی بھی مسلمان چھینک کر الحمدللہ کہے تو فوری اس کا جواب یرحمکم اللہ دے ۔ ہر اچھا کام بسم اللہ سے شروع کرے ، پانی بیٹھ کر پئے اور پینے کے بعد الحمد للہ کہے ، گھر میں مہمان آئے تو کھلے دل سے استقبال کرے اوراسے کھلائے پلائے ، سلام میں پہل کرے اور راستہ چلتے ہوئے ہر چھوٹے بڑے شخص کو سلام کرے ، رسول اکرم ا نے بچوں کو بھی سلام کیا ہے ، کبر نفسی کی بنا پر آدمی سلام میں پہل کرنے سے کتراتا ہے ۔ چہرے پر داڑھی رکھے ، مسلمان کو اپنی شناخت بنائے رکھنا چاہیے ، رسول کریم صلى الله عليه وسلم نے غیروں کی مشابہت سے منع فرمایا ہے ، ایک مسلمان جب داڑھی مونڈتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ وہ ایک مرعوب ذہنیت کا حامل ہے اوراس کا ایمان کمزور ہے ۔ ماں باپ کے احکامات کی فوری تعمیل کرے اور جہاں تک ہوسکے ان کی خدمت کے لیے دست بستہ ہوکر کھڑا رہے ۔ قرآن میں حاضر باش بیٹوں کی تعریف کی گئی ہے ، ماں باپ کو خصوصا بڑھاپے میں اولاد کی خدمت کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے ۔ لوگوں سے محبت اور مروت کا رویہ رکھے حضور اکرم ا نے فرمایا ”مومن چاہنے والا ہوتا ہے اور چاہا جاتا ہے “ ۔ آگے آپ نے فرمایا” اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو نہ چاہتا ہو اور نہ چاہا جاتا ہو “ ۔ مومن ہمیشہ دینے کی فکر کرتا ہے کسی سے لینے کی فکر نہیں کرتا ۔

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*