علم سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں : طاہرہ بیگم سید کریم ( کویت )

”پڑھو (اے محمد صلى الله عليه و سلم) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے انسان کو جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا“۔ (سورة العلق 1۔5)

 یہ وہ پانچ آيات ہیں جنہیں اللہ تبارک و تعالی نے اپنے حبیب مصطفی صلى الله عليه و سلم  پر منصب نبوت سے سرفرازی کی اولیں ساعت میں نا زل فرمائیں اور حکم دیا کہ پڑھو …يهی نہیںبلکہ اللہ تبارک و تعالی نے اس کائنا ت کی تخلیق سے پہلے قلم کی تخلیق کی اور محفوظ تختی پروہ سب کچھ لکھوایا جو اس دنیا میں قیامت تک ظہور پذیر ہونا تھا( ابوداود 4700 )۔ اس کائنا ت کو انسان کی ضرورت کی ہر چیز سے آراستہ کیا ،پھر آدم عليه السلام  کی تخلیق کے بعد انہیں علم کی دولت سے مالا مال کیا، انہیں وہ چیزیں سکھائیں جو فرشتے بھی نہیں جانتے تھے (البقرہ 31 ) تاکہ وہ اللہ تعالی کے دےے ہوئے اس علم سے مستفید ہو کر دنیوی و اخروی ارتقاءکی منازل طے کریں ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

” اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں “ ( الانعام 97 )

آدم عليه السلام  سے لیکر محمد صلى الله عليه و سلم  تک سبھی انبیاءعلیہم السلام کو اللہ تعالی نے علم و حکمت سے نوازا کیونکہ دنیامیں راست روی اور اخروی فلاح کا انحصارصرف علم پر ہے، علم کے بغیر انسانوں کی رہنمائی ناممکن ہے۔کلمہ حق کو جاننے اور ماننے کے لیے علم اہم ترین شرط ہے ،علم کے بغیر اللہ کی پہچان ناممکن ہے، اسی لیے اللہ تبارک و تعالی نے پیارے نبی صلى الله عليه و سلم  کو بار نبوت سونپنے سے پہلے علم کی آگاہی عطا فرمائی ۔

یہ علم کیا ہے؟ اور انسان کے لیے اسکا سیکھنا کیوں ضروری ہے؟

علم جہالت کی ضد ہے، یہ انسان کواندھیروں سے روشنیوں کی طرف لے جاتاہے ، اسکا مطلب فہم و ادراک بھی ہے اورآگہی و عرفان بھی۔ علم عقائد کو درست کرتا ہے، نفس کو پاکیزہ بناتا ہے، اخلاق کو سنوارتا ہے ، نیک اعمال پر اُبھارتا ہے، بہتر کاموں کی ترغیب دیتا ہے، علم تنہائی کا ساتھی ہے ، خلوت میں جلوت کا کام کرتا ہے، جنت کی راہ کا مینارہ  نور ہے، سبھی عبادات میں افضل ترین عبادت ہے،علم سے رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ صحیح اور غلط کی پہچان ہوتی ہے۔حق و باطل میں فرق معلوم ہوتاہے، صاحب علم ہونا مومنین کی صفات میں سے ہے، اہل علم کے چہرے تابناک اورروشن ہوتے ہیں،انکے دل میں خشیت اورانکے افعال وکردار اور سلوک میں ٹھیراﺅ ہوتا ہے، وہ اللہ کے ساتھ، اپنے آپکے ساتھ اور لوگوں کے ساتھ سچے ہوتے ہیں۔

قرآن واحادیث میں مختلف انداز میں علم کی اہمیت کو اجاگر کیاگیا ہے ،جیسے ” ان لوگوں سے کہیے کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں ؟ (الزمر9 )

 ” تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جنکو علم بخشا گیاہے اللہ انکو بلند درجے عطا فرمائے گا “ ( المجادلہ11 )

ایک جگہ اللہ تعالی نے اپنے نبی صلى الله عليه و سلم  کو تاکید کی کہ اپنے علم میں اضافہ کی دعاکرتے رہیں ”کہو! اے میرے رب میرے علم میں اضافہ کر“ ( طہ 114 )

نبی صلى الله عليه و سلم  نے علم کا حاصل کرنا مسلمانوںپر فرض قرار دیا ،نبی صلى الله عليه و سلم   نے فرمایاہے :”علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے “       ( صحیح الجامع الصغیر 3913 )

 ” جو شخص علم کی جستجو میں نکلتا ہے ا للہ تعالی اسکے لیے جنت کا راستہ آسان فرمادیتا ہے ، عالم کی فضیلت عابد پر اس طرح ہے جس طرح چاند کی فضیلت باقی ستاروں پر،علماءانبیاءکے وارث ہیں اور نبیوں نے دینار و درہم کی میراث نہیں چھوڑی، انکی میراث صرف علم ہے، جس نے یہ میراث لے لی اس نے بڑا حصہ پالیا“ ( ابوداؤد، ترمذی : حسن ، صحيح الترغیب 33 ) حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے یہ جہا ں سے ملے اسے اپنا مال سمجھو۔”

 سیدنا معاذبن جبل رضى الله عنه کی نظر میں” حصول علم عبادت ، ذکر اور اجروثواب کاباعث ہے، تلاش علم راہ حق میں جہاد ہے، دوسروں کو علم سکھانا صدقہ ہے، عالموں میں علم بانٹنا عبادت ہے، اورعلم تنہائی کا ساتھی اور فرحت وشادمانی کاباعث ہے “۔

   علم صرف دنیوی ڈگریاں حاصل کرنا، ایٹم بم، ہائڈروجن بم ،آواز سے تیز طیارے اور چاند تک پہنچنے والی ہوائیاں بنالینے کا نام نہیں اور نہ ہی معاشیات ،مالیات ،قانون اورفلسفے میں مہارت کا نام ہے ، حقیقی علم معرفت حق ہے اگر انسان ان سارے علوم کو حاصل کرکے اپنے رب کو پہچان نہ سکا تو اس علم کے اعتبار سے وہ جاہل محض ہے۔

اللہ اور اسکے رسول صلى الله عليه و سلم   نے دنیوی علوم کی ممانعت نہیں کی بلکہ نبی صلى الله عليه و سلم  نے جنگ بدر کے کفارقیدی جو فدیہ ادا نہ کر سکے تھے انکی رہائی کے لئے کفارہ یہ رکھا کہ ہر ایک قیدی 10مسلمانوں کو علم سکھائے۔ اورنبی صلى الله عليه و سلم  نے زید بن ثابت رضى الله عنه کی قابلیتوں کے پیش نظر انہیں حبرو اور سریانی زبانوں کو سیکھنے کا حکم دیا۔

 اسلام نے حصول علم کا سلیقہ بھی سکھایا ہے وہ یہ کہ” اپنے رب کے نام کے ساتھ پڑھو “اسکا مطلب ہے کہ اگر تمہارے علم میں تمہارے رب کا نام شامل نہ ہو تو اس علم کا کوئی فائدہ نہیں، جو علم اللہ کے نام کے ساتھ یا اسکے دین کی سمجھ کے لیے حاصل نہ کیا جائے ‘ شیطان اس علم کاساتھی ہو جاتا ہے چنانچہ وہ اس علم سے تعمیری کا م کے بجائے تخریبی کام لینے لگتا ہے ،شیطان خود تو انسانیت کا دشمن ہے ہی ‘ انسان کو بھی اسی خطرناک ڈگر پر چلا کرانسانیت کا دشمن بنا بیٹھتا ہے، اسکے اندر اس علم کی بدولت فخر ، گھمنڈ ،اکڑ اور شرارت جیسی بیماریاںپیدا ہوجاتی ہیں، اسی لیے اللہ تعالی نے حصول علم کے حکم کے ساتھ انسان کو اسکی حقیقت سے آگاہ کردیا کہ اگر تم نے علم حاصل کرلیا تو یہ نہ سمجھ لینا کہ یہ سب تمہاری کاوشوں، کوششوں اور محنتوں کا نتیجہ ہے بلکہ تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم جمے ہوئے خون کی ایک بوند سے بنے ہو، یہ تمہا رے رب کا کرم ہے کہ اس نے تمہیںاس حقیر ترین حالت سے ابتداءکرکے گوشت و پوست کا ایک بہترین شاہکار ہی نہیں بلکہ صاحب علم بنايا جو مخلوقات کی  بلند ترین صفت ہے ،قلم کے ذریعہ تمہیں علم و فراست عطا کی، تمہیں دنیا کی ساری مخلوقات میں اعلی و ارفع شخصیت کا حامل بنا یا تاکہ تم اپنے علم سے لوگوں کو فائدہ پہنچاو، اسے لکھنے کاوہ فن سکھایا جو بڑے پیمانے پر علم کی اشاعت ،ترقی اور نسل در نسل اسکی بقا اور تحفظ کا ذریعہ بنا۔ اگر وہ الہامی طور پر انسان کو قلم اور کتابت کے فن کا علم نہ دیتا تو انسان کی علمی قابلیت ٹھٹھر کر رہ جاتی اور اسے نشوونما پانے، پھیلنے اور ایک نسل کے علوم دوسری نسل تک پہنچا نے اور مزید ترقی کرتے چلے جانے کا موقع ہی نہ ملتا ۔

 انسان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اسکے پاس اسکا اپنا کچھ بھی نہیں ہے جو کچھ ہے اللہ کا عطیہ ہے اور اس پر تصرف کرنے کے جو اختیارات بھی اسکو بخشے گئے ہیں انہیں اللہ ہی کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس اختیار کے صحیح و غلط استعمال پر انھیں مالک حقیقی کے حضور جوابدہی کرنی ہے، اپنے علم کے غرور ا ور نشے میں فرعون کی طرح جس جہالت میں وہ مبتلا تھا ویسی جہالت میں خود کو مبتلا نہ کرنا بلکہ داؤد اور سلیمان علیہما السلام کی طرح شکر بجا لانا، حالانکہ اللہ تعالی نے فرعون اور داﺅد اور سلیمان علیہما السلام کو ایک جیسی بادشاہت، دولت حشمت عطا کی لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان کتنا عظیم الشان فرق پیدا کر دیا ، ایک نے خدا کو بھلا کر خود کو خدا بنا لیا اور رہتی دنیا تک کہ لیے اللہ کی لعنت و پھٹکار کا مستحق بن گیا جبکہ داﺅ د اور سلیمان علیہما السلام نے کہاکہ” شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی“ ۔         (سورہ نمل ۶۴)

اللہ تعالی ہم سب کو صحیح علم وفہم عطا کرے اور اسکو لوگوں تک صحیح طور سے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

 

 

 

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*