توحید کے آنسو

شیخ محمدبن جمیل زینو

 

س1: شرک اکبر کسے کہتے ہيں ؟

ج1 : غير اللہ کے ليے کسی طرح کی عبادت کرنا شرک اکبر کہلاتا ہے جےسے پکار ،ذبيحہ وغيرہ۔ فرمان الٰہی : وَلَا تَدعُ مِن دُونِ اللّٰہِ مَا لاَ ينفَعُکَ وَلَا يضُرُّکَ فَاِن فَعَلتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِنَ الظَّالِمينَ ” اور اللہ کو چھوڑ کر کسی اےسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہونچاسکتی ہے نہ نقصان، اگر تو ايسا کرے گا تو ظالموں ميں سے ہوگا (يعنی مشرکين ميں سے ہوگا) “۔

جب رسول اللہ اسے سوال ہوا کہ سب سے بڑا گناہ کيا ہے؟ آپ نے فرمايا أن تد عو لِلّٰہِ نِدًاو ہو خلقک ”کہ تم اللہ کے ساتھ شريک ٹھہراؤ جبکہ اس نے تمہيں پيدا کيا ہے“۔

 

س2: اللہ کے نزديک سب سے بڑا گناہ کيا ہے ؟

ج 2: اللہ کے نزديک سب سے بڑا گناہ شرک اکبر ہے دليل

فرمان الہٰی : يا بُنَیَّ لَا تُشرِک بِاللّٰہِ اِنَّ الشِّرک َ لَظُلم عظِيم ”بيٹا، اللہ کے ساتھ کسی کو شريک نہ کرنا، حق يہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے“

حديث نبوی : أکبر الکبائر : الاِ شراک باللہ وعقوق الوالدين و شھادة الزور (بخاری)”اللہ کے ساتھ شرک، والدين کی نا فرمانی، جھوٹی گواہی سب سے بڑے گناہ ہيں“۔

 

س 3 : کيا اس امت ميں شرک موجود ہے؟

ج3: ہاں موجود ہے : فرمان الہٰی : وَمَا يؤمِنُ أکثَرُھُم بِاللّٰہِ اِلَّا وَھُم مُشرِکُونَ ”ان ميں سے اکثر اللہ کو مانتے ہيں مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ دوسروں کو شريک ٹھہراتے ہيں“۔ (يوسف :۶۰۱)

حديث نبوی : لا تقوم الساعة حتی تلحق قبائل من أمتی بالمشرکين و حتیٰ تعبد الأصنام (صحيح ترمذی) ”جب تک ميری امت کے بعض گروہ مشرکين کے ساتھ نہيں ہوجائيں گے اور بتوں کی پوجا نہيں ہوگی‘ قيامت نہيں آئے گی “۔

 

س:5 کيا مردے پکار کو سنتے ہيں؟

ج5: نہيں سنتے۔ دليل فرمان الٰہی : وَمَا أنتَ بِمُسمِع مَن فِی القُبُور (اے نبی صلى الله عليه وسلم) آپ ان لوگوں کو نہيں سنا سکتے جو قبروں ميں مدفون ہيں“۔ (سورة فاطر:22)

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*