اسلامی شادی پر ایک طائرانہ نظر

 

ابرار کلیم قاسمی (کویت )

 

اسلامی معاشرے میں ہر نئے خاندان کی ابتدا ایک مرد اور عورت کے درمیان نکاح کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایک صالح خا ندان اس وقت و جو د میں آتا ہے جب صالح مرد اور عورت آپس میں نکاح کے پاکیزہ رشتے سے منسلک ہوجائیں، مسلم معاشرے میں نکاح بے حد اہمیت کا حامل ہی نہیں، سنتِ رسول بھی ہے۔ زیرنظر مضمون میں اسلامی شادی کی مختصر جھلک پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے :

شادی جو ایک پاکیزہ رشتہ ہے اس میںشریعت کے بے شمار مقاصد کارفرما ہیں

نگاہوں اور آبروکی حفاظت : نظروں کی عدم حفاظت اور اس میں تکاسل سے بے شمار اخلاقی خرابیاں پیدا ہوتی ہیںاوریہی انسان کی آبروریزی کا سبب بنتی ہےںچنانچہ شادی آنکھوں کی حفاظت میں کلیدی رول ادا کرتی ہے ۔ اللہ کے رسول انے فرمایا: یا معشرالشباب من استطاع منکم الباءة فلیتزوج فإنہ أغض للبصر وأحفظ للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فإنه لہ وجاء(صحیح البخاری) ”اے نوجوانوںکی جماعت ! تم میں سے جس کے پاس استطاعت ہے اسے چاہیے کہ شادی کرلے اس ليے کہ یہ آنکھوں کی حفاظت کا ضامن اور شرم گاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے اور جس کے پاس استطاعت نہ ہو تو اسے روز ہ رکھنا چاہیے کیونکہ روزہ اس کے ليے مدافعت کی راہ ہے“۔

 

افزائش نسل: اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تَزَوَّجُوا الوَدُودَ الوَلُودَ ، فَاِنِّی مُکَاثِر بِکُمُ الأُمَمَ۔( أبوداوؤد ) ” تم زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جنم دینے والی عورتوں سے شادی کرو ، کیونکہ دیگر امتوںکے مقابلے میں مجھے اپنی امت کی کثرتِ تعداد پر فخر ہوگا “۔

 

سکون وراحت کا حصول : اللہ تعالی کا ارشاد ہے :”اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اللہ تعالی نے تمہارے لےے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کےے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت والفت ڈال دی بیشک اس میں غور کرنے والوں کے ليے نشانیاں ہیں“۔(سورة الروم 21)

 

خطبہ کے احکام وآداب

 

خطبہ سے پہلے عورت کا دیکھنا:جس کے دل میں کسی عورت کے متعلق محبت آجائے تو خطبہ سے پہلے اس کو دیکھ لینا چاہیے چنانچہ حضرت مغیرہ بن شعبہ صسے روایت ہے کہ انہو ںنے ایک عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجا تو آپ انے ان سے کہا”اس کو دیکھ لو کیونکہ یہ تمہارے درمیان دائمی حسن معاشرت کے زیادہ لائق اور مناسب ہے“۔(ترمذی)

دیکھنے کامقام چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں ہیںالبتہ بعض فقہاءنے اس میں تھوڑی توسیع کی ہے لیکن اصل جواز کی صورت چہرہ اور ہتھیلی ہی ہے۔

انتخاب کا معیار: شادی کے مقاصد سے بحسن وخوبی فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ معیار ترجیح دینداری ہو۔ ايک حديث ميں آپ صلى الله عليه وسلم کا ارشادِ گرامی ہے :”عورت سے چار چيزوں کی بنا پر شادی کی جاتی ہے، اسکے مال کی وجہ سے ، خاندان کی وجہ سے ،حُسن اور دين کے سبب سے، تم دين والی کا انتخاب کرو‘ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“ ۔ ( متفق عليہ )

پیغام نکاح پر پیغام: نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے لا یخطب الرجل علی خطبة اخیہ حتی ینکحہ او یترک (رواہ البخاری) ”آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح نہ دے یہاں تک وہ اس سے شادی کرلے یا چھوڑ دے“ (صحیح بخاری) ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”آدمی کسی آدمی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح نہ دے یہاں تک کہ اس کا دل پیغام نکاح سے الگ ہو جائے یا پیغام نکاح دینے والا اس کی اجازت دیدے “۔ (بخاری مسلم)

 

عقد نکاح کی شرائط: اجمالاًعقد نکاح کی شرائط چھ ہیں:

(1) باہمی رضامندی : شادی اختیاری ہو کسی قسم کا جبر واکراہ نہ ہو، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کابیان ہے کہ کہ میں نے حضورا سے سوال کیا: کیا دوشیزاؤں کی شادی میں ان سے اجازت لی جائے گی ؟ آپ نے فرمایا : ہاں! میں نے عرض کیا : باکرہ سے جب اجازت لی جائے گی تو وہ شرمائے گی ، آپ نے فرمایا: Êذنہا صماتہا ”اس کی خاموشی ہی اجازت ہے“ ( صحےح البخاری) ، اور حضرت ابن عباس ص کا بیان ہے کہ ایک باکرہ لڑکی اللہ کے رسول ا کے پاس آئی اور شکایت کی کہ اس کے باپ نے اس کی ناپسندیدگی کے باوجود اس کی شادی کردی ہے تو آپ ا نے اسے (فسخِ نکاح کا) اختیار دیا۔ ( رواہ احمد)

(2) ولی : عورت کا بذات خود اپنی شادی میں ولی بننا فطرت سلیمہ کے خلاف ہے بلکہ وہ فساد کا ذریعہ ہے لہذا اس کا ولی اس کے والد بھائی یا اس کا الاقرب فالاقرب ہوگا ۔ حدیث پاک میں ہے : لا نکاح الا بولی ”ولی کے بغیر نکاح صحیح نہیں“ ایک دوسری حدیث میں ہے : ”جس عورت نے اپنا نکاح بغیر ولی کے کرلیا‘ اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے،اس کا نکاح باطل ہے ۔ اگر(شوہر نے) اس سے دخول کرلیا ہے تو اس کی شرمگاہ سے فائدہ اٹھانے کی وجہ سے اسے مہرملے گا“ ۔ ( ابوداؤد، ترمذی)

(3) دو گواہ : عقد نکاح کے صحیح ہونے کے لےے ضروری ہے کہ دو عادل اس کی گواہی دیں اس کے بغیر نکاح باطل ہے۔

(4) مہر: یہ ایک طرح کا ہدیہ اور تحفہ ہے لیکن شریعت نے اس پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ﴾وَآتُوا النَّسَاء صَدُقَاتِہِنَّ نِحلَةً﴿ (سورة النساء3) ”اور عورتوں کو اُن کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔“ اور حدیث میں ہے التمس ولو خاتما من حدید (بخاری و مسلم) ” کچھ بھی ڈھونڈ لاؤ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی “۔

(5)عفت وپاکدامنی : اللہ تعالی نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ وہ پاکدامن عورت سے ہی شادی کریں۔ ارشاد ربانی ہے :

ترجمہ” بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے ۔“ ۔(سورة النور3)

(6) کفاءت : زوجین کے مابین دین میں کفاءت اور تساوی ہوناچاہیے ۔ ارشاد باری تعالی ہے:

”اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں (اُن سے) نکاح نہ کرنا کیونکہ مشرک عورت خواہ تمہیں کیسی ہی بھلی لگے اُس سے مومن لونڈی بہتر ہے اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو اُن کی زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) خواہ وہ تمہیں کیسا ہی بھلا لگے (اُس سے) مومن غلام بہتر ہے“ ۔ (سورة البقرة ۱۲۲)

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*