باغيچہ اطفال

میری امی

 

میری امی، میری امی پیاری پیاری میری امی

کرتی ہوں اس کا اقرار وہ کرتی ہیں مجھ سے پیار

صبح مجھے اٹھاتی ہیں پیار سے ناشتہ بناتی ہیں

پھر کرتی ہے مجھ کو تیار ساتھ میں پیار بھی بے شمار

جب میں واپس آتی ہوں در پر ان کو پاتی پاتی ہوں

وہ کرتی ہیں میرا انتظار دیر ہونے پر ہوتی ہے بے قرار

مزے کا کھانا پکاتی ہیں اپنے ہاتھوں سے کھلاتی ہیں

ہوم ورک جب کرنے جاؤں امی کو ہی پاس میں پاؤں

مدد کو رہتی ہیں تیار پیار ا ن کا ہے بے شمار

رات کو پیار سے سلاتی ہیں ساتھ میں کہانیاں سناتی ہیں

فخر وہ مجھ پر کرتی ہیں مجھ پر جان چھڑکتی ہیں

گلالی (سوات، عمر 11 سال)

 

بچوں سے باتیں

 

بچو! کہتے ہیں کسی نے لقمان حکیم سے پوچھا: آپ نے ادب کس سے سیکھا ؟

جواب ملا: بے ادبوں سے

اس نے پوچھا: کس طرح

آپ نے فرمایا : انہوں نے جو بُری حرکت کی میں نے اس سے پرہیز کیا ۔

کتنی اچھی بات ہے ….سچ ہے جو مہذب نہیں ہوتے ‘جن میں ادب نہیں ہوتا ،جن میں اخلاق نہیں ہوتے‘ ان کی عادتیں دیکھ کر ہم ان باتوں اور عادتوں سے پرہیز کر سکتے ہیں ۔ ان عادتوں سے بچتے ہیں ، کیوںکہ یہ عادتیں ایسی ہیں کہ ان سے سوائے نقصان کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ جب ہم کسی کو بحث کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اگر وہ بحث مناسب ہو توبہتر ہے ورنہ یہی بحث آگے چل کر لڑائی کی شکل اختیار کرلیتی ہے ، دلوں میں رنجش آجاتی ہے، رشتے ناطے ختم ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ضروری نہیں ہے کہ کوئی ہمیں ان باتوں کی طرف دھیان دلوائے ،کیوںکہ جب ہم دوسروں کو بات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ، دوسروں کا رویہ دیکھتے ہیں تو سمجھ جاتے ہیں کہ وہ شخصیت کیسی ہے ۔ اسی لیے دوسروں کی غلط باتوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور ان سے خود کو بچانا چاہیے۔

 

بدلہ نہ لینا

 

عالم اسلام کے ایک بہت بڑے عالم اور محدث حضرت میاں صاحب گزرے ہیں ، آپ کا نام تو ”سید نذیرحسین دہلوی “ تھا لیکن لوگ آپ کو ”میاں صاحب“ کہتے تھے ۔ آپ نے دہلی میں ستر سال تک قرآن وحدیث کا درس دیا ،آپ بہت نیک اور بزرگ تھے ، بڑے بڑے دشمن آپ کے قابو میں آئے لیکن آپ نے کبھی ان سے بدلہ نہ لیا بلکہ انہیں معاف کردیا اور ان کی بخشش کی دعا بھی فرمائی ۔

ایک دن کی بات ہے ۔ ایک صاحب نے حضرت میاں صاحب کی دعوت کی ۔ میاں صاحب کھانے کے وقت ان کے گھر پہنچے ، جب کھانا سامنے آیا تو میاں صاحب کو متلی اور قے ہونے لگی اور طبیعت ایسی خراب ہوئی کہ آپ کھانا نہ کھا سکے ۔ جب آپ گھر واپس آئے تو میزبان کے نوکر کے پیٹ میں سخت درد شروع ہوا ۔ اسی نے کھانا بنایا تھا ۔ اس کی تکلیف اتنی بڑھی کہ وہ تڑپنے لگا اور اپنے مالک کو بلاکر عرض کیا کہ آپ میاں صاحب سے میری غلطی معاف کرادیجیے ۔ دراصل یہ درد نہیں ہے بلکہ خدا کی طرف سے مجھے اپنے جرم کی سزا مل رہی ہے ۔ مجھے میاںصاحب سے بڑی دشمنی تھی ۔ اس لیے میں نے بکرے کے گوشت کی بجائے سور کا گوشت پکا دیا تھا کہ میاں صاحب کو یہ حرام گوشت کھلا دوں مگر اللہ تعالی نے انہیں بچا لیا اور مجھ کو اس جرم کی یہ سزا دی ہے ۔

وہ صاحب نوکر کو ساتھ لیے میاں صاحب کے پاس پہونچے اور سارا ماجرا بیان کیا اور اس کے لیے معافی چاہی ، میاں صاحب نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ تعالی نے حرام غذا سے بچا لیا ۔ پھر نوکر کو معاف کردیا اور اللہ تعالی سے اس کے لیے بخشش کی دعا کی ۔ آپ کے دعا کرتے ہی اس کی تکلیف دور ہوگئی اور وہ بھلا چنگا ہوگیا ۔

 

وقت کی قدر

توفیق ایک چھوٹا سا لڑکا تھا ، اچھے خاصے گھر میں رہتا تھا اسے گھر کے افراد بہت چاہتے تھے، پڑوس کے لوگ بھی اس سے حد سے زیادہ پیار کرتے تھے،لیکن تھا وہ وقت کو برباد کرنے والا ….گھر سے نکلتا سکول کے لیے اور راستے میں ادھر ادھر کھیلنے لگتا ، جب گھر کے افراد اور ٹولہ محلہ کے لوگوں کوتوفیق کی عادت معلوم ہوگئی تو اس سے سب کا پیار کم ہونے لگا …. کئی بار امتحان میں بھی وہ فیل ہوگیا ۔

ایک دن وہ سکول سے گھر جارہا تھا کہ راستے میں اسے احساس ہوا کہ آخر احمد سے سارے بچے کیوں محبت کرتے ہیں، استاد بھی اس کو زیادہ کیوں چاہتا ہے ، اس کے امی ابو بھی اس سے بہت پیار کرتے ہیں …. اسی لیے نا کہ وہ محنت سے پڑھتا ہے ، اچھے نمبرات حاصل کرتا ہے …. آج سے میرا وعدہ ہے کہ میں بھی وقت کی پابندی کروں گا ، وقت پر سکول    جا ؤں گا،محنت سے پڑھوں گا اور اول درجہ حاصل کروں گا ۔

ایک سال ایک چٹکی کی طرح بیت گیا ،توفیق سدھر چکا تھا ، محنت سے پڑھتا تھا اس لیے اس کے سارے امتحانات ٹھیک سے گزرے ، وہ او ل درجہ پر ہی آیا ۔

بچو! آپ بھی وقت کی قدر کرو، بڑے لوگوں کی کامیابی کا رازیہی ہے کہ وہ وقت کی قدر کرتے تھے ،تو آو ¿ اور عہد کرو کہ ع    دل سے ہر کام کروں گا سمئے نہ کچھ برباد کروں گا ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*