سب سے بڑا گناہ

پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی

 

عَن عَبدِاللّٰہِ ابن عَمَرو رَضِیَ اللّٰہُ عَنہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ مِن اَکبَرِ الکَبَائِرِ اَن یَّلعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَیہِ، قِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ وَکَیفَ یَلعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَیہِ؟ قَالَ: یَسُبُّ الرَّجُلُ اَباَ الرَّجُلِ فَیَسُبَّ اَبَاہُ وَیَسُبُّ اُمَّہ فَیَسُبَّ اُمَّہ (رَوَاہُ البُخَارِیُّ )

 

ترجمہ :” حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہانے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے والدین پر لعنت بھیجے۔ آپ سے عرض کیا گیا : والدین پر کوئی کیسے لعنت کر سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ اس طرح کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے، وہ اس کے جواب میں اس کے باپ کو گالی دیتا ہے ،ایک شخص کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے نیتیجتاً وہ اس کی ماں کو گالی دے گا “۔ ( بخاری )

 

تشریح :مکافات عمل کا دستور مسلمہ حقیقت ہے اور بدلہ لینے کا رجحان بھی غالب ہوتا ہے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو برائی سن کر بھلائی کریں ہر کوئی بدلہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی اصول کے مطابق نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ انسان اپنے والدین کو گالی دے یا ان پر لعنت کرے۔


صحابہ کرام نے یہ سن کر تعجب کیا کہ ایسا کون سا بد نصیب ہے جو اپنی ماں یا باپ کو گالی دے یا ان پر لعنت کرے۔ آج کے دور میں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ، اس لیے کہ لوگ والدین کے مقام کو پچانتے نہیں جائیداد یا کسی معمولی سی بات پر اپنے والدین کو برا بھلا کہتے ہیں ، بلکہ بعض اوقات تو قتل بھی کردیتے ہیں مگر اُس دور میں یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ کوئی انسان اپنے والدین پر لعنت کرے گا اسی تعجب کی بنا پر صحابہ کرام ثنے عرض کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنے والدین کو گالی دے اس پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے وضاحت فرمائی کہ ایک انسان کسی سے ناراض ہو کر اسے اور اس کے والدین کو گالی دیتا ہے وہ اس غلیظ گفتگو کو سن کر اس کے بدلے میں اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، اسی طرح کسی نے کسی کی ماں کو گالی دی جس کے عوض وہ اس کی ماں کو گالیاں دیتا ہے۔ اس طرح وہ کسی کے والدین کو گالی دے کر اپنے والدین کو گالیاں نکالنے کا سبب بنتا ہے گویا کہ اس نے خود اپنے والدین کو گالی دی ہے۔

 

اسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ جو کام کسی گناہ کا سبب بنے اس سے بھی بچنے کی کوشش کی جائے تاکہ کوئی انسان ناکردہ گناہوں کی پاداش میں سزا کا حق دار نہ بنے۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*