انسان کی تخلیق

پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی

 

{وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإنسان مِن سلالة مِّن طِينٍ* ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً في قَرَارٍ مَّكِينٍ* ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَاماً فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الخالقين} (-12-14 ) ( سورة المومنون )

 

ترجمہ : ” اور تحقیق ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں ٹھہرا دیا پھر نطفے کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت بنا دیا پھر اس گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا پھر ہم نے ان ہڈیوں کو گوشت پہنا دیا پھر اسے ہم نے دوسری بناوٹ میں پیدا کیا برکتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ “

 

تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا ہے کہ اسے کس طرح اور کن کن مدارج سے گزار کر پیدا کیا ہے۔ پہلے پانی کا قطرہ پھر لوتھڑا پھر گوشت کا ٹکڑا پھر اس گوشت میں ہڈیاں پیدا کر دیں اور پھر ان ہڈیوں کو گوشت پٹھے اور جلد کے ساتھ مضبوط کر دیا پھر نو ماہ کے بعد اسے مکمل صورت میں پیدا کیا کان ، ناک ، آنکھیں ، منہ ہاتھ اور پاؤں بنا کر اسے بولنے سننے ، دیکھنے اور چلنے کی صلاحیت عطا فرما دی۔


حضرت علی رضى الله عنه روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا :

”جب ماں کے رحم میں نطفے کو قرار پائے چار ماہ گذر جاتے ہیں تو اس لوتھڑے میں اللہ کی طرف سے روح پھونک دی جاتی ہے اور وہ دھڑکنا شروع ہو جاتا ہے اس وقت اس کی تقدیر بھی لکھ دی جاتی ہے“۔

اس طرح مختلف مدارج اور مراحل سے گذرتا ہوا پانی کا قطرہ انسانی شکل اختیار کر جاتا ہے اور 9 ماہ بعد اللہ کے حکم سے اس کی پیدائش ہوتی ہے۔ اللہ نے ماں کے پیٹ میں اس کی خوراک اور سانس لینے کے لیے مناسب بندوبست کیا ہوتا ہے۔ شکم مادر میں بچہ اپنے منہ سے غذا نہیں کھاتا بلکہ وہ قدرتی نالی جو اس کی ناف سے منسلک ہوتی ہے اسے اس کی ضرورت کے مطابق خوراک مہیا کرتی ہے۔ اس گوشت کے لوتھڑے میں جب اللہ کے حکم سے روح ڈالی جاتی ہے اسے اللہ تعالیٰ نے خَلقاً آخَرقرار دیا ہے اس لیے کہ روح پھونکنے سے پہلے وہ بے جان خون کا لوتھڑا ہوتا ہے اور روح ڈالے جانے کے بعد اس میں تبدیلی آتی ہے وہ دھڑکنے لگتا ہے پھر اس میں ہڈیاں اور جسمانی اعضاءپیدا ہوتے ہیں اس طرح ایک کامل بچہ بن کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ خوبصورت تخلیق صرف اللہ ہی کر سکتا ہے وہی سب سے بہترین پیدا کرتا ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*