مذہبی کٹر پن کیا ہے ؟

 

 

مولانا ندیم الواجدی

 

عصرحاضرمیں امت مسلمہ کا المیہ ہے کہ اس کا ایک طبقہ روشن خیالی اوررواداری کے نام پر شریعت اسلامیہ کو تمسخر کا نشانہ بنارہاہے،اسلام کے بنیادی عقائد سے منہ موڑ کر فکری ارتدار کا شکار ہو رہا ہے۔اوریہ دراصل عالم اسلام میںوحدت ادیان اور فکری ارتداد کے لیے کام کررہی اسلام دشمن تنظیموں کی کوششوںکا شاخسانہ ہے ۔افسوس کہ میڈیامیں اسلام کی ترجمانی کرنے والوںکی اکثریت اسی نظریہ کی حامل ہے ۔ مفکراسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی  رحمه الله کی کتاب ردة ولا ابابکر لھا ”امت میں ارتداد عام ہے تاہم اس کی سرکوبی کے لیے ابوبکر رضي الله عنه نہ رہے “ اس دور کی ہوبہو عکاسی کرتی ہے ۔ اس پرطرہ یہ کہ یہ جماعت اسلام کی تعلیمات کو اپنانے اور اسے پوری طرح عملی زندگی میں جگہ دینے کو مذہبی کٹرپن کانام دیتی ہے۔ زیرنظرتحریرمیں اسی تجدد پسند ذہنیت کاپوسٹ مارٹم کیا گیا ہے : (اداره )

عام طور پر مولویوں پر یہ الزام لگایا جاتاہے کہ وہ مسلمانوں کو مذہبی انتہا پسندی کی طرف لے جارہے ہیں اور اس وقت انسانی دنیا میں حیوانیت کے جو اخلاق سوز مظاہر دیکھنے میں آرہے ہیں وہ سب اسی انتہا پسندی کی وجہ سے ہیں ۔ ایک پروفیسر صاحب نے تو مذہبی کٹرپن کو ام الخبائث تک کہہ ڈالا۔ سوال یہ ہے کہ آخر مذہبی کٹرپن کسے کہتے ہیں، کیا اپنے مذہب پر پوری طرح عمل کرنا اور ظاہر و باطن میں اپنے مذہب کا متبع اور پیروکار نظر آنا کٹرپن ہے ؟ کیا واقعی اپنے مذہبی اقدار پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی وجہ سے انسان دائرئہ انسانیت سے نکل کر شرمناک حرکتیں کرنے لگتاہے؟

 

اصل بات یہ ہے کہ تجدد پسندی کی لہر نے لوگوں کے دماغ الٹ دئےے ہیں، ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ تمام ادیان کو ملاکر ایک نیا دین ایجاد کرڈالیں جس میںایک شخص مورتی سامنے رکھ کر نماز پڑھتا نظر آئے یا ماتھے پر قشقہ لگا کر خانہ کعبہ کے طواف میں مشغول ہو، ان کی تسلی اسی وقت ہوگی جب ہر شخص ایک دوسرے کے دین میں اس طرح گڈمڈ ہوجائے کہ دیکھنے والے کو پتہ ہی نہ چلے کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان۔

 

مولوی ملا جو یہ کہتے ہیں کہ اپنے مذہب پر پوری طرح عمل کرو، اس کے ہر حکم کی اتباع کرو، اس کی ہر تعلیم کو حرز جاں بناﺅ…. وہ سب غلط ہے،مذہبی کٹرپن ہے، ایسے لوگوں کو سمجھ لینا چاہيے کہ یہ الزام بے چارے مولوی ملا ﺅں پر کیوں لگاتے ہو یہ الزام تو اللہ تعالی کی کتاب پر لگانا چاہيے جس میں اس طرح کی آیات موجود ہیں :

 

یا یھا الذین آمنوا ادخلوا فی السلم کافة ( البقرة :208 ) ” اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاﺅ ‘ ‘۔ اس آیت میں خطاب اہل ایمان کو کیا کیا گیا ہے غیر مسلموں کو نہیں کہ انہیں ایمان لانے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہو بلکہ جو لوگ پہلے ہی سے ایمان میں داخل ہیں ان سے کہا گیا کہ اگرچہ تم ایمان لاچکے ہو مگر محض ایمان لانا کافی نہیں ہے بلکہ تمہیں چاہےے کہ اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاﺅ، دوسرے لفظوں میںیہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تم اسلام کو اپنی زندگی میں پوری طرح نافذ کرلو۔

 

آیت کا مفہوم سمجھنے کے ليے اگر اس کے شان نزول پر نظر ڈالی جائے تو زیادہ بہتر انداز میں بات سمجھ میں آسکتی ہے۔ مشہور مفسر علامہ ابن جریر طبری ؒ نے اس آیت کا یہ شان نزول نقل کیا ہے کہ جب حضرت عبد اللہ بن سلام ، ثعلبہ بن یامین، اسد،اسید، سعید بن عمروبن قیس وغیرہ علمائے یہودنے اسلام قبول کیا تو انہیں خیال ہوا کہ یہودی مذہب میں اونٹ کا گوشت کھانا حرام تھا مگر اسلام میں حرام نہیں ہے، اسی طرح یہودی مذہب میں ہفتے کے دن کی تعظیم ضروری تھی مگر اسلام میں ہفتے کی تعظیم نہیں ہے اور نہ اس سے منع کیا گیا ہے تو کیوں نہ ہم ہفتے کے دن کی تعظیم بھی کرتے ہیں اور اونٹ کے گوشت کی حلت کا عقیدہ تو رکھیں مگر اسے کھانے سے بچیں تو اس طرح ہم دین موسوی اور دین اسلام دونوںپر عمل پیرا ہوجائیںگے اور اللہ تعالی کی اطاعت کا زیادہ سے زیادہ حق ادا ہوجائے گا، اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی، اس میں ان علمائے یہود کے ان فاسد خیالات کی تردید کی گئی کہ یہ اسلام نہیں ہے کہ آپ اسلام قبول بھی کرلیں اور اپنے سابقہ دین کے اعمال بھی جاری رکھیں، اسلام مکمل اطاعت او رانقیاد کا نام ہے، بظاہر تو علمائے یہود کا جذبہ اچھا معلوم ہورہاہے اور اس میں اللہ کی اطاعت کچھ زیادہ ہی نظر آرہی ہے مگر در حقیقت یہ اتباع نفس ہے، حدود دین سے تجاوز ہے اور احکام کی اتباع میں غلو ہے جو قطعاًمطلوب نہیں ہے،کچھ اسی طرح کا ” آدھا تیتر آدھا بٹیر “ آج کل کے تجدد پسندبھی چاہتے ہیں ۔ بھلا یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ ایک مسلمان عورت اپنی پیشانی پر بندی لگائے جب کہ وہ ہندﺅں کا مذہبی شعار ہے یا کوئی مسلمان ہاتھ جوڑ کر نمستے کہے جب کہ اسے سلام کرنا بتلایا گیا ہے یا کسی ہندو یا مسلم عالم کے پاﺅں چھوئے جب کہ اس طرح کی عقیدت سے روکا گیا ہے۔

 

مفسرین نے لکھا ہے کہ اسلام میں مکمل طورپر داخل ہونے کا مطلب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ اسلام کی مکمل اطاعت کی جائے، یعنی اس کے مجموعی احکام کو پوری طرح تسلیم کیا جائے، ان میں کمی زیادتی نہ کی جائے کہ بعض احکام پر عمل کیاجائے اور بعض کو چھوڑدیاجائے، اسلام ایک مکمل دستور حیات ہے، آپ کے عقائد ، عبادات، معاملات،معاشرت،تجارت،زراعت،صنعت و حرفت، حکومت وسلطنت اور سیاست وغیرہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں اسی دستور حیات کی حکمرانی ضروری ہے، جب تک اسلام ہمارے ظاہر و باطن میں داخل نہیں ہوگااس وقت تک ہم صحیح معنی میں اسلام کے اندر داخل نہیں ہوں گے۔

 

اسلام کی مکمل اطاعت ضروری ہے، ایک مسلمان بننے کے ليے جہاں اس کے داخلی اجزاءاور ارکان و شرائط کی پابندی لازمی ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ جو بیرونی چیزیں ان شرائط کے منافی ہو ں او رجو اسلام کی اصل روح کے خلا ف ہوں ان سے اجتناب کیا جائے ، یعنی جس چیز کو اسلام میں دین شمار نہیں کیا گیا اس کو اختیار نہ کیا جائے اور جس چیز کا پابند بنایا گیا اس سے انحراف نہ کیا جائے۔

 

اس میں ان لوگوں کے لےے بھی تنبیہ ہے جو دین کو صرف چند عقائد و عبادات کا مجموعہ سمجھتے ہیں، معاملات ، حقوق ، معاشرت، وغیرہ میں اسلامی تعلیمات کو دین نہیں سمجھتے ، ان کا خیال ہے کہ دین صرف مسجد تک محدود ہے، بازاروںمیں،گھروں میں، انفرادی زندگی میں ہم آزاد ہیںجو چاہیں کریں۔

 

اسی طرح اس آیت میں ان لوگوں کے ليے بھی تبنیہ ہے جو دین میں اضافہ کرتے رہتے ہیں رواداری اور مذہبی بھائی چارے کے نام پر غیر دین کو دین بنانے کی فکر میں رہتے ہیں ،اس طرح کے لوگ دین کی کوئی خدمت انجام نہیں دے رہے ہیں بلکہ اس کے حسین چہرے کو داغ دار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔

 

مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمه الله نے اس آیت کریمہ کے حوالے سے ارشاد فرمایا :

 

” اس میں یہ بات لحاظ کرنے کی ہے کہ سو فیصدی اسلام میں داخل ہوجا ناچاہےے ، مسلمان بھی سو فیصدی ہو اور اسلام بھی سو فیصدی ہو، نہ مسلمانوں میں کوئی تحفظ یا ریزرویشن نہ اسلام میں کوئی تحفظ، استثناءیا ریزرویشن ہے، خدا کا مطالبہ اور قرآن مجید کی صریح آیت ہے کہ سو فیصدی مسلمانوں کو سو فیصدی اسلام میں داخل ہونا چاہےے۔ اور مذاہب کی طرح نہیں کہ عقائد لے لےے اور سب کچھ چھوڑدیا یا عبادات لے لیں اور اس کے باقی تمام احکام و قوانین اور باہمی حقوق و فرائض کو چھوڑدیا۔ یہاں تو یہ مطالبہ ہے کہ سوفیصدی اسلام ہونا چاہےے، ایک فیصدی بھی خارج نہیں ہوناچاہےے، کسی قسم کا استثناء یا رعایت نہیں ہے، آپ اپنامحاسبہ کر لیجيے کہ کیا آپ سوفیصدی اسلام پر عمل کر رہے ہیں، کیا آپ کی معاشرت بھی اسلام کے مطابق ہے ، آپ کے رواج، آپ کے رسوم، آپ کی معاشرتی، اجتماعی اور خانگی روایات سب اسلام کے مطابق ہيں ؟

( بحوالہ ماہنامہ ردائے حرم حیدرآباد شمارہ نومبر 2004ء)

 

مذہبی کٹر پن کا طعنہ دینے والے ذرا یہ بات بھی ملاحظہ کریں : ” صبغة اللہ ومن احسن من اللہ صبغة “ ( البقرة : 138 ) ”ہم نے قبول کرلیا رنگ اللہ کا اور کس کا رنگ بہتر ہے اللہ کے رنگ سے “ ۔

 

مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت میں دوباتوں کی طرف اشارہ ہے، ایک تو نصاری کی اس رسم کی تردید ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد اسے ایک خاص قسم کے رنگین پانی میں نہلادیا کرتے تھے اور اسے دین نصرانیت کا پختہ رنگ سمجھتے تھے، اس آیت کے ذریعہ بتلایاگیا کہ یہ رنگ تو عارضی ہے اس کا اثر تو بہت جلد ختم ہوجائے گا، اصل رنگ دین و ایمان کا رنگ ہے جو ظاہری اور باطنی پاکی کی ضمانت بھی ہے اور باقی رہنے والا بھی ہے ، دوسرے دین و ایمان کو رنگ تعبیر فرماکر یہ بھی واضح کیا گیا کہ جس طرح رنگ آنکھوں سے محسوس ہوتا ہے اسی طرح مومن بھی آنکھوں سے نظر آنا چاہےے، اس کے چہرے مہرے سے اس کی تمام حرکات و سکنات اور معاملات و عادات سے دین پوری طرح ظاہر ہونا چاہےے یہ نہیں کہ نام تو مسلمانوں جیسے رکھ لیے لیکن نہ شکل و صورت سے مسلمان لگتے ہیں اور نہ کردار و عمل سے ۔ مولوں ملاﺅں پر مذہبی کٹرپن کا الزام بے سوچے سمجھے لگایا جاتاہے، در اصل کچھ لوگوں کو مولوی ملاﺅں سے خدا واسطے کا بیر ہے جو وقتاً فوقتاًان کی تحریروںاور تقریروں سے جھلکتا رہتاہے، اگر مولوی ملا یہ کہتے ہیں کہ پوری طرح مسلمان بن جاﺅ اور کوئی ایسا عمل نہ کرو جس سے یہ شبہ ہو کہ تم غیرمسلم ہو، تو انصاف کے ساتھ بتلائےے کہ کیا غلط کہتے ہیں، یہ لوگ تو قرآنی ہدایت کی تشریح کرتے ہیں اور اسی کے حکم پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، اگریہ کٹر پن ہے تو یہ محمود بھی ہے اور مطلوب بھی، لیکن اگر مذہبی کٹرپن یہ ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب کا احترام نہ کریں، ان کے عقائد و رسوم اور ان کی شخصیتوں پر کیچڑ اچھالیں، انہیں برا کہیں، دوسرے مذاہب سے وابستہ لوگوں کو حقیر سمجھیں، ان کے انسانی حقوق ادا نہ کریں تو بلا شبہ یہ کٹرپن غلط ہے ، کوئی مسلمان عالم نہ اس طرح کی انتہاپسندی کرتا ہے اور نہ اس کی کسی کو ترغیب دیتا ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*