انٹرویو سے گھبراہٹ کیوں ؟

 کمال توحید بن سعید (کویت )

 

انٹرویوایک ایسا لفظ ہے جو انسان کے اندر غیر محسوس طریقے سے خوف، گھبراہٹ اورسراسیمگی پیدا کر دیتا ہے کہ مبادا اس میں ناکام ہوجائیں، معیار پر کھرے نہ اُتر سکیں…. عموماً انٹرویوسے پہلے اس طرح کے سوالات انسان کومایوس کردیتے ہیں اور یہ گھبراہٹ بنیادی طورپر ناتجربہ کاری، خوداعتمادی کے فقدان،خود پرمایوسی طاری کرلینے اور متعلقہ موضوع کی تیاری نہ ہونے کے باعث پیدا ہوتی ہے ۔

 

گھبراہٹ کو دور کیسے کریں ؟

اب سوال یہ ہے کہ ہم اس گھبراہٹ کودور کیسے کریں ؟اس سلسلے میں چند معاون وسائل پیش خدمت ہیں:

حوصلہ بلند رکھیں : یہ سوچیں کہ اگر کچھ سوالات کے جوابات نہ دے سکیں تو اس سے دنیا تو ختم نہیں ہوجائے گی دوسرے بھی مواقع ملیں گے ۔ خوداعتمادی سے لبریزنظر آئیں جس سے محسوس ہو کہ آپ ملنے والی ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی بنھانے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ اللہ پر اور پھر اپنی معلومات اور تجربات پر کامل بھروسہ رکھیں ۔

متعلقہ میدان میں پوری تیاری ہو : جس میدان میں آپ انٹرویوکے لیے جا رہے ہیں اس کی پوری تیاری ہونی چاہیے ، مکمل تیاری نہ ہونے کے باعث خوداعتمادی ڈگمگانے لگتی ہے ۔

وقت سے پہلے پہنچیں : ہمیشہ انٹرویوکے لیے دیے گئے وقت سے کم ازکم ۵۱ منٹ پہلے پہنچیں تاکہ توازن برقرار رکھ سکیں اور طبعی گھبراہٹ پر قابو پاسکیں، تاخیر ہرگز نہ ہونے پائے کیوںکہ دیر سے پہنچنے والے انسان کو غیر ذمہ دار اور لا ابالی سمجھا جاتا ہے ۔

اچھا لباس پہن کر جائیں : انسان کی شخصیت کو پُراثر اور بارعب بنانے میں لباس کا اہم رول ہوتا ہے اسی لیے عالمی تجارتی منڈیاں اوربڑی بڑی کمپنیاں اپنے ملازمین کے ڈریس پر خاص دھیان رکھتی ہیں ،

ہشاش بشاش بن کر جائیں : انٹرویوکے لیے پروفینشل ڈھنگ سے جائیں ، اثناءانٹرویو شگفتہ طبیعت ، تازہ دم ، ہشاش بشاش اورخوش دل رہیںکیوںکہ خوش دلی انسان کی شخصیت کو پُرکشش بناتی ہے ۔

 

سمجھ کرجواب دیں : انٹرویولینے والے کو سلام کریں گرمجوشی سے مصافحہ کریں (اگر موقع ہو) اور چہرے پر تبسم کھلاہوا رکھیں،جوکچھ پوچھاجائے پہلے سنجیدگی سے اس پر غور کریں پھرسہل اور واضح الفاظ میں اطمینان سے جواب دیں ، جلدبازی نہ کریں ،اگر کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہو تو نفی میں جواب دے دیں،خواہ مخواہ بے تکا جواب دے کر اپناامیج خراب نہ کریں ۔ بھلے ہی آپ کو وہ نوکری نہ مل سکے لیکن آپ کی امیج انٹرویو لینے والے کی نظر میں اچھی بننی چاہیے ۔ اس لیے خود کو cool رکھیں ۔

غیرضروری حرکات سے اجتناب :

(1) انٹرویوکے دوران ملاحظات کو نوٹ نہ کریں ، اور نہ ہی موبائل فون وغیرہ کا جواب دیں بلکہ پہلے ہی موبائل فون کو سائلنٹ میں کردیں ۔

(2) جواب دیتے وقت نہ تمہید باندھیں اور نہ ضرورت سے زیادہ اس میں اضافہ کریں بلکہ سچائی اورامانت داری سے جواب دیں ۔

(3) انٹرویولینے والے کی طرف نظر جمائے رکھیں اور جب بات کر رہاہو تو اس کی بات بغورسنیں ۔

(4) جب تک اجازت نہ مل جائے نہ بیٹھیں اور نہایت شائستہ اور مہذب انداز میں بیٹھیں۔

مکمل جانکاری حاصل کرلیں

جب بھی کوئی offer آئے عہدہ ، تنخواہ ،اور دیگر سہولیات کے بارے میں پوری جانکاری حاصل کرلیں ،اپنی ڈیوٹی کے اوقات کا تعین کرلیں،اور ایسی کسی بھی شرط پر رضامندی کا اظہار نہ کریں جس کے لیے آپ کا دل گواہی نہ دے رہا ہو ۔

نوکری کے selection میں اپنی سہولیات کے ساتھ ساتھ بہترین مستقبل اور پُرسکون ماحول پر بھی غور کریں ، محض ظاہر بینی سے مرعوب نہ ہو ں۔

 

بعض عمومی سوالات جو انٹرویومیں پوچھے جاتے ہیں

اپنی بابت بتائیے : یہاں اپنے بچپن کے حالات مدرسے کی زندگی،اپنی ترجیحات وغیرہ گنانے کی بجائے اپنے حالیہ تجربات اورکارکردگیوں کا ذکر کریں جو آپ کے لیے مطلوبہ وظیفہ میں معاون بن سکتی ہوں تاکہ انٹرویولینے والے کو باور کرایا جاسکے کہ آپ کے اندرمطلوبہ وظیفہ کی پوری اہلیت پائی جاتی ہے ۔

میری کمپنی کی بابت بتائیے : اس سوال کا جواب دینے کے لیے آپ کے پاس کمپنی کی بابت معلومات ہونی چاہیے جو انٹرنیٹ وغیرہ سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔

آپ کی متوقع تنخواہ …. ؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کریں کہ آپ کی نظرمیں اہمیت ڈیوٹی کوحاصل ہے تنخواہ کو نہیں ،اور جواب بھی یوںدیںکہ ”میرے خیال میں …. سے …. تک ہونی چاہیے “ یا یوںکہیں: ”آپ جانتے ہیں کہ فی الحال میں اتنی تنخواہ پاتا ہوںاورہرشخص کے جیسے میں بھی اس میں بہتری کا خواہشمندہوںتاہم میں اولیت کام کو دیتا ہوں تنخواہ کو نہیں“۔

سابقہ وظیفہ ترک کرنے کی وجہ : شخصی اختلاف اور ناچاقی یا کم تنخواہ ہونے کوترکِ وظیفہ کاسبب بتانا مناسب نہیں بلکہ یوں جواب دینا چاہیے: ”بہترین موقع کا حصول میرا مطمح نظر ہے….“

جب آپ سے پوچھا جائے کہ اگر کمپنی میں آپ کو بحال کرلیا گیا تو آپ پانچ سال کے بعد کونسا مقام حاصل کرنا چاہیں گے ؟ تو اس کے جواب میں آپ ان کارکردگیوں کا ذکر کریں جو آپ کمپنی کے لیے انجام دینے کے متمنی ہیں ۔

اخیر میں کوئی استفسار یا اضافہ؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کچھ ایسے سوالات پوچھیں جن سے ظاہر ہو کہ کمپنی کے کام کی نوعیت سے آپ آگاہ ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کمپنی کی بابت اچھی خاصی معلومات رکھتے ہوں ۔اور اضافہ کے جواب میں آپ اپنی ان صلاحیتوں اور تجربات کا ذکر کریں جنہیں انٹرویو کے دوران نہ ذکر کر سکے ہیں ۔اگرآپ نے اس سوال کا جواب ”نفی ‘’ میں دیا تو انٹرویو لینے والے کو خیال ہوگا کہ آپ وظیفہ سے خاص دلچسپی نہیں رکھتے ۔

چلتے چلتے : چند مختصر جملوں میں کمپنی کاشکریہ ادا کریں کہ اس نے آپ کو انٹرویودینے کا موقع فراہم کیا ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*