خوشگوار ازواجی زندگی کے لیے پہلا قدم، اظہارمحبت

  عبداللہ حیدر

 میاں بیوی کے درمیان محبت کے بغیر عائلی زندگی کا پرسکون انداز میں گزرنا مشکل ہے۔ یہی جذبہ ہے جو ایک دوسرے کے لیے قربانی دینے، غلطیوں سے چشم پوشی کرنے، اور دوسرے کی تکلیف کو اپنا درد سمجھنے کی بنیاد بنتا ہے۔زوجین کی باہمی محبت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بڑی نشانیوں میں ذکر فرمایا ہے:”اور اس (اللہ) کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑا بنایا تا کہ تم اس کے پاس سکون حاصل کرو اور اس نے تم (مردوزن کے) درمیان محبت اور رحمت پیدا فرما دی۔ یقینًا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو غورو فکر کرتے ہیں“۔(الروم21)

 

یہ تو طے ہے کہ چند مستثنیات کو چھوڑ کر عمومًا میاں بیوی کے درمیان کسی نہ کسی درجے میں ایسی محبت ضرور ہوتی ہے جو انہیں کسی دوسرے کے ساتھ نہیں ہوتی۔ لیکن خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے کیا صرف اتنا کافی ہے کہ آپ اپنے خاوند یا بیوی سے دل میں محبت رکھتے ہوں؟ نہیں، ہر گز نہیں۔ دل میں چھپی ہوئی محبت آپ کی اپنی تسلی کے لیے کافی ہو سکتی ہے لیکن باہمی تعلقات پر خوشگوار اثرات مرتب کرنے کے لیے زبان سے اس کا اظہار ضروری ہے۔ ہمارے معاشرتی رویے اس بارے میں دوغلاپن کا شکار ہیں۔ شادی کے بغیر نامحرم لڑکیوں سے حرام محبت کی پینگیں بڑھانے پر اتنا اعتراض نہیں لیکن میاں بیوی کا اعتراف محبت اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

 

ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا، میرا ایک دوست دور دراز دیہات کا رہائشی تھا،کہنے لگا : ”شادی کے بعد اسلام آباد میں گھر لوں گا“پوچھا ”کیوں”؟۔ کہنے لگا : ”اس لیے کہ ہمارے علاقے میں میاں بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ مسکرا کر بات چیت کرنا اور اکٹھے بیٹھنا بے حیائی تصور کیا جاتا ہے، والد صاحب فورًا ” کھنگورا” مار دیتے ہیں“۔

 

دیکھتے ہیں کہ ایسی اقدار کیا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق ہیں؟ اگر نہیں تو اس بارے میں قرآن و سنت سے ہمیں کیا راہنمائی ملتی ہے۔

 

عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلى الله عليه وسلم سے سوال کیا:“لوگوں میں آپ کو سب سے پیارا کون ہے؟تو رسول اللہا نے فرمایا: ”عائشہ (مجھے سب سے پیاری ہے )“۔(صحیح بخاری )

 

بیوی سے محبت کا اعتراف کرنا بے حیائی کا کام ہوتا تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کبھی اس طرح نہ فرماتے، یہ ہمارے خودساختہ معیار ہیں جنہوں نے نہ صرف ہمیں ایک سنت سے دور کر رکھا ہے بلکہ کئی نفسیاتی الجھنوں، گھٹن اور بیماریوں کا سبب بن کر خاندانی زندگی کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بیوی سے محبت کا اعتراف دوسروں کے سامنے کرنے سے فوری نتائج نہ ملیں تب بھی اس کا اچھا نفسیاتی اثر ہوتاہے جو مستقبل میں کئی تلخیوں سے بچنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔البتہ خیال رکھنا چاہیے کہ یہ کام مناسب موقع پر اور حکمت کے ساتھ ہو۔ بے موقع اور مبالغہ آرائی پر مشتمل اظہار الٹا گلے بھی پڑ سکتا ہے۔

 

جلوت کے علاوہ خلوت میں بھی بیوی اور خاوند کو ایک دوسرے سے محبت کے دو بول بول لینے چاہیے۔ ہمارے ہاں ایسے مرد و خواتین کی کمی نہیں جو نام نہاد رعب یا غیر ضروری شرم کی وجہ سے اس قسم کی بات کرنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔ لیکن رہبر کامل ا کی حیات مبارکہ ان تکلفات سے کوسوں دور تھی۔ایک دفعہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک شخص ابوزرع کا قصہ بیان کیا جواپنی بیوی ام زرع سے بہت محبت کرتا تھا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے ام المومنین رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”میں بھی تیرے لیے ایسا ہی ہوں جیسا ابوزرع ام زرع کے لیے تھا“۔(صحیح بخاری)

 

بیوی یا خاوند کے لیے جو محبت آپ کے دل میں ہے اسے باہر آنے دیجیے۔ I Love You ایسا جملہ ہے جو عائلی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی لا سکتا ہے۔ زوجین کبھی کبھار ایک دوسرے کو نام لے کر پکاریں تو عجیب سی اپنائیت اور محبت کا جذبہ محسوس ہوتا ہے۔جس سے محبت ہو اس کا نام لے کر انسان فطری طور پر خوش ہوتا ہے۔

 

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیار سے “عائش” کہہ کر بلایا کرتے تھے، حدیث میں ہے: ”عائش! یہ جبریل ہیں جو تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“۔ (صحیح مسلم )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*