سیرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ

تحریر : محمد انور محمد قاسم سلفی(کویت )

 خانوادہ تصوف میں جو مقام ومرتبہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کو حاصل ہے وہ شاید کسی اور کو نہیں ، اﷲ تعالیٰ نے آپ کو یہ قبولِ عام اور یہ اعلیٰ مرتبت، اپنے فضل وکرم کے بعد آپکے اپنے علم وعمل ، ورع وتقویٰ ، اتباع کتاب وسنت اور شرک وبدعات سے براءت کے نتیجے میں عطا فرمایا

 

ولادت با سعادت

آپ کی ولادت با سعادت یکم رمضان المبارک 470 ھ کو جیلان کے ایک قصبہ نیف(NIFF) میں ہوئی ،جوکہ ایران میں بحر قزوین کے جنوب میں ایک پر فضا مقام ہے ،آپ کے والد کا نام ابو صالح(موسیٰ ) تھا ، آپ نہایت ہی متقی وپرہیز گار تھے ، اپنے وقت کے نہایت صالح بزرگ اور عالم دین حضرت عبد اﷲ صومعی کے باغ میں کئی سال ملازم رہے لیکن باغ کے کسی پھل کو کبھی چکھا تک نہیں ، ایک مرتبہ باغ کے مالک نے آپ سے میٹھا انار لانے کے لیے کہا تو آپ ایک ایسا انار توڑ لائے جو نہایت ہی کھٹّا تھا ، مالک نے کہا : تم اتنے دن سے ملازم ہو اور تمہیں اتنا بھی پتہ نہیں کہ کونسا انار میٹھا ہوتا ہے اور کونسا کھٹا ؟ آپ نے سر جھکا کر جواب دیا : آپ نے تو مجھے باغ کی چوکیداری پر رکھا تھا ، پھلوں کے کھانے پر تو نہیں ، اﷲ کی قسم ! میں نے کبھی آپ کے باغ کے کسی پھل کو چکھا تک نہیں

حضرت عبد اﷲ صومعی کو اپنی بچی فاطمہ ام الخیر کے لیے کسی نیک رشتے کی تلاش تھی، انہوں نے دیکھا کہ جس کی تلاش میں وہ سرگردان ہیں وہ گوہر گراں مایہ خود انہی کے گھر میں موجود ہے ، آپ نے اپنی بچی سیدہ کا نکاح حضرت ابو صالح سے کردیا ، آپ کی والدہ ماجدہ بھی نہایت عالمہ فاضلہ اور صاحب ورع وتقویٰ خاتون تھیں ، آپ کا سلسلہ نسب والد اور والدہ دونوں جانب سے گیارہویں پشت پر سیدنا علی بن ابی طالب رضي الله عنه سے مل جاتا ہے ، آپ اپنے والد کی جانب سے حسنی اور والدہ ماجدہ کی جانب سے حسینی ہیں

 

تعلیم وتربیت

آپ کی پرورش علم کے گود میں ہوئی ، آپ کے نانا محترم وقت کے مشہور عالم دین اور زہد وتقویٰ کا مرقع تھے ، بچپن میں ہی آپ نے قرآن مجید حفظ کرلیا اور پھر نانا محترم کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ، پندرہ سال کی عمر میں آپ نے علوم دینیہ کی تکمیل کرلی ، والد محترم بچپن میں ہی انتقال فرماگئے تھے ، اس لیے کسب معاش کی ذمہ داری بڑے بھائی اور آپ پر آن پڑی ، والد صاحب کی چھوڑی ہوئی زمین میں کچھ دن کھیتی باڑی کی ، لیکن دل برابر یہ کہہ رہا تھا کہ :” اے عبد القادر ! تو اس لیے نہیں پیدا ہوا ہے کہ ہل جوتے “۔ جب آپ کی عمر اٹھارہ سال کی ہوئی تو یہ احساس اور شدت اختیار کرگیا ، پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر آپ نے حصول علم کی غرض سے بغداد کے سفر کی والدہ محترمہ سے اجازت مانگی ، والدہ پہلے تو پریشان ہوگئیں ، اس لیے کہ ان کا لال جس عمر میں ان سے اجازت مانگ رہا ہے اس سے اس بات کی امید کم ہی نظر آرہی تھی کہ دونوں کی ملاقات پھر اس دار فانی میں ہو ، لیکن بیٹے کے علم کی تڑپ نے ماں کو مجبور کردیا ، اور ماں نے آپ کو بخوشی بغداد کی طرف رخت سفر باندھنے کی اجازت دی اوراپنی جمع پونجی نکالی تو اس میں اسّی دینار نکلے ، والدہ نے اپنا سارا سرمایہ بیٹے کے ہاتھ میں رکھ دیا ، لیکن آپ نے بڑے بھائی کا حصہ چالیس دینار واپس کردیا ،پھر والدہ نے اخراجات کے لیے چالیس دینار ایک تھیلی میں ڈال کر اسے اچھی طرح آپ کے کرتے میں بغل کے نیچے والے حصے میں سل دئے ، تاکہ چوروں اور لٹیروں کی نگاہ سے محفوظ رہے اور چلتے چلتے آخری نصیحت یہ فرمائی :” بیٹا ! حالات چاہے جیسے بھی ہوں ، کبھی جھوٹ نہ بولنا “۔ اور پھر باچشم نم اپنے نور نظر کو ” اﷲ حافظ “ کہا۔

 

پہلا امتحان اور پہلی کرامت

تجارتی قافلہ جیلان سے نکلا اور ہمدان تک کا سفر نہایت خوشگوار طے ہوا ہمدان میں کچھ دن پڑاؤ ڈال کر وہاں سے بغداد کے لیے روانہ ہوا ، پھر آگے کی روئیداد خود حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کی زبانی سنئے ،فرماتے ہیں :

” میں نے اپنی زندگی کی شروعات ہی سچائی سے کی ، وہ اس طرح کہ میں حصولِ علم کی خاطر جیلان سے بغداد چل پڑا ، میری والدہ نے مجھے اخراجات کے لیے چالیس دینار دئے اور مجھ سے ہر حال میں سچ بولنے کا وعدہ لیا ، ایک لمبی مسافت طے کرنے کے بعد ایک مقام پر ڈاکوؤں کی ایک جماعت نے گھیر لیا ، اور اعلان کردیا کہ جس کے پاس جو بھی نقدی اور سونا چاندی وغیرہ ہے وہ ہمارے حوالے کردے ،تاجروں کا حال یہ تھا کہ وہ اپنی قیمتی اشیاءچھپا رہے تھے ، اور اﷲ کی قسمیں کھا کھا کر ڈاکوؤں کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش میں لگے تھے کہ ان کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں ، وہ انہیں مار مار کر ان سے سچ اگلوا رہے تھے ،ایسے میں ایک ڈاکو میرے پاس آیا اور پوچھا : ” تیرے پاس کیا ہے ؟ میں نے کہا : ”میرے پاس چالیس دینار ہیں“ اس نے سمجھا میں اس کے ساتھ مذاق کررہا ہوں ،اس لیے کہ نہ تو مجھ میں تاجرانہ شان تھی اور نہ ہی مال ومتاع کی کوئی پہچان، میرا لباس معمولی اور میرے پاس کپڑوں کی ایک چھوٹی سی گٹھری کے سوا اور کچھ نہ تھا ، وہ مجھے چھوڑ کر نکل گیا، دوسرا آیا ، اس نے بھی وہی سوال کیا ، میں نے اسے بھی وہی جواب دیا : وہ مجھے لے کر اپنے سردار کے پاس آیا ، اس نے مجھ سے پوچھا ‘ تو میں نے وہی جواب دیا اور ساتھ ہی وہ جگہ بھی بتلادی جہاں یہ دینار سلے ہوئے تھے ، ڈاکوؤں کے سردار نے جس کا نام عبد اﷲ بدوی تھا،مجھ سے پوچھا : ” تم نے سچ کیوں کہا ؟ میں نے کہا :

” میری ماں نے چلتے وقت مجھ سے عہد لےا تھا کہ میں ہرحال میں سچ کہوں، اگر میں جھوٹ کہتا تو میری ماں کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی خیانت ہوجاتی “ ۔

میری بات سن کر سردار پر رقّت طاری ہوئی ، اس نے اپنا سر پیٹ ليا ،کپڑے پھاڑ لیے اور چیخ کر کہا :

” ایک تو ہے کہ اپنی ماں سے کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی کرنے سے ڈرتا ہے اور ایک میں ہوں کہ اﷲ تعالی کے عہد میں خیانت کرتے ہوئے نہیں ڈرتا ؟ “۔

پھر اس نے لوٹی ہوئی چیزوں کو واپس کرنے کا حکم دیا اور کہا :” میں آج سے اس پیشے سے آپ کے ہاتھ پر توبہ کرتا ہوں “

یہ دیکھ کر اس کے ساتھیوں نے کہا :” تو آج تک ڈاکے میں ہمارا سردار تھا اور آج توبہ میں بھی ہمارا سردار بن گیا “ غرضیکہ تمام ڈاکو سچائی کی برکت سے نکوکار بن گئے ۔( تربیة الاولاد فی الاسلام )

 

اور یہ بہت بڑی کرامت تھی جو نوخیزی کی عمر میں اﷲ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں جاری کرادیا کہ آپ کو وجہ سے ڈاکووں کو ہدایت ملی اور اہل قافلہ کو ان کا لوٹا ہوا سامان واپس مل گیا، اس لیے کہ ہداےت سے بڑی خےرات اس کائنات مےں اور کچھ نہےں ، جیسا کہ رسول اﷲ انے سیدنا علی بن ابی طالب صکو خیبر کے دن معرکہ پر بھیجتے ہوئے فرمایا : اگر اﷲ تعالیٰ تمہارے ذريعہ کسی ايک انسان کو ہدايت دے تو يہ تمہارے حق ميں سُرخ اونٹوں سے بھی کہيں زيادہ بہتر ہے ۔( متفق عليہ)

 

بغداد میں ورود با مسعود

بغداد میں آپ نے وقت کے معروف مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لیا اور وقت کے اساطین علم وعمل سے کسب فیض کیا ،چند ہی سال کے عرصے میں علوم اسلامیہ کے عالم بے بدل ہوگئے ، لیکن حدیث نبوی سے بے پناہ والہانہ لگاؤ تھا ، اسی لیے زندگی بھر بغداد میں درس حدیث دیتے رہے ۔

 

آپ تا دم زیست متبع کتاب وسنت ، توحید کے علم بردار اور شرک وبدعات سے بری اور بیزار رہے ، آپ کا نعرہ تھا : لا معبود الا اﷲ ولا دلیل الا رسول اﷲ یعنی اﷲ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ، اور محمد ا کے سوا اور کوئی حجت اور دلیل نہیں “۔

 

جاہلوں اور نادانوں نے آپ کی زندگی میں ہی بہت سی کرامتوں کو آپ سے منسوب کردیا تھا ۔

 

آپ کی کرامتوں کی شہرت سے متاثر ہوکر ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور سترہ سال آپ کی خدمت میں رہ کر علم وعمل سیکھتا رہا ، لیکن آپ کی زندگی میں وہ کرامتیں نہیں پائیں جن کی شہرت کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بج رہا تھا ، وہ مایوس ہوکر ایک دن اپنا بوریا بستر گول کررہا تھا کہحضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ وہاں پہنچ گئے اور فرمایا :” کہاں کا ارادہ ہے ؟“وہ کہنے لگا : ”حضرت ! آپ کی کرامتوں کی شہرت نے مجھے یہاں کھینچ لایا تھا ، لیکن سترہ سال کے عرصے میں میں نے کسی بھی کرامت کا مشاہدہ نہیں کیا ، اس لیے رخصت ہورہا ہوں “ آپ نے فرمایا : ”اس سترہ سال کے عرصے میں تم نے مجھے کوئی فرض چھوڑتے ہوئے دیکھا ہے ؟کیا کوئی سنت مجھ سے رہ گئی ہے ؟ کسی منکر یا مکروہ کو بجا لاتے ہوئے دیکھا ہے ؟کسی معروف سے کنارہ کشی کا مشاہدہ کیا ہے ؟ “

 

وہ کہنے لگا :” حضرت ! اس طرح کی کوئی بات میں نے آپ میں نہیں دیکھی “آپ نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے فرمایا : ” جا یہی میری سب سے بڑی کرامت ہے “۔

 

حقیقت بھی یہی ہے کہ راہ ِ ہدایت پر استقامت سب سے بڑی کرامت ہے ،مشہور مفکر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی  رحمه الله  لکھتے ہیں :

 

” حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کی سب سے بڑی کرامت ، مردہ دلوں کو زندہ کرنا ، ان میں ایمان اور خشیت الٰہی کے بیج بونا اور مردہ دلوںمیں ایمانی حرارت پیدا کرناہے ، آپ کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے بے شمار انسانوں کو حیات ایمانی عطا فرمائی، آپ کے مواعظ حسنہ اور تربیت سے ایمان کی ایسی باد نسیم چلی کہ مردہ دلوں کو زندگی بخشی، بیمار دلوں کو شفا یابی بخشی اور آپ کے ذریعہ عالم اسلام میں ایمان ، تقویٰ اور اخلاق فاضلہ کی بہار آگئی۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو عالم اسلام کی دینی اور روحانی سربراہی عطا فرمائی، اپنی دعوت کی نشر واشاعت کے لیے آپ نے بغداد کو چنا ، جو اس وقت خلافت عباسیہ کا پایہ تخت ، عالم اسلام کا دھڑکتا ہوا دل اور ساری دنیا میں سب سے بڑی آبادی والا شہر تھا ، صرف اسی بات سے ہی اس شہر کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کے وعظ وارشاد کی مجلسوں میں ستّر ہزار سے زیادہ لوگ شریک ہوتے تھے “۔( تاریخ دعوت وعزیمت )

 

توحید کی دعوت

حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ نے ساری زندگی توحید کا درس دیا اور ساری انسانیت کو شرک ، بت پرستی ، قبر پرستی اور غیر اﷲ سے استغاثہ اور استمداد سے روکتے رہے ، فرماتے ہیں :

 

(1) ” مخلوق کو خالق کے ساتھ شریک کرنا چھوڑ دے ، اور حق تعالیٰ کو یکتا سمجھ ، وہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے ، اسی کے ہاتھ میں تمام اشیاءہیں، اے غیر اﷲ سے کسی چیز کے مانگنے والے ! تو بے وقوف ہے ، کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اﷲ کے خزانوں میں نہ ہو ؟ اﷲ عزوجل فرماتا ہے :” کوئی بھی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں “ ( یعنی ہر چیز کے خزانے اس کے پاس ہیں ) “ ( فیوض یزدانی :مجلس نمبرا صفحہ 25)

 

(2) ”بہادر وہی ہے جس نے اپنے قلب کو ما سوا اﷲ سے پاک بنایا اور قلب کے دروازے پر توحید کی تلوار اور شریعت کی شمشیر لے کر کھڑا ہوگیا کہ مخلوق میں سے کسی کو بھی اس میں داخل ہونے نہیں دیتا ، اپنے قلب کو مقلب القلوب سے وابستہ کرتا ہے ، شریعت اس کے ظاہر کو تہذیب سکھاتی ہے اور توحید ومعرفت باطن کو مہذب بناتی ہے“

( فیوض یزدانی :مجلس نمبر31 صفحہ 88 )

 

(3) ”تو کب تک مخلوق کو شریک خدا سمجھتا اور ان پر بھروسہ کرتا رہے گا ؟ تجھ پر یہ جاننا واجب ہے کہ ان میں سے کوئی بھی نہ تجھ کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان ، ان کا محتاج وتونگر اور معزز وذلیل سب برابر ہیں ، حق تعالیٰ کا آستانہ پکڑ لے ، نہ مخلوق پر بھروسہ کر اور نہ اپنے کسب پر اور طاقت وزور پر ، بس حق تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کر ، اسی ذات پر بھروسہ کر جس نے تجھ کو کسب پر قدرت بخشی اور تجھ کو کمانا نصیب فرمایا ، پس تو جب ایسا کرے گا وہ تجھ کو اپنے ساتھ سیر کرائے گا اور اپنی قدرت وعلم ازلی کے عجائبات دکھائے گا، تیرے قلب کو اپنے تک پہنچائے گا “۔(فیوض یزدانی :مجلس نمبر48 صفحہ 85)

 

محترم قارئین !یہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کے وہ ملفوظات ہیں جو آپ نے اپنی مجلسوں میں حاضرین اور شاگردوں کے حلقوں میں دئیے ۔ذرادیکھئے آپ کے ان الفاظ میں خالص توحیدکی بوٹپکتی ہے ، عبادت اور بندگی کے تمام اقسام صرف اﷲ کے لیے خاص کردئیے گئے ہيں ، مشرکوں ، ملحدوں، غیر اﷲ کو پکارنے والوں ، مخلوق سے حاجت روائی کی امید رکھنے والوں کی مذمت کی گئی ہے اور اس سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔

 

غوثِ اعظم اﷲ ہے

لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اﷲ علیہ کی ان تعلیمات کو فراموش کردیا خود ان کو اﷲ کا شریک قرار دے کر انہیں ” غوث اعظم “ اور ” دستگیر “ وغیرہ جیسے خطابات دے ڈالا ، جو صرف اﷲ تعالیٰ کے لیے ہی مخصوص ہیں اور پھر ان سے استمداد اور استغاثہ کرنے لگے ،ان سے رزق، اولاد ،برکتیں طلب کرنے لگے اورحاجت براری کی دہائی دینے لگے ، حالانکہ فریادصرف اﷲ تعالیٰ ہی سے کی جا سکتی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور جب تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے تو اس نے تمہاری سن لی“(انفال : 10)

 

ایک حدیث میں سیدنا عبادہ بن صامت صسے مروی ہے کہ رسول اﷲ اہماری جانب نکلے تو سیدنا ابوبکرص نے صحابہ کرام ثسے کہا : اٹھو تاکہ ہم اس منافق کے خلاف رسول اکرم  صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں فریاد کریں “یہ سن کر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :” استغاثہ ( فریاد طلبی ) مجھ سے نہیں اﷲ تعالیٰ سے کیا جاتا ہے “(مسند احمد : 21648) نیز آپ انے اپنی لخت جگر نور نظر سیدہ فاطمہ رضي الله عنها کو صبح شام یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا تھا:

 

” یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحمَتِکَ اَستَغِیثُ، اَصلِح لِی شَانِی کُلَّہُ ، وَلاَ تَکِلنِی اِلٰی نَفسِی طَرفَةَ عَینٍ“ (صحیح الترغیب والترھیب :661) ترجمہ : ” اے وہ جو کہ زندہ ہے ! اے ( زمین وآسمان کو ) قائم رکھنے والے ! میں تیری رحمت کے ساتھ مدد کا طلبگار ہوں، میرے تمام معاملات کو میرے لیے درست کردے ، اور مجھے ایک پل کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ فرما “ ۔

 

بیماری اور وفات

جب آپ کی عمر 91 سال کی ہوئی تو ایک دن طبیعت میں کچھ گرانی محسوس فرمایا تو آپ کے لڑکے عبد الجبار نے پوچھا : ابّا جان! آپ کے جسم میں درد تو نہیں ؟ فرمایا ! میرے بچے ! میرے دل کے سوا سارے جسم میں درد ہے ، دل کو میں نے اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول کررکھا ہے ، پھر آپ کی زبان سے وعلیکم السلام ورحمة اﷲ وبرکاتہ کے الفاظ نکلے ، پھر آپ پر موت کی کیفیت طاری ہوئی اور زبان سے جو الفاظ نکلے ان کا ترجمہ یہ ہے :

 

” میں اس اﷲ تعالیٰ کی ذات سے مدد طلب کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہی زندہ ہے جسے کبھی موت نہیں آتی اور نہ جسے موت کا خوف ہے ، اس کی ذات پاک ہے جس نے اپنی قدرت سے غلبہ حاصل کررکھا ہے اور جس نے موت کے ذریعے اپنے بندوں کو قابو میں کر رکھا ہے “۔

 

پھر زبان سے نکلا” لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ “ پھر تین بار” اﷲ اﷲ اﷲ“ اور پھر رفیق اعلیٰ سے جا ملے ۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون

آپ کی تاریخ وفات میں اختلاف ہے لیکن اکثر علماءنے آپ کی تاریخ وفات 11 ربیع الثانی 561 ھ قرار دیا ہے

آپ کی شان میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمه الله  فرماتے ہیں :

” مشہور صوفیاءمیں حضرت جنید بغدادی رحمه الله اور شیخ عبد القادر جیلانی رحمه الله کے متبعین شرعی احکامات کے سب سے زیادہ پابند ہیں ، بلکہ شیخ عبد القادر جیلانی  رحمه الله کا ساری تعلیمات شریعت کی اتباع ، محظور (بدعات وخرافات )سے دوری اور مقدور (قضاءوقدر سے لاحق ہونے والی تکالیف ) پر صبر کے گرد ہی گھومتی ہیں “۔  ( مجموع الفتاویٰ :10/507)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*