نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی کثرت ازواج کے مصالح

 ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 

اسلام کے مخالفین کی ایک کوشش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد صلى الله عليه وسلم  کی سیرت طیبہ کو داغدار کردیں اور اسے انتہائی گھناؤنی شکل میں پیش کریں ۔ یہ کوشش ہندوستان میں عیسائی مشنریوں کی جانب سے بھی کی جاتی رہی ہے اور نام نہاد ہندو پرچارکوںکی جانب سے بھی۔ ان لوگوں نے سیرت نبوی کے ازدواجی پہلو کو خاص طور سے اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، ان کے نزدیک رسول کریم صلى الله عليه وسلم کی ازواج مطہرات کی کثرت کا سبب آپ کی خواہش نفسانی کا غلبہ تھا ۔ اس سلسلے میں انہوں نے بعض اعتراضات بھی کیے ہیں ۔ سطور ذیل میں ان کا جائزہ لیا جائے گا ۔

 

رسول کریم  صلى الله عليه وسلم کی گیارہ ازواج تھیں ان میں سے دو حضرت خدیجہ رضي الله عنها اور حضرت زینب رضى الله عنها کا انتقال آپ صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ میں ہوگیا تھا ان کی تفصیل درج ذیل ہے :

                        

 

نام زوجہ : حضرت خدیجہ  رضي الله عنها   پہلے شوہر: عتیق بن عائذ ، ابوہالہ   نکاح کے وقت حضور کی عمر:  25سال

نام زوجہ : حضرت سودہ رضي الله عنها     پہلے شوہر: سکران بن عمرو         نکاح کے وقت حضور کی عمر: 50سال

نام زوجہ : حضرت عائشہ رضي الله عنها    پہلے شوہر:            ×               نکاح کے وقت حضور کی عمر: 53سال

نام زوجہ : حضرت حفصہ رضي الله عنها    پہلے شوہر: خنیس بن حذافہ       نکاح کے وقت حضور کی عمر:   55سال

نام زوجہ : حضرت زینب بنت خزیمہ رضي الله عنها   پہلے شوہر:  طفیل بن حارث، عبیدہ بن حارث،عبداللہ بن جحش نکاح کے وقت حضور کی عمر:    55سال6

نام زوجہ : حضرت ام سلمہ رضي الله عنها  پہلے شوہر:  عبداللہ بن عبدالاسد  نکاح کے وقت حضور کی عمر:   56سال

نام زوجہ : حضرت زینب بنت جحش رضي الله عنها پہلے شوہر:     زید بن حارثہ  نکاح کے وقت حضور کی عمر:    57سال

نام زوجہ : حضرت جویریہ رضي الله عنها   پہلے شوہر:   مسافح بن صفوان نکاح کے وقت حضور کی عمر:  57سال

نام زوجہ : حضرت ام حبیبہ رضي الله عنها  پہلے شوہر: عبیداللہ بن جحش   نکاح کے وقت حضور کی عمر:    58 سال

نام زوجہ : حضرت صفیہ رضي الله عنها  پہلے شوہر: سلام بن مشکم قرضی ، کنانہ بن ابی حقیق نکاح کے وقت حضور کی عمر: 59 سال

نام زوجہ : حضرت میمونہ رضي الله عنها    پہلے شوہر: مسعود بن عمرو، ابورہم بن عبدالعزی نکاح کے وقت حضور کی عمر:   59 سال

 

حضورکی ازدواجی زندگی پر ایک نظر گزشتہ تفصیل سے چند باتیں بہت ابھر کر سامنے آتی ہیں

(۱) آں حضرت صلى الله عليه وسلم  نے 25 سال کا عرصہ تجرد اور عفت وپاکبازی سے گزارا ۔

25 سال کی عمر میں ایک ایسی خاتون (حضرت خدیجہ رضي الله عنها) سے نکاح کیا جو عمر میں آپ صلى الله عليه وسلم سے پندرہ سال بڑی تھیں ،آپ سے پہلے یکے بعد دیگرے دو شوہروں کی بیوی رہ چکی تھیں اور صاحبِ اولاد تھیں۔

پچاس سال کی عمرتک (یعنی پورے 55 سال) اسی ایک رفیقہ حیات پر قانع رہے اور کسی دوسری خاتون سے نکاح کی خواہش تک کا اظہار کبھی نہیں ہوا۔

حضرت خدیجہ رضي الله عنها کی وفات کے بعد ‘اپنی عمر کے پچاسویں سال جس خاتون (حضرت سودہ ؓ) سے نکاح کیا وہ آپ کی ہم سن اور بیوہ تھیں ۔ بقیہ 9 ازواج مطہرات سے آپ کا نکاح 53سال کی عمر سے 60 سال کی عمر کے درمیانی عرصہ میں ہوا

 

یہ ساری خواتین (سوائے حضرت عائشہ رضي الله عنها کے ) ایک دو یا تین شوہروں کی بیویاں رہ چکی تھیں ۔

اپنی عمر کے آخری تین سالوں میں‘جب کہ جزیرة العرب کے بڑے حصے پرآپ کا اقتدار قائم ہوچکا تھا ‘آپ نے کوئی نکاح نہیں کیا ۔

درج بالا تفصیلات معترضین کے اس اعتراض کی جڑ کاٹ دیتی ہیں کہ آں حضرت  صلى الله عليه وسلم کی کثرت ازواج کا سبب خواہش نفسانی کا غلبہ تھا ۔

کیا یہ الزام اس شخص پر لگایا جا سکتا ہے جس نے اپنی جوانی کے ایام صرف ایک خاتون کی رفاقت میں گزارے ہوں اور وہ بھی ایسی جو عمر میں اس سے پندرہ سال بڑی ہو اور اس سے پہلے دو شوہروں کی بیوی رہ چکی ہو ؟ !

 

اس مسئلہ پر دو اور پہلووں سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

ایک یہ کہ اگر آپ پر خواہش نفسانی کا غلبہ تھا تو اس کی تکمیل کا

بہترین موقع وہ تھا جب دعویٰ نبوت کے پانچویں چھٹے سال آپ کے مخالفین آپ کی دعوت کو روکنے میں پورازور لگا رہے تھے اورآپ کے سامنے پیش کش کررہے تھے کہ اگر تمہاری اس دعوت کا کوئی دنیاوی مقصد ہے تو ہم تمہیں اپنا سردار بنا لیتے ہیں ، تمہارے قدموں میں مال ودولت کا ڈھیر لگا دیتے ہیں اور عرب کی حسین ترین عورت سے تمہارا نکاح کیے دیتے ہیں لیکن آپ نے ان کی اس پیش کش کو ٹھکرا دیا (تفسیر ابن جریر30187)

اس وقت آپ کے نکاح میں پچپن سال کی ایک بوڑھی خاتون (حضرت خدیجہ رضي الله عنها ) تھیں ۔

دوسرے یہ کہ حضورکے زمانے میں آپ صلى الله عليه وسلم  کے مخالفین آپ صلى الله عليه وسلم پر طرح طرح کے الزامات لگائے ، شاعر کہا،مجنون اور سحرزدہ کہا، خواہشِ اقتدار کا طعنہ دیا اور دوسرے الزامات عائد کیے ، مگر آپ کے کٹر سے کٹر دشمن کو بھی آپ پر نفسانی ہوس کا الزام لگانے کی ہمت نہ ہوئی ۔ اگر انہوں نے آپ کی ذات میں ادنی سا شائبہ محسوس کیا ہوتا تو آپ کے خلاف پروپیگنڈا کا ان کے ہاتھ اس سے بہتر حربہ کوئی اور نہ ہو سکتا تھا ۔

 

کثرت ازواج معیوب نہیں

قدیم زمانے میں کثرت ازواج معیوب نہیں تھی ۔ مختلف پیغمبروں کی ایک سے زیادہ ازواج ہونا ثابت ہے ۔ اسی طرح مختلف قوموں کے برگزیدہ اور سربرآوردہ لوگ ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے تھے مثلاً :حضرت ابراہیم عليه السلام کی تین بیویاں تھیں :سارہ ،ہاجرہ ، اورقتورہ (پیدائش 16:24،18:15،25:1)

حضرت یعقوب عليه السلام کی چار بیویاں تھیں : لیاہ ، زلفہ، زاخل اور بلہاہ(پیدائش:29:23،24،28،29)

حضرت موسی عليه السلام کی چار بیویاں تھیں :صفورہ ،حبشیہ،قینی اور بنت حباب(خروج:2،21 قاضیوں1:16،4،16)

حضرت داؤد عليه السلام  کی نو بیویوں کا نام ملتا ہے(سموئیل اول 18:27 سموئیل دوم 3:2۔5،5:13،11:26)

حضرت سلیمان عليه السلام کی سات بیویوں او رتین سو حرموں کا تذکرہ ملتا ہے (سلاطین اول 11:3)

راجہ دسرتھ کی تین بیویاںتھیں : پٹ رانی کوشلیہ ، رانی سمترا اور رانی کیکئی ۔ کرشن جی کی لاتعداد گوپیوں کے علاوہ ان کی رانیوں کی تعداد اٹھارہ تھی ۔ راجہ پانڈو کی دو بیویاں تھیں۔ (رحمةللعالمین 2148۔152)

عہد جاہلیت میں بھی بیویوں کی کوئی حد مقررنہ تھی ۔ لوگ جتنی عورتوں سے چاہتے نکاح کرلیتے تھے ۔ قبیلہ  ثقیف کے ایک رئیس غیلان بن سلمہ نے اسلام قبول کیا‘اس وقت اس کے نکاح میں دس عورتیں تھیں (ترمذی)

حارث بن قیس بن عمیرہ الاسدی کے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں(ابوداؤد) نوفل بن معاویہ الدیلی کے یہاںپانچ عورتیں تھیں(تفسیر ابن کثیر1451المکتبہ التجاریہ الکبری مصر)

مورخ ابن حبیب نے قبیلہ ثقیف کے ایسے متعدد افراد کا تذکرہ کیا ہے جن کے نکاح میں بعثت نبوی کے وقت دس دس عورتیں تھیں ۔ (المحبّر،البغدادی ،حیدرآبادص 157)

 

قرآن نے چار کی حد مقرر کی :

قرآن نے مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چار بیویاں رکھنے کی اجازت دی اور اس کو بھی عدل کی شرط کے ساتھ مشروط کیا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :

”تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں دو دو ، تین تین ، چار چار سے نکاح کرلو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہوکہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکوگے توپھر ایک ہی بیوی کرو “(النساء3)

چناں چہ جن لوگوں کی چار سے زیادہ بیویاں تھیں ، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے جن کو چاہیں بیوی کی حیثیت سے باقی رکھیں ، بقیہ کو طلاق دے دیں ۔

 

نبی صلى الله عليه وسلم کو اس حکم سے مستثنی رکھا گیا :

آیت بالا کے نزول کے وقت آں حضرت صلى الله عليه وسلم کے گھر میں بھی چار ازواج مطہرات ( حضرت سودہ رضي الله عنها،حضرت عائشہ رضي الله عنها ،حضرت حفصہ رضي الله عنها اور حضرت ام سلمہ رضي الله عنها) تھیں ۔ (حضرت خدیجہ رضي الله عنها اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضي الله عنها کا انتقال ہوچکا تھا ) لیکن اللہ تعالی نے آپ صلى الله عليه وسلم کو حکم سے مستثنی رکھا اور آپ کو چار سے زیادہ خواتین سے نکاح کرنے کی اجازت دی ۔

چناں چہ جب آپ نے پانچویں خاتون (حضرت زینب بنت جحش رضي الله عنها ) سے نکاح کیا اس وقت قدرتی طور پر بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھا ہوگا کہ آں حضرت ا جب دوسروں کے لیے بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں رکھنا ناجائز قرار دیتے ہیں تو خود یہ پانچواں نکا ح کیسے کر لیا ۔ ممکن ہے بعض مخالفوں نے اس کو بنیاد بناکر فتنہ پھیلانے کی کوشش کی ہو ‘ اس موقع پر قرآن نے صراحت کی کہ تعددازدواج کی تحدید سے آپ مستثنی ہیں : وَامرَاَةً مُّومِنَةً اِن وَہَبَت نَفسَہَا لِلنَّبِیِّ اِن اَرَادَ النَّبِیُّ اَن یَستَنکِحَہَا خَالِصَةً لَّکَ مِن دُونِ المُومِنِینَ (الاحزاب 50)”اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبی کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نبی انہیں نکاح میں لینا چاہے۔ یہ رعایت خاص تمہارے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے“

 

(اس تخصیص کی حکمت کیا تھی اور آں حضرت صلى الله عليه وسلم کے تعددازواج کے پس پردہ کیا مصلحتیں کارفرما تھیں ؟ ان شاءاللہ بالتفصیل اگلے شمارہ میں ملاحظہ فرمائیں گے ۔ )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*