مسکراتے چہرے

 

مولانا مختاراحمد ندوی رحمه الله

 

ایک نیا شادی شدہ جوڑا اپنی خوشگوار ومسرور ومطمئن زندگی کے مستقبل کے بارے میں مشورے ، ہدایات ،دعاؤں اور نصیحتوں کے لیے میرے پاس آیا ، میں نے اس کی اس سعادتمندی پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ‘ سب سے پہلے انہیں شادی کی مبارکباد دی اور انہیں قرآن مجید کی یہ آیت سنائی : جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو گا‘ تو ہم اس کو اس دنیا میں پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور آخرت میں ان کے اعمال کا نہایت اچھا بدلہ دیں گے ۔

 عورت سے کہا : تمہارے شوہر تمہاری ازدواجی زندگی میں سب سے زیادہ ذمہ دار فرد ہیں ۔ ان کی اطاعت اور محبت خوشی کے ساتھ قبول کرو ، اب اللہ کے بعد یہی تمہارے سب کچھ ہیں ، یہ سربراہی اللہ نے انہیں سونپی ہے ۔

 شوہر سے کہا : تمہاری بیوی اس کائنات میں تمہاری سب سے بڑی متاع حیات ہے ۔ آنحضرت ا نے اسے یہ سعادت بخشی ہے فرمایا : خیرمتاع الدنیا المراة الصالحة دنیا کی بہترین پونجی نیک عورت ہے ۔ بہترین اور مثالی شوہر وہ ہے جو اپنی بیوی اور بچوں کے لیے بہتر ہو ، تمہاری شرافت کا تقاضا ہے کہ ….

 (1) تم بیوی کے عیوب مت تلاش کرنا خواہ وہ کھانا ہو یا لباس یا پھر گفتگو ۔

 (2) بیوی کے ساتھ ہمیشہ درگذر اور معاف کرنے کا معاملہ رکھو۔

(3) تم بیوی کو محبت اور پیار کے ساتھ پکارو ، جیسے آنحضرت صلى الله عليه وسلم حضرت عائشہ ؓ کو ”حمیراء“ کہہ کر پکارتے تھے ۔

(4) مرد گھر کا سردار ہے ، اسے عدل وانصاف، محبت اور حسن سلوک کا برتاو ¿ کرنا چاہیے ۔

(5) بیوی کی محبت اور خدمات کا اعتراف کرنا چاہیے ۔

(6) موقع بہ موقع اس کی تعریف کرتے رہنا چاہیے ۔

(7) بیوی کو چاہیے کہ مرد کے تمام رشتے داروں کی تعظیم وعزت کرے ، شوہر کے والدین کو اپنے حقیقی والدین کی طرح عزت واحترام کا حقدار سمجھے ۔

(8) کچھ بھی ہوجائے اپنی ساس اور اپنے سسر کی شکایت نہ شوہر سے کرنی چاہیے اور نہ ہی میکے میں اپنے والدین سے ۔

(9) یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک گھر میں امن وچین اور خیر وبرکت اسی وقت رہ سکتی ہے جب گھر میں دین وشریعت کا غلبہ ہو ، اللہ نے ہمیں اسلام کے ذریعہ عزت دی ہے ، دینداری کے بغیر عزت وسکون ممکن نہیں ۔

(10) عورت کے لیے پردہ اس کی حیا ہے ، مرد کے لیے غیرت اور گھر کی عزت وآبرو کی سلامتی کی ضمانت ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*