آخرت پر ایمان کے باوجود بے عملی کیوں ؟

افادات : امام ابن قیم

 

آج اگر کسی انسان کو یقین ہوجائے کہ فلاں جگہ جانے سے کوئی دنیاوی بڑی منفعت حاصل ہوگی تو سب کچھ چھوڑکروہاںکے لےے نکل پڑے، خواہ وہ جگہ کتنی ہی دو ر کیوں نہ ہو۔ راستے کی پریشانیاں، سفر کی صعوبات اور زندگی کے دوسرے مسائل اس کے ارادہ اور منزل مقصود کے درمیان کبھی حائل نہ ہوں۔ کیونکہ اس کا ایمان ہے کہ وہاں پہنچ کو اس کے مسائل حل ہوجائیںگے اور یہ ایمان اس قدر پختہ ہے کہ رکاوٹوںکے طوفان اسے متزلزل نہیں کر سکتے اور نہ مشکلات کی تیز وتند ہوائیں اس کا کچھ بگاڑسکتی ہیں۔

 

اسی طرح اگر کسی کو دہشت گردی کے الزام میں عمر قید کی سزا سنادی جائے اور وہ سزا آئندہ کل سے نافذہونے والی ہو ۔ پھر اسے ایک آرام دہ خوابگاہ میں داخل کردیا جائے تاکہ کم از کم اس رات آرام کی نیند سولے تو کیا وہ پوری رات چین وسکون سے گزار پائے گا ؟!ہر گزنہیں، بلکہ خوف و دہشت کا وہ عالم ہوگاکہ زبان و بیان کا دامن جس کی وضاحت سے تنگ اور قلم اس کی کیفیت رقم کرنے سے عاجز ہے ۔

 

قرآن وحدیث کے بیان کے مطابق جنت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ، اور جہنم سے بڑھ کر کوئی عذاب یا سزا نہیں ، ان دونوں میں سے کسی ایک کو پانے کے لےے کوئی وقت بھی درکار نہیں۔ جہاں اس دنیاسے آنکھیں بند ہوئیں جنت یا جہنم کے آثار وہیں سے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ پھر بھی انسان غافل ہے۔

 

یہ بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان دنیاوی امور کے حاصل کرنے میں خوب نقل وحرکت کرتاہے۔ تاہم کیا وجہ ہے کہ ایک مسلمان آخرت پر ایمان کے باوجود اس کے لےے عمل نہیں کرتا ؟!

 

اس عظیم سوال کا جواب دیتے ہوئے علامہ ابن قیم نے ” الداءوالدواء“ میں لکھا ہے کہ اس کے کئی ایک اسباب ہوسکتے ہیں :

 

(۱) علم کی کمی اور یقین کی کمزوری : انسان کا علم جتنا گہرا ہوگا، اسی قدر اس کا دل خوف الہی سے سرشار ہوگا، اور اس کا علم جتنا سطحی ہوگا اتناہی وہ غافل اور لا پرواہ ہوگا۔ اسی یقین میں پختگی لانے کے لےے ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے مردوں کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ جب کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ اللہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ لیکن یہ معلومات یقینی تھی، آنکھوںسے دیکھ لینے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خبر مشاہدہ کی طرح نہیں ہو سکتی“ ۔

 

(۲) ضعف علم کے ساتھ جب آخرت فراموشی مل جائے یا دنیاوی مشاغل اور معاصی کی وجہ سے دل سے آخرت کی یاد جاتی رہے تو بھی انسان بے عمل بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ :

 

(۳) خواہشات نفسانی کا غلبہ (۴) شیطان کا مکر و فریب (۵) لمبی تمنائیں رکھنا اور آخرت کو بعید سمجھنا (۶) دنیا کی محبت (۷) غفلت و لا پرواہی (۸) تاویل پسندی بھی عمل کی راہ میں زبردست رکاوٹ ہے۔

 

یہ مذموم صفات جوں جوں ایک مسلمان کے اندر سرایت کرتی جاتی ہیں توںتوں وہ ایمان و عمل سے دور ہوتا چلا جاتاہے۔ دنیا اسے ہر چہار جانب سے اس قدر گھیر لیتی ہے کہ آخرت کو یکسر فراموش کرجاتاہے۔ وہ کس لےے دنیا میں آیا تھا ؟ اسے کیا کرنا چاہےے اور کیا نہیں کرنا چاہےے، سب اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتاہے ۔ اسی ماحول کا شکوہ کرتے ہوئے شیفتہ نے کہا تھا

 

کس واسطے ہم آئے ہیں دنیا میں شیفتہ

 

اس کا جو دیکھئے تو بہت کم خیال ہے

 

اللہ تعالی ہمیں زیادہ سے زیادہ نیکی کرنے کی توفیق عنایت فرمائے ۔ آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*