سبق

وحید الدین خان

 

ایک مرتبہ ایک چھوٹے شہر کا طالب علم ہائی اسکول میں فیل ہوگیا۔ دوسرے سال اس نے پھر امتحان دیا، مگر وہ دوبارہ فیل ہوگیا۔ اس کے بعد جب اس کا تیسرے سال کا نتیجہ آیا اور اس نے دیکھا کہ وہ اب بھی فیل ہے تو اس کو سخت دھکا لگا اور اتنا بیزار ہوا کہ گھر سے بھاگ نکلا۔ چلتے چلتے وہ ایک گاﺅں پہنچا۔ اسے پیاس لگ رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ کنواں ہے، جس پر کچھ عورتیں اور بچے پانی بھر رہے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ گاﺅں کے لوگ جو پانی بھر نے کے ليے کنویں پر آتے ہیں ۔عام طورپر ان کے ساتھ دو عدد مٹی کے گھڑ ے ہوتے ہیں۔ ایک گھڑے کو وہ کنویں کے قریب ایک پتھر پر رکھ دیتے ہیں اوردوسرے گھڑے کو کنویں میں ڈال کر پانی نکالتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ جس پتھر پر گھڑا رکھا جاتاہے،وہ گھڑا رکھے رکھے گھس گیا ہے۔ گھڑا ” مٹی کی ایک چیز ہے “ اس نے سوچامگر جب وہ باربار بہت دنوں تک ایک جگہ رکھا گیا تو اس کی رگڑ سے پتھر گھس گیا۔ استقلال کے ذریعہ مٹی نے پتھر کے اوپر فتح حاصل کرلی۔ مسلسل عمل نے کمزور کو طاقتور کے اوپر غالب کردیا۔ پھر اگر میں برابر محنت کروں تو کیا میں امتحان میں کامیاب نہیں ہوسکتا ؟ یہ سوچ کر بھاگتے ہوئے طالب علم کے قدم رک گئے، وہ لوٹ کر اپنے گھر واپس آگیا اوردوبارہ تعلیم میں اپنی محنت شروع کردی۔

اگلے سال وہ چوتھی بار ہائی اسکول کے امتحان میں بیٹھا۔ اس بار نتیجہ حیرت انگیز طور پر مختلف تھا۔ اس کے پرچے اتنے اچھے ہوئے کہ وہ اول درجے میں پاس ہوگیا۔ تین بار ناکام ہونے والے نے چوتھی کوشش میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ پتھر کا یہ سبق نوجوان کی زندگی کے لےے اتنا اہم ثابت ہوا کہ اس کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ جو طالب علم ہائی اسکول میں مسلسل ناکام ہوکر بھاگا تھا، اس کے بعد مسلسل فرسٹ آنے لگا، یہاں تک کہ ایم اے میں اس نے ٹاپ کیا۔ اس کے بعد وہ ایک اسکالر شپ پراعلی تعلیم کے لےے بیرون ملک گیا اور وہاں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

 

یہ کوئی انوکھاواقعہ نہیں کہ جو صرف ایک گاﺅں میں پیش آیا ہو، حقیقت یہ ہے کہ ہر جگہ ایسے ” پتھر “ موجود ہیں جو آدمی کو زندگی کا سبق دے رہے ہیں۔ جو ناکامیوں سے کامیاب بن کر نکلنے کا اشارہ دیتے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر نصیحت قبول کرنے کا مزاج ہوتو وہ اپنے قریب ہی ایسا ایک ”پتھر“ پالے گا جو خاموش زبان میں اس کو وہی پیغام دے گا جو مذکورہ نوجوان کو ایک پتھر سے ملا ہے۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*