سوچ طاقت کا سرچشمہ ہے

محمد آصف ریاض

 

سوچنا کیا ہے؟

 

سوچنا انسان کی اپنی ڈسکوری کا سبب بنتا ہے۔ سوچ کے ذریعہ انسان ان چیزوں کو پا لیتا ہے جو اس سے چھپی ہوتی ہیں ۔سوچ کے ذریعہ انسان کائنات کے اسرارو رموز کوپالیتا ہے ۔ سوچ انسان کے لیے خدا کی معرفت کا سبب بنتی ہے۔سوچ کے ذریعہ انسان یہ جانتا ہے کہ وہ دنیا میں کیوں آیا ہے اور اسے یہاں کون سا کردار ادا کرنا ہے؟سوچ انسان کو بتا تی ہے کہ کسی معاملہ میںصحیح رویہ کیا ہوسکتا ہے۔ یہ سوچ ہے جس نے انسان کو اسٹون ایج سے نکال کر کلٹیویشن ایج میں پہنچا دیا۔اسی سوچ کے ذریعہ انسان کلٹی ویشن ایج سے نکل کر سوپر ٹکنالوجی ایج میں پہنچاہے ۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اسی سوچ کے ذریعہ انسان ،انسان کامل بن سکا ہے۔انسان اگر انسان ہے، تو اسی سوچ کی وجہ سے ہے۔

 

رین ڈسکارتے نے کہا ہے ۔ I think therefore i am ’میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں ‘۔ یعنی زمین پر انسانی وجود صرف اس لیے باقی ہے کیونکہ انسان سوچتا ہے۔اگر انسان سوچنا چھوڑ دے تو اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔سوچ وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ انسان نے بڑے بڑے معرکے سر کئے ہیں۔

 

مسلمان جب حجاز میں پھیلے تو ان کے ارد گرد دو بڑی سلطنتیں تھیں، جو ان کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔ ایک طرف ایرانی سلطنت تھی دوسری طرف رومی سلطنت مسلمانوں نے 637ءمیں ایرانیوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی۔ یہ جنگ تاریخ میں’ جنگ قادسیہ‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اس جنگ میں مسلم سپاہ کی تعداد 0 2800 تھی جبکہ ایرانی 120,000 کی تعداد میں تھے ،یعنی مسلمانوں سے چار گنا زیادہ ۔ مسلمانوں کی طرف سے اس جنگ کی قیادت حضرت سعد بن وقاص کر رہے تھے جبکہ ایرانی فوج کی قیادت رستم کر رہا تھا۔ اس جنگ میں مسلمانوں نے نہایت جوانمردی کا ثبوت دیا اور جی توڑ کر لڑے، لیکن پہلے دن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ دوسرے دن بھی جنگ کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگئی۔بات یہ تھی کہ ایرانی ہاتھیوں پر سوار ہوکر لڑ رہے تھے جبکہ مسلمان اونٹوں اور گھوڑو ںپر سوار تھے۔اونٹ ہاتھیوں کو دیکھ کر بدک جاتے تھے اور گھوڑوں سے ہاتھیوں کو قابو میں کرنا آسان نہ تھا ۔

 

اسلامی سپہ سالار سعد بن وقاص نے سوچنا شروع کیا کہ آخر کس طرح انھیں قابو میں کیا جائے۔ایرانی ہاتھیوں نے اسلامی فوج کو مشکل میں ڈال دیا تھا ۔ بہت سوچنے کے بعد سعد بن وقاص کو ایک آئیڈیا نظر آیا ۔انھوں نے حکم دیا کہ اونٹوں کو سیاہ کپڑا پہنا دیا جائے ۔ تیسرے دن جب مسلمان جنگ کے لیے نکلے تو ان کے ساتھ اونٹ تھے جنھیں سیاہ کپڑا پہنا دیا گیا تھا۔

 

یہ آئیڈیا کام کر گیا ۔ سیاہ کپڑے میں اونٹ کو دیکھ کر ایرانی ہاتھی گھبرا گئے۔ اس کے بعد مسلمان گھوڑ سواروں نے آگے بڑھ کر ہاتھیوں کے سونڈ کاٹ ڈالے ،اس طرح ایرانی ہاتھیوں میں افرا تفری مچ گئی وہ ہاتھی ایرانی فوج کی طرف مڑے اور ان کی صفوں کو تہس نہس کر دیا۔ اس طرح سعد بن وقاص کے یونک آئیڈیا نے ایرانیوں کے خلاف مسلمانوں کو فیصلہ کن جیت سے ہمکنار کیا۔

 

یہ سعد کی سوچ تھی جس نے ان کی شکست کو فتح میں تبدیل کر دیا تھا۔جو کام پوری فوج نہ کر سکی تھی وہ کام سعد کے ایک آئیڈیا نے کر دکھایا۔حقیقت یہ ہے کہ سوچ طاقت کا سر چشمہ ہے ۔ انسان کسی معاملہ پر سوچ کرمعاملہ کے اس سرے کو پالیتا ہے جہاں سے وہ اپنی ہر ناکامی کو کامیابی میں بدل سکتا ہے۔

 

گاندھی گریٹ کیوں تھے ؟

 

مہاتماگاندھی کوئی لمبے چوڑے آدم قد انسان نہیں تھے ۔وہ پتلے دبلے پستہ قد انسان تھے۔ وہ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کی وضع قطع کے بارے میں اگر بات کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ پورے معاملے میں ایک عام انسان تھے۔یہی وجہ ہے کہ انھیں ایک انگریز نے ٹرین سے اٹھا کر نیچے پھینک دیا تھا۔لیکن پھر بھی گاندھی گریٹ تھے۔ اور آج بھی وہ گریٹ تسلیم کئے جاتے ہیں۔

 

اس کی وجہ ان کی وہ سوچ ’تھنکنگ‘ تھی جس نے انھیں گریٹ بنا دیا تھا۔گاندھی ہر معاملہ میں بہت زیادہ سوچا کرتے تھے۔کسی معاملہ میں بغیر سوچے سمجھے وہ فیصلہ نہیں لیا کرتے تھے۔ گاندھی جب آزادی کی لڑائی میں شامل ہوئے تو اس وقت یہ جنگ ”اسلحہ اور بارود“ کے میدان میں لڑی جارہی تھی گاندھی نے اسے اسلحہ اور بارود کے میدان سے نکال کر” نظریہ “کے میدان میں ڈال دیا ۔

 

یہاں انگریز کمزور پڑ گئے ۔ یہ وہ صورت حال تھی جس کا سامنا کرنے کے لئے انگریز تیار نہ تھے ۔ اچانک اپنے آپ کو ایک نئے میدان میں پاکر انگریز حیران ہو گیے، اور انھوں نے گاندھی کے سامنے ہتھیار ڈال دیا۔ یہ گاندھی کی سوچ تھی جس نے انگریزوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیاتھا۔اگر آدمی سوچے تو وہ کبھی بھی اپنے آپ کو کمزور نہیں پائے گا۔وہ اپنے اندر طاقت کا وہ ذخیرہ پالے گا،جس کا سامناکرنا کسی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*