دوائے دل

شبلی رحمہ اللہ عليه نے ایک حکیم سے کہا : مجھے گناہوںکا مرض ہے ، اگر اس کی دوا بھی آپ کے پاس ہوتو عنایت کیجئے ۔ سامنے تنکے چننے والا شخص یوں گویاہوا : ” شبلی یہاں آﺅ میں اس کی دوا بتاتا ہوں :

 ”حیا کے پھول،صبر و شکو کے پھل،عجز ونیاز کی جڑ، غم کی کونپل، سچائی کے درخت کے پتے،ادب کی چھال، حسن اخلاق کے بیج، یہ سب لے کر ریاضت کے ہاون دستہ میں کوٹنا شروع کرو اور اشک پشیمانی کا عرق ان میں روز ملاتے رہو، ان سب کو دل کی دیگچی میں بھر کر شوق کے چولہے پر پکاﺅ، جب پک کر تیار ہوجائے تو صفا کے قلب کی صافی میں چھان لینا، اور شیریں زبان کی شکر ملا کر محبت کی تیز آنچ دینا، جس وقت تیار ہوکر اترے تو اس کو خوف خدا کی ہوا سے ٹھنڈا کر کے استعمال کرنا “ ۔  شبلی رحمہ اللہ عليه نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو وہ دیوانہ غائب ہو چکا تھا ۔     

                                                           (حبیب الرحمن جامعی۔کویت )

 

اقوال زریں

. 1ایسی بات ہرگز زبان سے مت نکالو جو تمہارے مخاطب کے دل پر بار گذرے ۔

  .2توبہ گناہ کو کھا جاتی ہے اس لیے انسان کو توبہ کی عادت ڈالنی چاہیے ۔

 .3غصہ انسان کی عقل کوکھا جاتا ہے اس لیے انسان کو حتی المقدور غصہ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے

 . 4بہادر انسان کی موت صرف ایک بار ہوتی ہے جب کہ بزدل انسان ہر روز مرتا ہے ۔

 .5عقل مند انسان کچھ بھی بولنے سے پہلے اس کے انجام پر غور کرتا ہے

  .6بچوں کا ذہن ایک سادے کاغذ کی مانند ہوتا ہے اس سادے کاغذ پر ایک بار جو کچھ نقش ہوجائے گا وہ زندگی بھر نہیں مٹے گا اس لیے معصوم بچوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا چاہیے ۔

 .7کسی کو بھی معمولی مت سمجھو کیا معلوم کہ اسی معمولی سے تمہاری ہار ہوجائے

                                                     (رشید خان ۔ کویت )

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*