نكهت گل

 

اعجاز الدين العمري

 

وہ لڑکی

امام ابن الجوزی رحمه الله نے ”صفة الصفوہ “ میںمحمد سلیمان قریشی کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:

” میں ایک سفر میں تھا وہ یمن کے قریب کوئی گاؤں ہوگاکہ ایک لڑکے نے میرا راستہ روکا ۔ میںنے دیکھا کہ اس کے دونوں کانوں میں بالیاں لٹک رہی تھیں اور ہر بالی میں ایک موتی‘ جس کی چمک سے اسکا چہرہ دمک رہاتھا وہ اللہ کی تعریف میں کچھ اشعار گنگنا رہا تھا میں اس کے قریب پہنچا اور اسے سلام کیا مگر اسنے جواب نہیں دیا بلکہ کہنے لگا : جب تک آپ میرا حق ادا نہیں کریںگے میں سلام کا جواب نہیں دوں گا۔ میں نے پوچھا: ” میرے ذمّہ تمہارا ایسا کونسا حق ہے ؟“ اس نے کہا : دیکھیے جناب ! میں ابراہیم علیہ السلام کے طریقے پر چلنے والا لڑکا ہوں ۔ اور ہر روز میل دو میل مہمان کی تلاش میں چلتا ہوں، اس سے پہلے نہ دو پہر کا کھانا کھاتا ہوں اور نہ رات کا کھانا میںنے اس کی دعوت قبول کی اور اس کے ساتھ ہولیا۔ جب ہم اس کی کٹیا سے قریب ہوے تو اس نے ندا لگائی؛ او بہنا !جھونپڑی کے اندر سے اس کی بہن نے جواب دیا : بھائی میں آگئی اس نے کہا : میں ہمارے مہمان کو بلا لایا ہوں اٹھو اور ان کو خوش آمدید کہو۔ لڑکی نے کہا : شکر ہے خدا کا جس نے مہمان کو بھیج کر شکر کا موقع دیا۔اس نے مہمان کو اندر بٹھایا اور دو رکعت نماز شکرانے کی ادا کی مجھے بٹھاکر لڑکا جانور ذبح کرنے چلا ۔میں اندر بیٹھا ہوا تھا کہ میری نظریں اس لڑکی پر پڑی ۔ میں نے دیکھا کہ وہ نہایت ہی حسین ہے۔ پھر میری نگاہیں چوری چوری اسے دیکھنے لگیں مگر میری چوری کو اس نے بھانپ لیااور مجھے ٹوکتے ہوے کہنے لگی یہ کیا ہے!؟ کیا تمہیں پتا نہیں صاحبِ یثرب انے کیا کہاہے ؟ یہی نا کہ آنکھوں کا زنا نظر یں ہیں اور ہاں ! یہ مت سمجھنا کہ میں تمیں ڈانٹ رہی ہوں میں نے تو صرف سمجھانے کے لیے کہا ہے تاکہ تم آئندہ ایسی حرکت نہ کرو۔

جب رات ہوی تو میں اور لڑکا باہر سوگئے اور لڑکی گھر کے اندر مجھے گھر کے اندر سے قرآنِ مجید کی تلاوت کی آواز رات بھر سنائی دیتی رہی آواز شیریں بھی اور سوز و گداز سے پُر بھی۔ صبح ہوی تو میں نے لڑکے سے پوچھا کس کی تھی وہ آواز ! ؟ اس نے کہا: وہ میری بہن تھی اس کی تو راتیں اسی طرح گذرتی ہیں۔ میں نے کہا : او لڑکے ! یہ کا م تو تمہیں کرنا چاہیے تھا کیوں کہ تم مرد ہو اور وہ عورت اس نے جواب دیا ” بھیّا! کیا آپ کو معلوم نہیں یہ سب خدائی توفیق سے انجام پاتے ہیں؟ “۔

سب سے خراب سب سے بہتر!؟

لقمان ایک حبشی غلام تھا، بڑھئی کا کام کرتا تھا ۔ ایک روز اس کے مالک نے اس سے کہاکہ ایک بکری ذبح کرو اور اس میں سے دو ٹکڑے بہترین گوشت نکال کر سالن تیار کرو۔ اس نے بکری کاٹی اور اس سے دل اور زبان نکال کر سالن بنایا اور مالک کو پیش کیا ۔ چند دن بعد مالک نے دوبارہ ایک بکری کاٹنے کا حکم دیا اور بتایا کہ اس بار بکری کے بدن سے دو خراب ٹکڑے نکال کر سالن بنائے۔ لقمان نے سر تسلیم خم کیا اور بکری کاٹ کر اس میں سے دل اور زبان نکال کر سالن تیار کیا ۔ جب ان دو ٹکڑوں کو مالک کے سامنے رکھا تو اس نے حیرانی ظاہر کی اور کہا کہ لقمان کیا ماجرا ہے جب میں نے دو بہترین ٹکڑے نکالنے کا حکم دیا تھا تو تم نے دل اور زبان پیش کیا تھا اور آج جبکہ میں نے تم سے دو خراب ٹکڑے نکالنے کو کہا ہے تو تم نے پھر وہی ٹکڑے پیش کیے ہیں ۔ 
اس نے کہا : ”آقا ! اگریہ دونوں بہتر ہوجائیں تو بدن میں ان سے بہتر کوئی چیز نہیں ہوتی اور جب یہ دونوںبگڑ جائیں تو ان سے خراب بھی کچھ اور نہیں ہوتے“۔

اس کی حالت مجھ سے بھی بہتر ہوگی

عرابہ بن اوس کا شمار مدینہ کے مشہور سرداروں میں ہوتا ہے ۔ جود وسخا میں ان کا بڑا نام تھا۔ انہوں نے پیارے نبی اکا زمانہ بھی پایا تھا ۔ عمر چھوٹی ہی تھی کہ مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ حضرت معاویہ رحمه الله کے عہدِ حکومت میں شام چلے گئے ۔ تاریخ کی کتابوں میں حضرت معاویہ رحمه الله کے ساتھ ان کے بہت سے واقعات ملتے ہیں ۔ ایک بار حضرت معاویہ رحمه الله نے ان سے پوچھا کہ”اے عرابہ ! کن چیزوں کی بنیاد پر تمہیںقوم کی سرداری ملی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا : ” میں مانگنے والے کو دیتا ہوں، نادان سے در گذر کردیتا ہوں اور ان کے رفاہی کاموں میں ہمہ تن مصروف رہتا ہوں۔ جس کی بھی یہ صفات ہوںگی میری طرح اس کو بھی سرداری نصیب ہوگی ۔ جو ان سے بھی بڑھ کر لوگوں کی بہبودی کے کام کرے گا اس کی حالت مجھ سے بھی بہتر ہوگی۔ اور اگر کوئی ان کاموں میں کوتا ہی کرتا ہے تو میں سمجھوں گا کہ میں اس سے بہتر ہوں “ ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*