مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی جنرل سکریٹری جمعیت اہل حدیث ہند سے ایک ملاقات

محمد خالد اعظمی (کویت )

 

مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کا تعلق ہندوستان کی مردم خیزریاست بہار کے ضلع مغربی چمپارن سے ہے ، ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں میں حاصل کرنے کے بعدمختلف مدارس وجامعات سے فیض حاصل کیا جن میں مدرسہ منظر العلوم بل رامپور، جامعہ دارالحدیث مﺅ، جامعہ سلفیہ بنارس اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سرفہرست ہےں ۔جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعدہندوستا ن کے معروف ادارہ جامعہ سلفیہ بنارس میں بحیثیت مدرس ایک عرصہ تک تدریسی فریضہ انجام دیتے رہے ، دریں اثناءجامعہ کے عربی اور اردو میگزین میں مستقل طور پر لکھتے رہے،اس کے علاوہ ملک وبیرون ملک کے مختلف اخبارات ورسائل میں بھی ان کے مضامین چھپتے رہے۔ مولانا جید عالم دین اورکئی کتابوں کے مولف اورمترجم ہیں اور فن خطابت کے شہسوار سمجھے جاتے ہیں۔ مولانا کی گوناگوں دعوتی ورفاہی خدمات کی بدولت جمعیت اہل حدیث نے اکتوبر2001ء میں آپ کو جنرل سکریٹری کا عہدہ تفویض کیا جس پر تاہنوز قائم ہیں ۔اورجمعیت کے زیراہتمام شائع ہونے والے اردو، ہندی اورعربی میگزین کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں۔مولانا کی کویت تشریف آوری کے موقع سے ہم نے ان کی گوناگوں مصروفیات کے باوجود ایک ملاقات میں اصلاح معاشرہ سے متعلق چندسوالات کیے جن کے جوابات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں:

 

سوال: جمعیت اہل حدیث کا قیام کب عمل میں آیا؟ اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟

 

جواب : جمعیت اہل حدیث کا باضابطہ قیام 1906ءمیں آیا، جمعیت میں 22 صوبوں سے منتخب ممبران اور بعض علاقوںسے خصوصی ممبران ہیں۔ جمعیت کتاب و سنت کی روشنی میں اصلاح معاشرہ ،عقیدہ،تعلیم اور انسانیت کی فوزوفلاح کے لیے کام کرتی ہے ، جس سے اللہ تعالی کے روٹھے ہوئے بندے دوبارہ اللہ سے اپنے رشتہ کو استوار کرلیں، تاکہ انسانیت امن وبھائی چارگی کا گہوارہ بن جائے اور آخرت میں فوزوفلاح سے ہم کنار ہوسکے ۔

 

سوال: اصلاح معاشرہ سے کیا مراد ہے ؟

 

جواب : انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں جس قسم کا بھی فساد وبگاڑاور بے اطمینانی پائی جاتی ہواورخودفراموشی کے ساتھ اللہ فراموشی جس گھر اور جس معاشرے میں موجود ہو نہایت حکمت ودانائی اور جذبہ ہمدردی سے سرشار ہوکر اصلاح کی کوشش کرنے کانام اصلاح معاشرہ ہے۔


 

سوال: کیا جمعیت اہل حدیث اصلاح معاشرہ کا کام کررہی ہے ؟

 

جواب :جمعیت اہل حدیث اصلاح معاشرہ کے لیے مختلف اسلوب اور طریقہ اختیار کرتی ہے جس میں تعلیم وتبلیغ اہم ذریعہ ہے۔اور معاشرے کی اصلاح میںفرد کی تربیت اور عقیدہ کے سدھار کو اولیں حیثیت دیتی ہے،اور الا ¿ول فال Éول کے تحت اصلاح معاشرہ کا کام اپنے حسب استطاعت کرتی ہے۔

 

سوال: ہندوستان کے پس منظر میں اخلاقی بگاڑکون کون سے ہیں ؟

 

جواب :: اخلاقی بگاڑ کی سب سے بنیادی وجہ بندے کا اپنے خالق ومالک سے دوری اور معبود حقیقی کی عبادت سے محرومی ہے، اور یہی تمام برائیوں کی جڑہے ۔

 

معاشرے میں اونچ نیچ، بھید بھاؤ ،ظلم وناانصافی ، بدکاری ، عریانیت ، شراب خوری ،رشوت ستانی اورمختلف طرح کے مظالم ومنکرات اس مہذب دور میں بھی اپنے وطن عزیزمیں پائے جا رہے ہیں۔اورمختلف تنظیموں ، جماعتوں اور دھرموں کے ذریعہ بہت حدتک کوششوں کے باوجود بہت ساری برائیاں معاشرے کے لیے ناسور بنتی جارہی ہیں جن کا علاج ناممکن نہیں تومشکل ضرور ہے ۔

 

سوال: مسلمانوں میں دین سے بے رغبتی کوفروغ دینے اورمغربی طرززندگی اپنانے پرجو زور دیا جارہا ہے،اس راہ میں اصلاحی کوششیں کس حد تک نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں ۔

 

جواب :وہ معنوی اور روحانی تعلیمات جسے اپناکر خیرالقرون کے مسلمان دنیاکی افضل ترین قوم ثابت ہوئے تھے، اور دنیا ہرطرح سے امن وشانتی کا گہوارہ بن گئی تھی ‘ اس سے ہٹ کر مٹھی بھر مسلمان اصلاح کے لیے کوشاں ہیں نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ساری کوششوں کے باوجود مغربی طرز زندگی کو فروغ حاصل ہورہا ہے اور دین سے بے رغبتی بڑھتی جارہی ہے۔ البتہ الحاد، بے دینی اورمادیت کے اس طوفان بلا خیزمیں جوکچھ اصلاح کا کام ہورہا ہے وہ بے اثر نہیں ہے بلکہ طوفان کے سامنے رکاوٹیں اور باندھ کھڑی کرنے کے مترادف ہے،جو بہر حال طوفان کی شدت رفتاری کو کم کرنے ،اس کی شدت کونرم کرنے میں م ¶ثر ہے لیکن اس طوفان کے مقابلے میں کتاب وسنت پر مبنی امن وآشتی اوراصلاح کاایک عظیم طوفان لائے بغیر اس دین سے بے رغبتی اورغیر اسلامی طرز زندگی کوبدلا نہیں جاسکتا۔ اگر شرکے منادی اور علمبردار تمام سازوسامان کے ساتھ انسانیت کو برائیوں کا آلہ کاربنانے کے لیے سب کچھ دا ¶ پر لگاسکتے ہیں تو امن وانصاف کے علمبردار وں کو بھی اس سے بڑے پیمانے پر انسانیت کی بھلائی کے لیے خلوص نیت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔

 

سوال: طرز تعلیم کادینی یا اسلامی ہوناکیوں ضروری ہے ؟

 

جواب : اس دور میں یہ بات کہنے کی نہیں ہے ، تعلیم وتعلم کی اہمیت مسلّم ہے اور تعمیر وترقی کا کوئی بھی زینہ اس کے بغیر سر نہیں کیا جاسکتاچہ جائیکہ اس کی چوٹیوں کو سرکیا جاسکے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ مسلّم ہے کہ تعلیم اس وقت دو دھاری تلوار کی مانندہے ، دین اوراخلاق کے بغیر تعلیم انسانیت کے لیے سب سے خطرناک عنصر ہے، جس نے ترقی کے باوجود انسانوں ،ملکوں ، اور خاندانوں کوآہوں ، کراہوں ، اورفسادوبد امنی میں مبتلاکررکھاہے۔

 

دینی تعلیم ہو یادنیوی ‘ اخلاقیات اور دینی عنصر کاوجود ویسے ہی ضروری ہے جیسے جسم کے لیے روح کاوجود ، ورنہ لاشہ بے جان سے بدبوں اوربے برکتی کے علاوہ کچھ اورحاصل ہونا ممکن نہیں ۔

 

سوال: عصر حاضر میں دینی درسگاہوں یا عصری تعلیمی اداروں کو اسلامی طرز پرقائم کرنا کیوں ضروری ہے ؟

 

جواب :اسلامی مدارس کا وجود مسلمانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ، حقیقی اور پر امن بقاءکے لیے اشد ضروری ہے۔اس کا خالص اسلامی بنیادوں پر استوار ہونا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے ورنہ یہ تعلیمات اقوام سابقہ کے لیے بھی نازل ہوئی تھیں لیکن انہوں نے ان تعلیمات کو پس پشت ڈال دیاجس کانتیجہ یہ ہوا کہ وہ اللہ کی کتاب اور نبی کا اسوہ ہونے کے باوجود مغضوب اورضالین کے خطاب سے نوازے گئے ۔تب ہی تو قرآن نے کہاکہ بے عمل عالم کی مثال اس گدھے کی سی ہے جوکتابوں کا بوجھ لادے پھرتا ہے۔

 

پھر اگردوا کو طبیب حاذق کی ہدایت کے مطابق استعمال نہ کیا جائے تو وہی دوا کبھی کبھی Reactionکرکے مرض سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسجد نبوی میں للہیت اورجذبات سے لبریز ہوکر تہجد گذاری پر مدرسہ نبوت سے سخت تنبیہ ہوتی ہے کہ اگر نبی اکرم ا کی ہدایت کے مطابق نہیں ہوئی تویہ شب بیداری بھی گمراہی ہے اور نبی اکرم ا سے بغاوت کے مترادف ہے ، فمن رغب عن سنتی فلیس منی اس کی شاہد ہے ۔

 

سوال: اسکولوں کے ذمہ داران بچوں کے والدین سے کہتے ہیں کہ بچوں کو اسلامی لباس میں اسکول بھیجیں ؟ اسلامی لباس سے کیا مراد ہے ؟

 

جواب : اسلامی لباس سے مراد وہ لباس ہے جوساتر ہو، شرعی، اخلاقی اورمہذبا نہ ہو جس کی فقہاءاور اہل علم نے وضاحت فرمائی ہے۔

 

سوال: کیا خطبہ جمعہ کے ذریعہ اصلاح معاشرہ کا کام ہوسکتاہے ؟

 

جواب :خطبہ جمعہ درحقیقت وعظ وارشاد اور نصیحت وموعظت کا وہ ربانی نسخہ اور نبوی نصاب ہے جس نے قوموں کی زندگی کا دھارا بدل دیاہے ، قرآن کریم نے جس کو ذکر ونصیحت قرار دیا ہے ۔ اور اصلاح معاشرہ کے لیے یہ سب سے کامیاب ترین پلیٹ فارم ہے،کاش کہ مسلمان اس کی اہمیت کو بحیثیت سامع اور خطیب کما حقہ سمجھیں اور برتیں ۔

 

سوال: برصغیر ہندوپاک میں مقامی زبان میں خطبہ جمعہ دینے پر زور کیوں نہیں دیا جاتا؟

 

جواب : اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں توپتہ چلے گا کہ تحریک شہیدین نے مقامی زبان میں خطبہ جمعہ کے ذریعہ بڑے پیمانے پر اصلاح کا کام کیاہے اورآج بھی بہت ساری جماعتیں اور تنظیمیںاس کی اہمیت کو سمجھنے لگی ہیں بالخصوص اہل حدیث حضرات اس کااہتمام کرتے ہیں کیونکہ خطبہ کے معنی ہی وعظ ونصیحت کے ہیں ۔

 

سوال: کیا اصلاح معاشرہ کے لیے تمام جماعتوں اور تنظیموں کا متحد ہونا ضروری ہے ؟

 

جواب :کسی بھی معاشرہ میں اتفاق واتحاد کاہونا سب سے پہلے ضروری ہے، اور اصلاح معاشرہ کے لیے امت کا اتحاد اولیں ضرورت ہے ۔اس کے برعکس اختلاف معاشرے کی بگاڑمیں کلیدی رول ادا کرتاہے ۔ لہذا اصلاح کے نام پر بھی اگر تما م جماعتیں متحد نہ ہوں جب کہ بگاڑاور فساد کے داعی ہر جگہ متحد نظر آتے ہیں تو پھر اصلاح کاکام اور اس کے متوقع اثرات کی امید کیوںکر کی جاسکتی ہے ۔

 

مسلم معاشرے کی اصلاح ہی نہیں بلکہ انسانیت کی بھلائی کے لیے اسلام سے تعلق رکھنے والی ساری جماعتوں کابھائی بھائی بن جانا اور متحد ہونا جہاں وقت کا عین مطالبہ ہے وہیں اخلاقی ودینی فریضہ بھی ۔

 

سوال: جمعیت اہل حدیث ہنددیگر جماعتوں کے درمیان اتحادواتفاق پر کتنا زور دیتی ہے؟ اور کہاں تک کامیاب ہوئی ہے ؟

 

جواب : امت مسلمہ کے اتفاق واتحاد کی جب کبھی بات ہوئی ہے اس میں جمعیت اہل حدیث کوشاں اور پیش پیش رہی ہے،جمعیت نے مختلف مواقع پر مختلف عنوانات کے تحت امت کومتحد کرنے کی کوشیشیں کی ہیں۔اورکئی مواقع پر اختلاف واقع نہ ہونے کے لیے مثبت اور سنجیدہ رول ادا کیا ہے اور اختلاف واقع ہونے پراس کے سدباب کے لیے حکمت عملی اختیار کی ہے ۔چاہے مسلم پرسنل لا کا مسئلہ ہو یا دیگر ملکی وملی اورانسانی مسائل ہوں ، اس سلسلے میں اس کا یہ واضح موقف ہے کہ حلف الفضول کی روشنی میں امن وشانتی ، اصلاح اور انسانیت کی بھلائی کے لیے اپنے ان تمام غیر مسلم بھائیوں سے بھی اتفاق کرکے آگے بڑھاجائے۔ اسلام کی وسیع تر اور انسانیت پر مبنی تعلیمات اسی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔

 

سوال: بیرون ملک رہنے والے افراد اپنے ملک میں اصلاح معاشرہ کے کام میں کیسے ساتھ دے سکتے ہے ؟

 

جواب : بیرون ملک رہنے والے بھائیوںکو بہت سے مسائل کا سامناکرنا پڑتاہے لیکن مادی اورروحانی بنیادوں پران کی حیثیت ان کے وطن میں بھی ہے اور جس ملک میں وہ مقیم ہیںوہاں بھی ان کی حیثیت مسلّم ہے اور اگر صحیح معنوں میں وہ اپنی اہمیت اورحیثیت کو سمجھ کر میدان عمل میںآئیںتو اپنے مقیم بھائیوں کی اصلاح کے ساتھ اپنے ملک میں بھی اصلاح وفلاح کاکام بڑے پیمانے پر انجام دے سکتے ہیں جس سے قوم وملک اور ملت وانسانیت کا فائدہ ہوسکتاہے

 

سوال: خلیج میں مقیم برادران وطن کے لیے آپ کیا نصیحت کرتے ہیں ؟

 

جواب :ہم خلیج میں مقیم اپنے تمام بھائیوں کی دینی ودنیوی کامیابی اورترقی کے آرزو مندہیں اور اللہ تبارک وتعالی سے ان کی بھلائی کے لیے دعاگو بھی۔ چونکہ وہ یہاں اپنے ملک کے نمائندے اور سفیر ہیں ،اور سفیر کی کیا حیثیت ہوتی ہے آپ سب جانتے ہیں، ان کے اخلاق وکردار اور ایمان وقوت کی بنیاد پر ہی ان کے ملک اور خود ان کی شبیہ اور شکل پہچانی جاتی ہے ۔ لہذا ہماری ان سے درخواست ہے کہ وہ سب سے پہلے اسلامی تعلیمات سے خود کو آراستہ کریں،اور یہ تعلیمات دوسروں تک پہنچائیں اورنمائندہ بن کر حصول معاش میں لگے رہیں۔

 

عرب کی یہ سرزمین وہ مقدس خطہ ارضی ہے جہاں اللہ تعالی نے ساری مخلوقات کے لیے محمد ا کو رحمت بناکر بھیجا تھااورکتاب ہدایت اتاری تھی ، ایسی سرزمین پر ہم بہت سی خوانگی اور معاشرتی الجھنوں سے چھٹکارا پاکر موجود ہیں ۔ اس سنہری فرصت کوغنیمت سمجھتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو جاننے کے تمام مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ۔اس بیش بہادولت کو اپنے دامن میں سمیٹ لیںاوران تعلیمات کی روشنی میں اپنے گھر، خاندان اورمعاشرہ کے تمام افراد کوڈھالنے کی کوشش کریں۔یہ دین اوردنیا دونوںجگہ ان کے لیے عظیم خیروبرکت کا ذریعہ ہوگا۔

 

اللہ تعالی ہمارا ،آپ کااور دیارغیر میں بسنے والے تمام بھائیوں کا حامی وناصر ہو۔ آمین

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*