سوئٹزر لینڈ میں میناروں کے مخالف کا قبولِ اسلام

 

مسلمانوں کے خلاف صف آراء سوئٹزرلینڈ کا معروف سیاست داں ڈینئل اسٹریچ اسلام کی آغوش میں ہے۔ اس نے اپنے اسلام قبول کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی جہاں سوئزرلینڈ کی سیاست میں اتھل پتھل مچادی ہے‘وہیں ان لوگوں کے پیروں تلے سے زمین کھسکتی نظر آرہی ہے، جو میناروں کی مخالفت کا علم اٹھائے ہوئے تھے، کیوں کہ ڈینئل اسٹریچ ہی پہلا شخص تھا، جس نے سوئٹزرلینڈمیں مساجد پر تالے لگانے اور میناروں پر پابندی لگانے کی مہم چھیڑی تھی ۔ اس نے اپنے اس مسلم مخالف تحریک کو ملک گیر پیمانے پر فروغ دیا ۔ لوگوں سے مل کر ان میں اسلام کے خلاف نفرت کے بیج بوئے اور مساجد کے گنبدومیناروں کے خلاف رائے عامہ استوار کی لیکن آج وہ اسلام کا سپاہی بن چکا ہے ۔ اسلام مخالف نظریہ نے اسے اسلام کے اتنا قریب کردیا کہ وہ اسلام قبول کےے بغیر نہ رہ سکا اور اب اپنے کےے پر اتنا شرمندہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں یورپ کی سب سے خوبصورت مسجد کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں ۔ ان کی شدید خواہش ہے کہ وہ دنیا کی سب سے خوبصورت مسجد بنا سکیں اور اپنے اس گناہ کی تلافی کرسکیں جو انہوںنے مساجد کے خلاف زہر افشانی کرکے کےے ہیں ۔ ڈینئل اسٹریچ اب اپنی مینار مخالف تحریک کے خلاف بھی تحریک چلانا چاہتے ہیں تا کہ لوگوں میں مذہبی رواداری پیدا ہو اور وہ بقائے باہم کے اصولوں پر عمل کرسکیں حالانکہ مینار پر پابندی اب قانونی حیثیت پا چکی ہے ۔

 

اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ مخالفت سے اس کا رنگ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے ۔ نفرت سے بھی جو اس کا مطالعہ کرتاہے وہ اس کو اپنا گرویدہ بنالیتاہے ۔ جتنی اس کی مخالفت ہوتی ہے، اتنی شدت سے وہ ابھر کر سامنے آتاہے ۔ اس کے لافانی اصول و ضوابط لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں اور اسے اسلام قبول کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپ میں اسلام بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ جن علاقوں میں جتنی شدت سے اسلام کے خلاف پروپگنڈہ ہورہا ہے، وہاں اتنی ہی تیزی سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ آج یورپ کے گورے زیادہ اسلام سے متاثر ہورہے ہیں ۔ بوسنیا، نائجیریا، لیبیا اور سوڈان کے باشندوں سے زیادہ یورپ کے سفید فام لوگوں میں اسلام کے بارے میں جاننے کی چاہت ہے ۔ مسلمانوں کے درمیان رفاہی کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم او آئی پی کے صدر عبد المجید الداعی کا کہنا ہے کہ یورپ کے لوگوں میں اسلام کے بارے میں جاننے کی زبردست خواہش ہے ۔

 

ان کے مطابق یورپ میں” پورن “ سائٹ کے بعد جو سب سے زیادہ سائٹ دیکھی اور پڑھی جاتی ہے وہ اسلامی مواد فراہم کرنے والی ویب سائٹ ہی ہے ۔ ڈینئل اسٹریچ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ، اس نے میناروں کی مخالفت اور اسلام دشمنی میں قرآن مجید کا مطالعہ اور اسلام کو سمجھنا شروع کیا اس کے ذہن میں صرف مذہب اسلام میں کیڑے نکالنا تھا وہ اسلام میں میناروں کی حقیقت بھی جاننا چاہتا تھا تا کہ مینار مخالف تحریک میں زور پیدا کر سکے اور مسلمانوںا ور میناروں سے ہونے والے ” خطرات “ سے سوئٹزرلینڈ کے باشندوں کو باخبر کرسکے لیکن ہوا اس کے بر عکس ۔ جوں جوں وہ قرآن مجید اور اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتا گیا، فرمان نبوی اور قرآنی آیات اس کے دل و دماغ پر چھاتے گئے ۔ اس کے دل و دماغ سے کفر اور بت پرستی کی تہ ہٹتی گئی اور ادیان باطلہ اس کے سامنے بونے نظر آنے لگے ، نہ تو اسے تین خداﺅں پر یقین رہا اور نہ بت پرستی میں کوئی جاذبیت، بلکہ وہ اسلام کا گرویدہ ہوتا چلاگیا اور بالآخر اس نے اسلام قبول کرکے کفر و ظلمات کی تمام چادروں کو پھاڑ ڈالا ۔

 

اسٹریچ کے اسلام لانے کی خبر آئی ہی تھی کہ انگلینڈ کے مستقبل کے وزیر اعظم اور شیڈوچانسلر جارج اسبورن کے بھائی کے اسلام لانے کی خبر آگئی ۔ ان کے بھائی آدم اسبورن جو پیشے سے ماہر نفسیات ہیں ‘نے اپنے اسلام لانے کا اعلان کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے مانچسٹر کی ایک مقامی مسجد میں کئی مہینے تک اسلامی تعلیمات سیکھیں اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی، جس میں پانچوں وقت نماز پڑھنا اور شراب سے پرہیز کرنا بھی ہے ۔

 

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میںمیناروں اور اسلامی شعائر پر پابندی کے مطالبہ نے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا ہے اور اس کی تعلیمات ہی کا اثر ہے کہ وہ اپنے اندر مسلمانوں کے متعلق نرم گوشہ پاتے ہیں جب کہ بہت سارے لوگ ڈینئل اسٹریچ کی طرح اسلام لاچکے ہیں ۔

 

ڈینئل اسٹریچ ملک کی باوقار سیاسی پارٹی سوئس پیپلز پارٹی ( ایس وی پی ) کا بڑا لیڈر تھا ۔ پارٹی کی پالیسی سازی میں بھی اس کا گہرا اثر دیکھنے کو ملتاہے ۔ میناروں کے خلاف تحریک چلاکر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا شوشہ اسی نے چھوڑا تھا ۔ پارٹی میں زبردست مقبولیت کا ہی نتیجہ تھا کہ انہیں سوئس آرمی میں ملٹری انسٹرکٹر بنادیاگیا ۔ پیدائشی طورپر عیسائی ہونے کے باوجود اس نے مخالفت کرنے کے لےے اسلام کا مطالعہ کیا لیکن اسلامی تعلیمات نے اس کو اپنا گرویدہ بنالیا اور بالآخر اس نے اسلام قبول کرلیا اور تمام سیاسی سرگرمیوں سے اپنا رشتہ توڑلیا ۔ اس نے پارٹی سے بھی اپنی رکنیت ختم کرالی اور برملا طور پر اپنے اسلام قبول کرنے کا اظہار کردیا ۔

 

ڈینئل اسٹریچ کا کہنا ہے کہ پہلے وہ پابندی سے بائبل پڑھا کرتا تھا اور چرچ جایا کرتاتھا لیکن اب وہ قرآن پڑھتا ہے اور پانچوں وقت کی نماز ادا کرتاہے ۔ اسے اسلام میں زندگی کے ان تمام سوالات کا جواب مل گیا جو وہ عیسائیت میں کبھی نہیں پا سکتا تھا ۔ جب کہ دوسری طرف ملٹری کے ذمہ داروں کو یہ خدشہ ہے کہ ڈینئل اسٹریچ ملٹری انسٹرکٹر رہے ہیں کہیں وہ مسلمانوں کو فوج کی رازدارانہ باتیں نہ بتادیں ۔ گویا مسلمان ان کے نڑدیک ملک کے لےے سب سے بڑا خطرہ ہیں جن کو اگر ملٹری کی باتیں معلوم ہوجائیں توملک کو نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ ایس وی پی کے نیشنل کونسل ممبر کا کہنا ہے کہ ڈینئل اسٹریچ کا اس عہدے پر رہنا ملک کے تحفظ کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے جب کہ سوئس آرمی کے ترجمان کرسٹوفر بروز نے کہا کہ ڈینٹل اسٹریچ کا اس عہدے پر رہنا ملک کے تحفظ کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے جب کہ سوئس آرمی کے ترجمان کرسٹوفر بروز نے یہ کہہ کر معاملے کو ہلکا کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ان کا پرفارمینس کیسا ہے ۔ بہرحال پاسباں مل گیا کعبہ کو صنم خانے سے ، جو اس کی عظمت ور فعت کے لیے کوشاں ہے ۔

 

ڈینٹئل اسٹریچ کا کہنا ہے کہ ملک کا قانون میناروں پر ہی پابندی لگا سکتا ہے دل ودماغ پر نہیں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*