نکہتِ گل

اعجازالدین عمری

 

قیامت ہے قیامت

 

” حضرت عبد اللہ بن مسعود رضي الله عنه  پیارے نبی صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : آخری زمانے میں کچھ لوگ ظاہر ہوں گے جو عمر میں چھوٹے ہوں گے اور عقل کے بودے، قرآن کی تلاوت کریں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا۔بات کریں گے تو خیر البشر ا کی باتوں کا حوالہ دیں گے مگر دین سے اسی طرح بھاگ رہے ہوں گے جس طر ح کمان سے تیر

 

” حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه ، پیارے نبی صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی خبر بھی نہیں ہوگی کہ اس نے جو دولت حاصل کی ہے وہ حلال کی ہے یا حرام کی“

 

” حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه پیارے نبی صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ”بے شک لوگوں پرکچھ ایسے پہیلی دار ایام بھی آئیں گے کہ جھوٹے کو مان ملے گا اور سچے کا اپمان ہوگا ، دھوکہ باز پر اعتبار آئے گا اور معتبر سے اعتماد اُٹھ جائے گا ، اور لوگوں کے درمیان جو سمجھ میں کمتر ہوگا وہی ان کے امور میں زیادہ بو لے گا “

 

” حضرت انس بن مالک  رضي الله عنه روایت کرتے ہیں کہ پیارے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ” جب علم اُٹھ جائےگا اور جہالت کا بول بالا ہوگا ،جب مے خواری عام ہوگی اور بدکاری پھیل جائے گی ، جب مرد چلے جائیںگے اور عورتیں رہ جائیں گی اور پچاس عورتوں کا صرف ایک مرد نگران و سرپرست ہوگا تب قیامت قریب آجائے گی“

 

” حضرت ابنِ عمر رضي الله عنه  پیارے نبی صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” آخر آخر میری اُمّت کے کچھ افرد ہودج کی طرح بنی سواریوں پر آ ئیں گے ، وہ مسجدوں کے دروازوں پر آ اتریں گے ، ان کی عورتیں کپڑوں میں ملبوس ہو کر بھی برہنہ سی ہوں گی ،،

 

” حضرت ابوہریرہ  ، پیارے نبی صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” جب راہِ خدا میں حاصل شدہ مال کو پبلک پراپٹی سمجھا جائے ، جب امانت کو مالِ غنیمت سمجھا جائے ، جب امانت کو مالِ غنیمت سمجھا جائے ،جب حصول علم کا مقصد دین نہ ہو، جب آدمی اپنی بیوی کا غلام بن جائے اور ماں کو فراموش کردے، جب آدمی اپنے دوست کو قریب اور اپنے باپ کو دور کردے، اور جب مسجدوں میں ہنگامے ہونے لگے ، جب بے دین قبیلہ کا سردار بن جائے اور قوم کا لیڈر ان میں کا سب سے گھٹیا انسان بنے، جب آدمی کی عزّت اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے کی جائے، جب ناچ گانے کا بازار گرم ہو، جب شراب عام ہوجائے،اور جب بعد میں آنے والے اس امت کے پہلے والوں کو لعنت کرنے لگیں ؟ تب لوگ سرخ آندھیوں ، زلزلوں،دھماکوں ، زمین کے دھنس جانے اور صورتوں کے بگڑ جانے کاانتظار کریں‘ بھونچال و بحران کی راہ دیکھیں اور یکے بعد دیگرے نشانیاں اسی طرح ظاہر ہوںگی جس طرح دھاگہ ٹوٹنے پر ہار سے موتیاں یکے بعد دیگرے گرتی ہیں“

 

اس سے پہلے تو کسی نے مجھے زیرنہیں کیا

 

اس کا نام رکانہ تھا اور اس کا تعلق بنو ہاشم سے تھا۔ مضبوط پٹھوں والا بڑا سخت جان و سخت د ل انسان ۔ مگر تھا وہ بت پرست۔ اضم ایک وادی تھی، وہ وہاں بکریاں چرایا کرتا تھا ۔ایک روز چلتے چلتے پیارے نبی ا اس وادی کی جانب نکل پڑے ، اس وقت آپ کے ساتھ کوئی اور نہیں تھا۔ راستے میں رکانہ کا سامنا ہوا ، اُس نے آپ کو دیکھا تو روبرو آکے کھڑا ہوگیااور کہنے لگا : ” اے محمد ! ہمارے معبود لات و عزیٰ کو برا بھلا کہنے والا کیا تو ہی ہے؟( سنا ہے کہ ) تیر ایک معبود ہے ’زبردست حکمت والا‘ جس کی طرف تو لوگوں کو بلاتا ہے؟اگر تیرے اور میرے بیچ خون کا رشتہ نہ ہوتا تو میںتجھ سے اتنی بات بھی نہ کرتا بلکہ تجھے مار ہی ڈالتا ۔ پھر میں بھی دیکھتا کہ تیرا وہ ’زبردست حکمت والا‘ معبود تجھے مجھ سے کیسے بچا پاتا ہے؟ چل ہم دونوں کشتی لڑتے ہیں ، اپنی مدد کے لیے تو اپنے معبود کو پکار اور میں مدد کے لیے لات و عزیٰ کو نِدا دیتا ہوں،اگر تو نے مجھے پچھاڑ دیا تو اس ریوڈ میں سے تیری پسند کی دس بکریاں تو جیت لے گا۔ اللہ کے پیغمبرصلى الله عليه وسلم نے جواب دیا : ” ٹھیک ہے ،تو چاہے تو میں مقابلہ کے لیے تیار ہوں “ پھر آپ نے اُسے تھاما اور دھڑ سے زمین پر گرادیا اور اس کے سینے پر چڑھ بیٹھے۔

 

رکانہ کو یقین نہیں آرہا تھا کہ آپ نے اس کو ہرا دیا تھا ۔ وہ کہنے لگا ” تیرے بس کی بات کہاں کہ تو مجھے مات دیتا ، یہ تو تیرا وہی ’زبردست حکمت والا‘ معبود ہے جس نے تیری دست گیری كي جبکہ لات و عزیٰ نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا،ورنہ اب تک تو کوئی مجھے پچھاڑہی نہیں سکا ہے۔

 

اس نے بکریوں میں دس کا اضافہ کیا اور آپکے سامنے دوسری بار میدان میں اترنے کی مانگ رکھی ۔ آپ تیارہو گیے اور دوسری بار بھی چت گراکر اس کے سینے پر سوار ہو گیے۔اس نے انعام میں دس بکریاں اور بڑھا دیں اور تیسری بار کے لیے آپ سے اکھاڑے میں اترنے کو کہا۔ آپ نے ہامی بھر لی اور تیسری بار بھی اسے شکست کا مزہ چکھایا۔

 

”رسّی تمام جل گئی پر بل نہ گیا “ اس نے کہا میں تیس بکریاں اور دیتا ہوں مگر تجھے پھر ایک بار مجھ سے لڑنا ہوگا ۔

 

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : رکانہ اب اس کی ضرورت نہیں مگر میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں اسے قبول کرلے اور خود کو آگ سے بچالے۔ دیکھ اسلام ہی تیری نجات کا راستہ ہے۔

 

اس نے کہا ”جب تک کوئی نشانی نہیں بتاوگے میں بات ماننے والا نہیں“ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ” اللہ گواہ ہے ، اگر میں پرور دگار سے کوئی نشانی مانگ کر تجھ کو دکھاوں تو کیا واقعی تو میرا پیغام قبول کرلے گا؟“ اس نے کہا : ہاں، میں قبول کرلوں گا۔

 

قریب میں ایک شاخوں دار تناور درخت کھڑا تھا، اللہ کے نبی نے اس کی طرف ہاتھ بتاکر کہا کہ اللہ کے حکم سے آجا، درخت آگے بڑھنے لگا اور اتنا قریب آگیا کہ پیارے نبی ا اور رکانہ کے بیچ میں پہنچ گیا۔

 

مگر اس کے باوجود وہ اپنی بات سے مکر گیا اور اسلام قبول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ ”پھر تومکہ کی عورتیں اور بچّے کہنے لگیں گے کہ رکانہ محمد سے مرعوب ہوکر مسلمان بنا ہے جبکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیںکہ ان بازو ¿وں کو کبھی کسی نے بھی چِت نہیں کیا ہے ، دن یا رات کی کوئی گھڑی میں جانتا ہی نہیں جب میرے دل میں کسی کا خوف یا رعب داخل ہواہو۔مگر آج پہلی بار تونے یہ دونوں کردیا ہے جا تیری بکریاں لےجا ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے کہا” جب تجھے اسلا م نہیں لانا ہے تو مجھے بھی تیری بکریوں کی ضرورت نہیں۔ جب اللہ کے رسول ا وہاں سے لوٹنے لگے تودیکھا کہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما دونوں آپ کی طرف ہی آرہے تھے، ان دونوں کو جب پتا چلا کہ آپ وادی رکانہ کی طرف گئے ہیں تو وہ آپ کی تلاش میں نکلے تھے ۔انہیں اندیشہ تھا کہ آپ کو اکیلا پاکر کہیں وہ آپ کو مار نہ ڈالے جب قریب پہنچے تو دونوں نے کہا ” اے اللہ کے نبی! آپ اکیلے کیسے اس وادی میں پہنچ گئے جبکہ آپ کو پتا ہے کہ اس طرف رکانہ رہتا ہے ؟ آ پ کو جھٹلانے والوں میں وہ بڑا سخت بھی ہے اور خطرناک بھی۔

 

ان دونوں کی بات سن کر آپ ہنس دئے پھر فرمایا : ” وہ کیسے مجھ تک پہنچ پاتا جب کہ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کی ذمّہ داری یہ کہہ کے لی ہے و اللہ یعصمک من الناس اور اللہ تجھے بچالیگا لوگوں سے

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*