ہرحال میں مطمئن رہتا ہے مومن

محمد مجیب جنتوری ندوی (کویت )

 

ایک مومن ہرحالت میں مطمئن رہتا ہے، اگر دکھ اور رنج ، مصیبت اور آزمائش سے دوچار ہوتا ہے تو اپنے خالق ومالک ، رب کریم ورحیم کے فیصلے سے راضی ہوکرصبرکرتا ہے۔

 

اگر اس کو خوشی ومسرت نصیب ہوتی ہے، کامیابی ملتی ہے، فراوانی ، خوشحالی اور چین وسکون حاصل ہوتاہے تو وہ ان نعمتوں کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالی کا شکراداکرتا ہے، اللہ تعالی کی نافرمانی سے بچتا ہے، ہروقت نعمتوں کو یاد کرکے ، ان نعمتوں سے محروم انسانوں کو دیکھ کر اللہ تعالی کی مزید اطاعت وفرمانبرداری، اس کے بندوں کے ساتھ مزید بہترسلوک ، اور اپنی شخصیت کو مزید نکھارنے کی کوشش کرتا ہے۔

 

مومن ہرحالت میں اللہ سے مانگتا، اپنے ہرمعاملے کو اللہ تعالی کے دربار میں پیش کرتا اور کامیابی کی امید اور ناکامی سے حفاظت کی امید اسی سے وابستہ رکھتا ہے۔

 

اس کی زندگی میں آئیڈیل اللہ تعالی کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہوتی ہے۔ وہ صبح بیدار ہوتا ہے تو اس کے ذہن ودل اور نگاہوں میں اپنے محسن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی صبح ہوتی ہے ، وہ بھی ان ہی کی طرح اللہ کی یاد اور اس کی فرمانبرداری کے ساتھ صبح کرتا ہے۔

 

نماز فجرکی ادائیگی سے اپنے دن کا آغاز کرتا ہے۔صبح کی ان دعاؤں کا اہتمام کرتا ہے جن کا محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں اہتمام کیا۔ وہ ان دعاؤں ، ان عبادتوں اور اللہ رب العزت کی فرمانبرداری پر یقین کامل رکھتا ہے، اس کے بے مثال فائدوں سے اس کے ذہن ودل مکمل طور پر آگاہ ہوتے ہیں، اس کے شب وروز محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے نمونے پر گزرتے ہیں اور اس کو دنیا کی مصروفیات ، دنیا کی چمک دمک چکا چوند نہیں کرسکتی ۔ شیطان مردود اگر کوئی موقع پاکر اس کو بہکانے کی کوشش بھی کرتا ہے تو وہ اس سے اللہ کی حفاظت اور پناہ مانگتا ہے، اور اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کی شیطان مردود کے جال سے حفاظت فرماتا ہے۔

 

اسی طرح کاروبار، دفتر، اور معاشرے کے ساتھ معاملات میں اس کا رویہ محسن انسانیت

 

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطابق ہوتا ہے، وہ دفتر میں رہے ، کاروبارمیں رہے یا پھر کسی فرد کے ساتھ کوئی معاملہ کرنے میں مصروف رہے ہروقت اس کا قبلہ بیت اللہ ہوتا ہے۔ یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے منہ نہیں پھیرتا۔

 

دن کے فرائض، اور صحیح سمت میں دن کے اوقات گزارنے کے بعد جب وہ اپنے اہل وعیال اور رشتہ داروں میں ہوتا ہے، اس وقت بھی اس کے ذہن ودماغ میں محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا اثر ہوتا ہے۔

 

پھر جب وہ دن بھر کی تکان دور کرنے کے لیے اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق سونے کے لیے بستر کا رخ کرتا ہے تو اس کے آخری کلمات بھی توحید ورسالت کے نغمے سے سرشار ہوتے ہیں، اور جب نیندکا پہلا جھونکا آتا ہے تو اس وقت اس کا دل تمام دنیا اور دنیامیں اس سے کسی بھی قسم کی وابستگی رکھنے والوں کے لیے صاف اور شفاف ہوتا ہے اور وہ محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ وہ جنتی ہے۔ سبحان اللہ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*