عالمی اقتصادی بحران کا حل اسلام ميں ہے

گذشتہ دنوں جب رياستہائے امريکہ ميں معاشی بحران کی آگ لگی تو چندلمحوں ميں اسکی لپيٹ سے پوری دنيا جھلسنے لگی ،کتنی اقتصادی منڈياں اورعالمی تجارت گاہيں چاروں شانے چت ہوگئيں ، کھربوں ڈالرکا نقصان ہوا،کتنے عالمی بنک بند ہوگئے ،کتنے اصحاب ثروت قلاش بن گئے گويا يہ کوئی سونامی تھا جو اکثر اقتصادی منڈيوں کو بہالے گيا ۔ اس حادثے کے زيراثر کتنے لوگ عقلی ديواليہ پن کے شکار ہوچکے ہيں ،کتنے لوگوں نے خودکشی کرلی ہے ،کتنے لوگ غم والم کی تاب نہ لاکر جان سے ہاتھ دھو بيٹھے ہيں ۔ اورايک سروے کے مطابق عالمی منڈيوں سے جڑے تقريبا 75فيصد اشخاص نفسياتی امراض کے شکار ہيں اور اس ميں مزيداضافہ کا امکان ہے۔ (عالمی ادارہ برائے صحت ) ۔

 بحيثيت مسلمان ہمارے لئے اس حادثے ميں درس ہے ، عبرت ہے ، نصيحت ہے۔ يہ اقتصادی بحران دراصل اس سودی کاروبار کا حتمی نتيجہ ہے جس پرآج سرمايہ دارانہ نظام قائم ہے ، واقعہ يہ ہے کہ جب دنياکااقتصادی نظام سودی کاروبار پر چلنا شروع ہوجاتا ہے تو اس کی تباہی يقينی ہوجاتی ہے ۔ کيونکہ” سود اقتصادی زندگی کے لئے ايڈز کی مانند ہے جو اس کی دفاعی قوت کو گھن لگا ديتا ہے اور اسے ہلاکت وبربادی کے گڈھے ميں جا گراتا ہے “ يہ پيغام ہميں قرآن کريم نے آج سے چودہ سو سال پہلے دوٹوک انداز ميں دياتھا: ”اللہ تعالی سودکو مٹاتا ہے اور صدقات وخيرات کو بڑھاتا ہے“ ۔ ( البقرہ 276) چنانچہ اشتراکی نظام کے دم توڑنے کے بعد سودی کاروبار پر مبنی سرمايہ دارانہ نظام کے سنگين نتائج عالمی معاشی بحران کی شکل ميں ہميں کچھ يہی سبق دے رہيں ہيں

ديکھو اسے جو ديدہ عبرت نگاہ ہو ۔

اب دنيا کے لئے اس بحران سے نکلنے کا واحد علاج اسلامی مالياتی نظام کی تطبيق ہے جو سودی کاروبار سے بالکل خالی اور زکاة کے حيرت انگيزنظام پر منحصر ہے جس سے اقتصاديات ميں پوری ترقی ہوتی ہے اور معاشرے سے غربت وافلاس کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ تاريخ شاہد ہے کہ جب زکاة کا نظام نافذ ہوا تو حضرت عمربن عبدالعزيزؒ کے عہدمبارک ميں اصحاب اموال اپنے مالوں کی زکاة لےکرنکلتے تھے کہ کوئی مستحق مل جائے ليکن تلاش بسيارکے باوجود کوئی مستحق نہ ملتا تھا۔

آج مغرب کوبھی اس بات کا احساس ہونے لگاہے کہ سرمايہ داری کے بھنور سے انہيں اسلامی اقتصادی نظام ہی نکال سکتاہے چنانچہ مغربی ممالک کے بعض مبصرين اقتصادی ميدان ميں اسلامی نظام ماليات کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہيں ۔ يورپ کی ايک ماہراقتصاديات خاتون ”سواتی تانيجا“لکھتی ہيں ”امريکہ کامعاشی بحران اسلامی اقتصادی نظام کے لئے سنہری فرصت ہے جو سودی کاروبارسے بالکل خالی ہے“ اورمجلہ” تچاليز “کے ايڈيٹر نے لکھاہے ”اگر ہماری استثمارکاری کے ذمہ داران نے قرآن کريم کی تعليمات کا احترام کيا ہوتا اور ان کی روشنی ميں اقتصادی نظام مرتب کی ہوتی تو ہم اس بحران کے شکار نہ ہوتے “ ظاہرہے کہ موجودہ وضعی نظام محدود انسانی عقل کی پيداوارہے جس ميں کھوٹ کا درآنا يقينی ہے جبکہ اسلامی نظام حيات خالق کائنات کا اُتارا ہوا وہ فطری نظام ہے جو مخلوق کے طبائع ورجحانات سے بخوبی آگاہ ہے ۔

 موجودہ صورتحال ميں اسلامی نظام معيشت کی تنفيذکامطالبہ گوکہ جزوی شکل ميں ہو دراصل اسلام کے غلبہ کا اعلان ہے اوراس ميں اسلامی اقتصاديات کے ماہرين کے لئے زريں موقع ہے کہ وہ دنيا کے سامنے اسلام کے مالياتی نظام کی تفاصيل پيش کريں اوراسلامی معاشيات کے نفاذ کا مطالبہ کر نے والوں کو اسلام کے مالياتی نظام سے واقف کرائيں ۔

علماءاور داعيان اسلام کے لئے بھی سنہری فرصت ہے کہ وہ اسلام کو ايک مکمل نظام حيات کی شکل ميں پياسی دنياکے سامنے پيش کريں اورانہيں احساس دلائيں کہ آج بھی انسانيت کے سارے مسائل کا حل اسلام ميں ہے ۔

سودی بنکوں کی ترقی پر فريفتہ دنيا کے لئے بھی اس ميں سامانِ عبرت ہے کہ وہ سود کی ظاہری چمک دمک سے دھوکہ نہ کھائيں، بظاہراس ميں ترقی دکھائی ديتی ہے ، مال ميں ترقی، کار وبار ميں ترقی ، آل واولاد ميں ترقی ليکن يہ نگاہوں کو خيرہ کرنے والاسراب ہوتا ہے جس کاخميازہ اقتصادی بحران کی شکل ميں ديريا سوير بھگتنا پڑتاہے ۔

٭٭٭

ماہ دسمبرکا تازہ شمارہ آپ کے سامنے ہے ، کويت کی سرزمين پراس مجلہ کا اجراءاردو داں حلقوں کے لئے نيک فال ہے جس کے لئے ہم اللہ کی توفيق کے بعد ذمہ داران ipc کے احسان شناس ہيں جنہوں نے ہماری ضرورت کومدنظر رکھتے ہوئے اردو ماہنامہ کے اجراءکی اجازت مرحمت فرمائی ہے ۔

عزيز قاری! يہ مجلہ آپ کا ہے، اور آپ کی فکرکا ترجمان ہے، اس کے توسط سے آپ اپنی فکر ديگر قارئين تک پہنچا سکتے ہيں ،ہماری آپ سے گذارش ہے کہ اسے ہاتھوں ہاتھ ليں، خود مستفيد ہوں اوردوسروں تک پہنچاکرثواب دارين حاصل کريں۔ يہ شمارہ آپ کو کيسا لگا ؟ ہميں ضرورمطلع فرمائيں،ہم آپ کے گرانقدر تاثرات اورمفيد مشوروں کے منتظرہيں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*