اسلامی تعليمات کا خلاصہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے

صفات عالم محمد زبير تيمي

آج امت مسلمہ تاريخ کے نہايت نازک دورسے گذر رہی ہے ،اسلام دشمن طاقتيں ہر طرف سے ان پر حملہ آور ہيں،ان کے اقدار و روايات اور تشخص کو مٹانے کے درپے ہيں،کہيں انکے دينی شعائر کو طنز وتعريض کا نشانہ بنايا جارہاہے تو کہيں دہشت گردی اور تخريب کاری کے نام پرانہيںخوف زدہ اور ہراساں کيا جارہاہے گويا دہشت گردی، سفاکيت اور بنياد پرستی مسلمانوں کی نشانی بن چکی ہے ۔ جہاں کہيں تخريبی کاروائی ہوئی شک کی سوئی فورا مسلمانوں کی طرف گھما دی جاتی ہے۔ حالانکہ اسلام دين رحمت ہے، ساری مخلوق کے لئے امن وامان کا پيغام ہے،اس کی خميرہی ميں سلامتی پوشيدہ ہے، يہ محض دعوی نہيں بلکہ زمينی حقائق گواہ ہيں کہ آج سے 14 سوسال پہلے جب انسانيت زندگی کی آخری سانسيں لے رہی تھی،لوگ ايک دوسروں کے خون کے پياسے تھے،لوٹ ماراور ظلم وطغيان کے رسيا تھے ۔ ايسے پرآشوب وقت ميں رحمت عالم صلى الله عليه وسلم جب نظام رحمت لے کر آتے ہيں تو25سال کی مختصر مدت ميںساراجزيرہءعرب امن وامان کا گہوارہ بن جاتاہے، جانوں سے کھيلنے والے جان کے محافظ بن جاتے ہيں،پرديسيوں کو لوٹنے والے ان پر سب کچھ لٹانے کے لئے تيار ہوجاتے ہيں

اور ايسا امن پسند سماج وجود ميں آتاہے کہ رسول رحمت کی پيشين گوئی کے مطابق ايک عورت تنہا قادسيہ سے صنعا تک سفرکرتی ہے اور اس سے کوئی تعرض نہيں کرتاہے۔آج بھی دين اسلام کے ماننے والے اس دھرتی پرامن وامان کے پيغامبر ہيں ،کيونکہ انکے وجود کا مقصد دنيا ميں قيام امن ہے،وہ امن کے قيام کے لئے جيتے ہيں اور اسی کے لئے مرتے ہيں ۔ ان کی کتابِ ہدايت ميں انسانی جان کا احترام اس قدر ملحوظ ہے کہ کسی فرد کے قتل ناحق کو پوری انسانيت کا قتل قرار ديتا ہے ۔ ” جو کوئی کسی انسان کو جبکہ اس نے کسی کی جان نہ لی ہو يا زمين ميں فساد برپا نہ کيا ہو ، قتل کرے تو گويا اس نے تمام انسانوں کو قتل کرڈالا اور جو کوئی کسی ايک جان کو (ناحق قتل ہونے سے ) بچائے‘ تو گويا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی“ ۔ (سورہ مائدہ آيت نمبر 32 )

يہ امت جس بنی کواپنی جان سے زيادہ عزيزسمجھتی ہے وہ ساری انسانيت کے لئے رحمت بن کر آئے تھے۔(الانبياء 107) يہ انہيں کی تعليم ہے کہ ”جو کوئی اسلامی مملکت ميں رہنے والے غيرمسلم کو قتل کرديتا ہے ‘ وہ جنت کی ہوا تک نہ پائے گا “ بخاری ايک نبی رحمت نہيں بلکہ سارے انبياءکی تعليمات کا خلاصہ قيام امن تھا ليکن ہر دور ميں ان کے خلاف جو جماعت کمربستہ ہوئی وہ دہشت گردوں کی جماعت تھی ۔ آج بھی باطل قوتيں پوری دنياميں اسلام کے غيرمعمولی فروغ کوديکھـ کر پريشان ہيں کہ مبادا ہماری نئی نسل اسلام کے پيام امن کو اپنالے جس سے ہماری پاپائيت جاتی رہے ۔ چنانچہ وہ دہشت گردانہ کاروائياں انجام ديتے خود ہيں ليکن بدنام مسلمانوں کو کرتے ہيں،

ايسی نازک صورتحال ميں امت مسلمہ کے باشعور افراد کونہايت دورانديشی سے کام لينے کی ضرورت ہے ، ہماری طرف سے کوئی ايسی جذباتی حرکت نہيں ہونی چاہئے جس سے غيروں کو انگشت نمائی کا موقع ملے ۔ رہے نام اللہ کا

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*