ایک عظیم کوتاہی ( آصف ریاض)

 موڈرنزم ایک ایسا نام ہے ،جس کو سنتے ہی مسلمان بھڑک اٹھتے ہیں۔ میں نے بہت غور کیا کہ آخر ایسا کیوں ہے؟

بہت غورو خوض کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ موڈرنزم کے نام پر مسلمانوں نے جس چیز کو جانا ہے وہ اسی قابل ہے کہ اس پر لعنت بھیجی جائے اور اس سے نفرت کی جائے۔

ًموڈرنزم کا نام آتے ہی مسلمانوں کے ذہنوں میں وہ تصویر یں ابھر آتی ہیں جس میں خواتین برہنہ یا نیم برہنہ ہوتی ہیں۔مرد و خواتین کلبوں اور پارکوں میں بیٹھ کر شراب پی رہے ہوتے ہیں۔ گھروں میں پورن فلمیں چل رہی ہوتی ہیں، لو ان ریلشن شپ کے نام پر نوجوان مردو خواتین میاں بیوی کی طرح رہتے ہیں۔شادی سے پہلے جسمانی تعلقات قائم کرنے کو فخر سمجھتے ہیںوغیرہ۔مسلمان ماڈرنزم کے نام پر انھیں چیزوں کو جانتے ہیں۔حالانکہ یہ ماڈرنزم کا ایک کمتر اندازہ ہے۔ مسلمان جس چیز کو ماڈرنزم سمجھتے ہیں وہ ماڈرنزم نہیں ہے بلکہ وہ ماڈرنزم کا Rubbish Material یعنی تلچھٹ ہے۔

صحیح بات یہ ہے کہ ماڈرنزم اعلیٰ ڈسکوری اور اعلیٰ دریافتوں کا نام ہے۔ نیو کمیونکیشن،ٹرانسپورٹیشن ، میڈیا ،ٹکنالوجی ،گلوبلائزیشن ‘یہ تمام چیزیں ماڈرنائزیشن کی ظاہرہ ہیں۔

نیو کمیونکیشن کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکا ہے کہ آدمی دنیا کے ایک کونے میں بیٹھ کر دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے شخص سے معاملہ کرسکے ۔وہ گھر میں بیٹھ کر باہر کا کام سنبھال سکے ۔وہ دنیا کے پیچھے دوڑ نے کے بجائے دنیا کو اپنے پیچھے دوڑائے ۔

نیو ٹرانسپورٹیشن نظام کے سبب یہ ممکن ہوسکا ہے کہ آدمی زمین پر ہوا کی رفتار میں دوڑے۔ وہ سمندر میں اپنے لیے راستہ بنائے ۔آسمان پر تیز رفتار پرندوں کی طرح اڑے۔

میڈیا انڈسٹری کے ذریعہ یہ ممکن ہوسکا ہے کہ زمین پر ادخال کلمہ کا واقعہ انجام پائے۔ ہر گھر میں خدا کاکلمہ داخل ہو ۔اسی نئے نظام کی وجہ سے دنیا میں تعلیم کی دوڑ شروع ہو ئی ہے جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوسکا ہے کہ لوگ کھلے ذہن کے ساتھ خدائی کلمات پر غورو فکر کرسکیں۔

نئی ٹکنا لوجی کے ذریعہ یہ ممکن ہوسکا ہے کہ ہزار کلو میٹر دور سے ہی دشمن کو نشانہ بنا لیا جائےما۔ڈرنزم اسی ٹکنا لوجی کا ظاہرہ ہے، جسے پاکستان میں تقریباً ہر روز آزمایا جا رہا ہے۔

اسی ماڈرنائزیشن کی وجہ سے دنیا میں وہ واقعہ پیش آیا ہے ،جسے گلوبلائزیشن کا واقعہ کہا جا تا ہے۔اس واقعہ کے بعد دنیا سکڑ کر ایک گاﺅں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

یہی وہ اعلیٰ دریافتیں ہیں جنھیں بتانے کے لیے ماڈرنزم کا استعمال کیا جا تا ہے۔ لیکن چونکہ مسلمان ان اعلیٰ دریافتوں سے شعوری طور پر بے خبر ہیں اس لیے وہ اسے سنتے ہی بھڑک اٹھتے ہیں۔وہ اسے ایک قسم کی گالی تصور کرتے ہیں، کیونکہ ماڈرنزم کے نام پر ان کے ذہن میں جو تصویر یں ابھرتی ہیں وہ پورنوگرافی ، فحاشی ،عریانیت ، اور بدکاری کی تصویریں ہوتی ہیں۔ فیشن انڈسٹری ،فلم انڈسٹری اور سیکس انڈسٹری کو مسلمان اصل ماڈرنائیزیشن سمجھ چکے ہیں۔

 مسلمان ماڈرنزم کے نام پر ماڈرنزم کےGrabage (فضلہ ) کو جانتے ہیں۔ وہ اصل کونہیں جانتے۔ہر چیز کا ایکRubbish Material ہوتا ہے جیسے تیل کا تلچھٹ اور پانی کا waste Materialوغیرہ ۔اسی طرح ماڈرنزم کا بھی ایکRubbish Material ( فضلہ )ہے ۔وہ Rubish Material، فلم انڈسٹری ، سیکس انڈٹری ،فیشن انڈسٹری وغیرہ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔مسلمان اسی Rubbish Material کو اصل سمجھ بیٹھے، اسی لیے وہ ماڈرنزم کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ وہ ماڈرنزم کے تئیں نفرت میں جینے لگے۔مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ ماڈرن ورلڈ انہیں چیزوں کی اشاعت و ترویج میں لگا ہو اہے حالانکہ یہ ایک غلط سوچ ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ کچھ تجارتی ذہن رکھنے والے لوگ اس قسم کی Rubbish Materialکی تجارت کر رہے ہیں۔ جیسے بہت ساری کمپنیاں اسکریپس ( فضلہ) فروخت کرتی ہیں ۔ ان کا پیشہ Waste Materialکی تجارت ہوتا ہے۔ ماڈرن ورلڈ کے اعلیٰ اذہان محض فضلہ کی تجارت میںمصروف نہیں ہیں ۔اگر ایسا ہوتا تو ماڈرن ورلڈ میں نئی نئی ڈسکوری اور نئی نئی دریافتوں کا کام رک جاتا لیکن ایسا نہیں ہے ۔ ماڈرن ورلڈ میں آج بھی نئی نئی دریافتیں ہورہی ہیں ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بھی وہاں اعلیٰ اذہان اعلیٰ دریافتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ مثلاً امریکی سائنسدانوں نے پچھلے دنوںافغانستان میں معدنیات کے بڑے ذخائر کو دریافت کیا ہے۔مزید جانکاری کے لیے دیکھئے ٹائمز آف انڈیا 15) جون(2010

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ماڈرنزم کے نام پر ماڈرنزم کے( فضلہ) یعنی اس کے Rubish Material کو جانتے ہیں اور اسی کو پکڑ کر اصل سے نفرت کر نے لگے ہیں۔اس لئے ہم اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

عظیم کوتاہی

ماڈرنزم کے معاملہ میں ہم اسی کوتاہی کے شکار ہیں جس کوتاہی کے شکار پچھلے زمانہ کے مشرکین تھے۔ پچھلے زمانہ کے مشرکین نیچر ورشپ میں مبتلا تھے اس لیے وہ کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکے تھے کیونکہ جو چیز آپ کی نگاہ میں ورشپ کی حیثیت اختیار کر لے وہی چیز انوسٹی گیشن کا میٹر نہیں بن سکتی۔ لوگ چاند کی پوجا کرتے تھے اس لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ اس کے اوپر پاﺅں رکھیں۔ اسی طرح لوگ زمین کو دیوی کا مقام دئے ہوئے تھے اس لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ اس کے سینہ کو چاک کر کے اس کے اندر چھپے خزانے کو نکالیں۔ پیغمبر اسلام نے آکر اس خیال کو توڑا ۔پیغمبر اسلام نے لوگوں کو نیچر ورشپ سے نکالا اور تو حید کی بنیاد ڈالی۔جب آپ نے نیچر کے رسپکٹ کو توڑ دیا تو ایک پرو سس کا آغاز ہوا، جسے ہم انوسٹی گیشن کا پرو سس کہہ سکتے ہیں۔اب ہر چیز کو انوسٹی گیٹ کیا جانے لگا اور اس طرح دنیا سائنس ٹکنا لوجی اور ماڈرنائزیشن کے دور میں داخل ہوگئی ۔

 آج جو سائنسی دنیا ہمارے سامنے ہے وہ در حقیقت اسی پروسس کا کلمینیشن اور تکمیل ہے جسے پیغمبر اسلام نے شروع کیا تھا۔ مشرکین کو نیچر کے تئیں رسپکٹ کے جذبہ نے اندھا بنا دیا تھا اسی طرح مسلمانوں کو ماڈرنزم کے تئیں نفرت کے جذبہ نے اندھا بنا دیا ہے۔ جس سسٹم سے آپ نفرت کریں اس میںآپ کو اپنے فائدہ کی کوئی چیزدکھائی نہیں دے گی ہر چند کہ وہاں آپ کے مفاد کی ایک دنیا آباد ہوگی ۔

اب وہ آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنی آنکھوں پر پڑے پردہ کو ہٹائیں ۔وہ تلچھٹ اور اصل میں فرق کرنا جانیں۔وہ حقیقت کو فسانہ سے الگ کر کے دیکھیں۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*