حج کی حکمتیں اور مصلحتیں

سيد سليمان ندوي رحمه الله

حج اسلامی عبادت کا چوتھا رکن اور انسان کی خدا پرستی اور عبادت کا پہلا اور قدیم طریقہ ہے ۔اس کے لفظی معنی قصد وارادے کے ہیں ،اسلام میں حج سے مقصود ملک عرب کے شہر مکہ میں جاکر وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنائی ہوئی مسجد ”خانئہ کعبہ “کے گرد چکر لگانا اور مکہ کے مختلف مقامات میں حاضر ہوکر کچھ آداب اور اعمال بجالانا۔

حج کی حقیقت :

حج کی حقیقت خدا کی رحمتوں اور برکتوں کے مرکز خاص میں حاضر ی ،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح دعوت حق پر لبیک کہنا اوراس عظیم الشان قربانی کی روح کو زندہ کرنا ہے ،یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی میں اللہ تعالی کے سامنے تسلیم ورضا اورفرمانبرداری واطاعت گزاری کے ساتھ اپنی گردن جھکادینا اور اس معاہدے کو اسی طرح بجالانا جس طرح وہ ہزاروں برس پہلے بجالائے تھے ۔یہی ملت ابراہیمی اورحقیقی اسلام ہے ،جس کو حاجی ان مقدس بزرگوں کے اعمال اور قدیم دستوروں کے مطابق حج میں اپنے عمل اور کیفیت سے مجسم کرکے ظاہر کرتے ہیں ۔ان ہی کی طرح بن سلے اورسادہ کپڑے پہنتے ہیں ،مقرہ دنوں تک سرکے بال نکالتے اور ترشواتے نہیں ۔دنیاکے عیش ونشاط اورتکلف زندگی سے دوررہتے ہیں ،نہ خوشبولگاتے،نہ رنگین کپڑے پہنتے ،نہ سر چھپاتے ہیں اورجس طرح اللہ کی پکار پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے لبیک کہا تھا وہی ہزاروں برس پر انا نعرہ ان کی زبانوں پر ہوتا ہے۔یہ خدمت کی آمادگی کا ترانہ اورتوحید کی صداان تمام مقامات اور حدود میں بلند کرتے ہیں ،جہاں ان دونوں بزرگوں کے نقش قدم پرے تھے ۔سات دفعہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں ،صفااورمروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں، قربان گاہ میں پہنچ کر قربانی کرتے ہیں ،عرفات کے میدان میں جمع ہوکر اپنی گزشتہ عمر کے گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی چاہتے ہیں ۔
لاکھوں بندگان خدا کا ایک ہی وحدت کے رنگ میں ،ایک ہی لباس اورشکل وصورت اور ایک ہی حالت وجذبے میں،بے آب وگیاہ اورخشک میدان اورجلے ہوے پہاڑوں کے دامن میں اکٹھے ہوکر دعا ومغفرت کی پکار اور اپنی بدکاریوں کا اقرار ایساروحانی منظراورکیفیت پیدا کرتا ہے جس کی لذت تمام عمر فراموش نہیں ہوتی ۔پھر اپنی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی اوراپنی روحانی قربانی کی تمثیل میں ایک جانور ذبح کرتے ہیں اوراس وقت اسی اطاعت اورقربانی کا اپنی زبان سے اقرار کرتے ہیں جوکبھی اسی میدان میں ،اسی موقع پر اوراسی حالت اوراسی شکل میں حضرتابراہیم علیہ السلام نے اپنی زبان سے ظاہر کیا تھا۔

حج کی مصلحتیں اورحکمتیں :

نماز،زکاة اورروزہ کی طرح حج کے مقاصد اورفوائد بھی خود اسلام کے صحیفہ ربانی میں مذکورہیں ۔خانئہ کعبہ اس دنیاں میں عرش الہی کاسایہ اور اس کی برکتوں اوررحمتوں کامرکز ہے ۔یہ وہ منبع ہے جہاں سے حق پرستی کاچشمہ ابلا اوراس نے تمام دنیاکوسیراب کیا ۔ یہ وہ جغرافی شیرازہ ہے جس میں ملت کے تمام افراد بندھے ہوئے ہیں جو مختلف ملکوں اورشہروں میںبستے ہیں ،مختلف زبانیں بولتے ہیں ،مختلف لباس پہنتے ہیں ،مختلف تمدنوں میں زندگی بسر کرتے ہیں ،مگر وہ سب کے سب باوجود ان فطری اختلافات اور طبعی امتیاز ات کے ایک ہی خانئہ کعبہ کے گرد چکرلگاتے ہیں اورایک ہی قبلہ کو اپنا مرکز سمجھتے ہیں اورایک ہی مقام کو ”ام القری“مان کر وطنیت ،قومیت ،تمدن ومعاشرت ،رنگ روپ اور اس جیسی دیگرتمام امتیازات کومٹاکر ایک ہی وطن ،ایک ہی قومیت (آل ابراہیم)ایک تمدن ومعاشرت (ملت ابراہیمی)اورایک ہی زبان (عربی)میں متحد ہوجاتے ہیں ۔اورعرصئہ حج میں تمام قومیں ایک ملک میں ،ایک لباس احرام میں، ایک وضع میں دوش بدوش ،ایک قوم بلکہ ایک خانوادہ کی برداری بن کر کھڑی ہوتی ہےں۔اورایک ہی بولی میں خداسے باتیں کرتی ہےں ۔یہی وحدت کاوہ رنگ ہے جو ان تمام مادی امتیازات کو مٹادیتا ہے اورتمام دنیاں کی قوموں کی ایک برادری قائم کرکے ان کے تمام ظاہر امتیازات کو جو دنیاکی بدامنی کاسبب ہیں ختم کردیتا ہے ۔

آج ساری دنیاں کے لوگ اس بات کی خواہش مند ہیں کہ قومیت ووطنیت کی لعنتوں سے نکل کر انسانیب برادری کے رشتہ میں شامل ہوجائیں اوریہ بھی چاہتے ہیں کہ تمام دنیا کے لئے ایک واحد زبان ایجادکی جائے ۔اوردنیاکی قوموں میں اتحادپیداکرنے کے لئے ایک
”ورلڈکانفرنس“یا”عالمگیر مجلس“منعقد کرناچاہتے ہیں ،لیکن جہاں تک مسلمانوں کاتعلق ہے آج سے تقریباًچودہ سوبرس پہلے ا ن باتوں کو اپنا کروہ ان سے بہرہ اندوز ہورہے ہیں۔
حج اور مساوات :مساوات اسلام کا سنگ بنیاد ہے ،اگرچہ نماز بھی محدود طریقے پراس مساوات کو قائم کرتی ہے ،لیکن پوری وسعت کے ساتھ اسکی اصلی نمائش حج کے زمانے میں ہوتی ہے ،جب امیر وغریب ،جاہل وعالم ،بادشاہ ورعایا ایک لباس میں ،ایک صورت میں ،ایک میدان میں،ایک ہی طرح اللہ کے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں ،نہ کسی کے لئے جگہ کی خصوصیت ہوتی ہے نہ آگے پیچھے کی قید ۔

حج اوراخلاقی خوبی :

بہت سی اخلاق خوبیوں کا سر چشمہ کسب حلال ہے،چونکہ یر شخص حج کے مصارف میں مال حلال صرف کرنے کی کوشش کرتا ہے ،اس لئے اس کو خود حلال و حرام کی تفریق کرنی پرتی ہے ،اوراس کا جواثر انسان کی روحانی حالت پر پڑسکتا ہے وہ ظاہر ہے ۔
الغرض حج اسلام کا صرف مذہبی رکن نہیں ،بلکہ وہ قومی وملی زندگی کے ہررخ اورہرپہلو پرحاوی اورمسلمانوں کی عالمگیری بین الاقوامی حیثیت کا سب سے بلند منارہ ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*