کہانی ایک مومن خاتون کی ( عبد ا لصبور ندوی)

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک نیک شخص نے نہایت خوبرو و پرہیز گار خاتون سے شادی کی، دونوں ایک دوسرے سے خوب محبت کرتے تھے، مسرت بھرے دن گزر رہے تھے،ایک مرتبہ شوہر کو طلب رزق کے لیے سفر کی حاجت آپڑی، فکر لاحق ہوئی کہ اپنی بیوی کو گھر میں تنہا کیسے چھوڑے، قرابت داروں میں کسی معتبر شخص کی تلاش شروع کی، اسے اپنے سگے بھائی کے علاوہ کوئی معتبر ذمہ دار نہ ملا، بھائی کے گھر میں بیوی کو چھوڑا ، مگر پیارے نبی ا کا یہ فرمان بھول گیا الحمو الموت”دیور موت ہے“ اور وہ سفر پر روانہ ہوگیا۔

دن گزرتے گئے، ایک روز دیور نے اپنی بھابھی کو شہوت رانی پر اکسایا، مگر اس پاکباز خاتون نے اسے سختی سے ڈانٹا اور کہا : تم چاہتے ہو کہ میری عزت کی دھجیاں بکھیرو اور میں شوہر کی خائن بن جاوں، ہرگز نہیں! دیور نے بھابھی کو رسوا کرنے کی دھمکی دی ، مگر بھابھی پر دھمکی کا اثر نہیں ہوا، کہا :تم جو کرنا چاہو کرو، میرے ساتھ میرا رب ہے۔ اس نیک خاتون کا شوہر جب سفر سے لوٹا تو اس کے بھائی نے فوراً اپنی بھابھی پر الزام لگادیا کہ تمہاری بیوی نے مجھے بدکاری پر اکسایا تھا لیکن میں نے منع کیا، شوہر نے بغیر سوچے سمجھے اسی وقت پارسا بیوی کو طلاق دیدی اور کہا: مجھے اپنی بیوی سے کچھ نہیں سننا ہے، میرا بھائی سچا ہے۔

وہ متقی اور خدا ترس خاتون گھر سے انجان منزل کی طرف نکل پڑی، راستے میں ایک عابد و زاہد کا گھر پڑا، دروازہ پر دستک دی اور اپنی ساری کہانی عابد سے کہہ ڈالی، اس عبادت گزار بندے نے اپنے چھوٹے بیٹے کی نگہداشت پر اسے مامور کردیا، ایک دن عابد گھر سے کسی کام کے لیے باہر گیا، گھر کا نوکر موقع پاکر اس خاتون پر ڈورے ڈالنے لگا، مگر عزم و ثبات کی پیکر نے اللہ کی معصیت سے انکار کیا، اور کہا: نبی صلى الله عليه و سلم نے ہم سب کو تنبیہ کی ہے کہ کوئی شخص کسی اجنبی خاتون کے ساتھ خلوت میں ہرگز نہ ہو، اس لئے کہ ان کا تیسرا شیطان ہوتا ہے، نوکر نے خاتون کو دھمکی دی کہ میں تمہیں بڑی مصیبت میں پھنسا دونگا، مگر اس پیکر عفت کے پاوں میں لغزش بھی نہیں آئی، نوکر نے عابد کے بچے کو قتل کردیا اور عابد کے گھر لوٹنے پر قتل کا الزام اس خاتون پر عائد کردیا، اس اللہ والے عابد کو غصہ تو بہت آیا مگر اللہ سے اجر کی امید باندھ کر صبر کر گیا، دو دینار اجرت کے طور پر خاتون کو دئے اور گھر چھوڑنے کا حکم دیا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: غصہ پی جانے والوں اور عفو ودرگزر کرنے والوں کو اللہ محبوب رکھتا ہے۔

عابد کا گھر چھوڑا ،شہر کی طرف رخ کیا، وہاں دیکھا کہ ایک بھیڑ ایک شخص کو پیٹے جارہی ہے، اس نے پوچھا تم لوگ اسے کیوں مار رہے ہو؟ ایک آدمی نے بتایا اس کے ذمہ قرض ہے یا تو قرض ادا کرے یا ہماری غلامی کرے، خاتون نے پوچھا :اس پر کتنا قرض ہے؟ کہا: دو دینار، اس پر خاتون نے انہیں دو دینار دیکر اس شخص کو آزاد کرایا، آزاد ہونے والے شخص نے پوچھا تم کون ہو؟ اس خاتون نے اپنی پوری کہانی بیان کردی، اس پر اس آدمی نے کہا: کہ ہم دونوں ساتھ کام کریں گے اور نفع برابر بانٹ لیں گے، خاتون نے حامی بھر دی، اس آدمی نے کہا: ہم یہ گندی بستی چھوڑ کر سمندری سفر پر نکلتے ہیں، خاتون نے کہا ٹھیک ہے، دونوں کشتی کے پاس پہونچے ، نوجوان نے کہا کہ پہلے تم کشتی پر سوار ہو، وہ سوار ہوگئی اور وہ شخص کشتی کے مالک کے پاس گیا اور کہا: یہ میری لونڈی ہے میں اسے فروخت کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ کشتی کے مالک نے پیسے چکائے اور خاتون کو اس کی لاعلمی میں اسے خرید لیا، وہ شخص پیسہ لیکر بھاگ نکلا، کشتی روانہ ہوئی، خاتون اس شخص کو ڈھونڈنے لگی مگر نہیں پایا، کشتی کے عملہ نے اسے گھیر لیا اور اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگے، خاتون کو تعجب ہوا، اس پر کشتی کے کپتان نے بتایا کہ میں نے تمہیں تمہارے مالک سے خرید لیا ہے اور اب تم وہ سب کرو جس کا حکم دیا جائے، اس نے ملتجیانہ لہجے میں کہا: میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرسکتی مجھے چھوڑ دو، یہ کہنا ہی تھا کہ سمندر میں آندھی اور طوفان آیا، کشتی ڈوب گئی، جہاز کا عملہ اور سارے مسافر ڈوب گئے لیکن وہ صابر خاتون بچ گئی، اس وقت امیر شہر ساحل سمندر پر تفریح میں مشغول تھا، بے موسم کی آندھی کو دیکھ کر وہ بھی گھبرایا لیکن اس کا اثر ساحل پر نہیں تھا، پھر یکایک اس کی نگاہ اس خاتون پر پڑی جو ایک تختہ کے سہارے ساحل کی طرف آرہی تھی، امیر نے گارڈوں کو حکم دیا کہ اسے میرے پاس لایا جائے۔

اس خاتون کو محل لے جایا گیا، ماہر اطباءکی نگرانی میں اس کا علاج شروع ہوا، جب اسے افاقہ ہوا تو امیر شہر نے اس سے دریافت کیا تو اس نے ساری حکایت بیان کر ڈالی، دیور کی خیانت سے لیکر کشتی والوں کی شرارت تک سارے واقعے بیان کئے، حاکم شہر کو اس کے صبر نے موہ لیااور اس سے شادی کرلی، امور سلطنت میں مشیر کار کی حیثیت ملی اور چند ہی دنوں میں اس کی زبردست رائے اور قوت فیصلہ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔

وقت گزرتا رہا، نیک حاکم کا انتقال ہوگیا، اعیان شہر اکٹھا ہوئے، کہ کس کو اب حاکم بنایا جائے، متفقہ طور پہ لوگوں نے اس ذہین اور عاقل خاتون (زوجہ امیر شہر) کو اپنا امیر منتخب کرلیا، حاکم بنتے ہی اس خاتون نے ایک وسیع میدان میں کرسی لگانے کا اور شہر کے تمام مردوں کو حاضر ہونے کا حکم دیا، تمام مرد حضرات اس کے سامنے سے گزرنے لگے، اس نے اپنے سابق شوہر کو دیکھا اور کنارے ہوجانے کا اشارہ کیا، پھر اس کے بھائی (دیور) کو کنارے ہونے کا حکم دیا، عابد کو بھی ایک کنارے کیا، پھر اس نے عابد کے نوکر کو دیکھا اسے بھی مجمع سے الگ کھڑے ہونے کا حکم دیا پھر اس خبیث شخص کو دیکھا جسے اس خاتون نے آزاد کرایا تھا، اسے بھی کنارے کھڑے ہونے کا حکم دیا۔

اب باری باری فیصلہ کرنے لگی، سب سے پہلے سابق شوہر سے مخاطب ہوئی: تم کو تمہارے بھائی نے دھوکے میں رکھا اس لیے بَری ہو، لیکن تمہارے بھائی کو حد قذف لگائی جائے گی اس لیے کہ اس نے مجھ پر جھوٹی تہمت لگائی تھی، پھر عابد سے مخاطب ہوئی اور کہا: تم کو تمہارے خادم نے گمراہ کیا لہٰذا تم بھی بَری ہو ، لیکن تمہارا خادم قصاصاً قتل کیا جائے گا، کیونکہ اسی نے تمہارے بچے کو قتل کیا تھا، پھر وہ مخاطب ہوئی اس خبیث سے: تمہیں حبس دوام کی سزا دی جاتی ہے، تمہاری خیانت اور ایسی عورت کو فروخت کردینے کے جرم میں، جس نے تجھے غلامی سے نجات دلائی تھی۔

اللہ کی ذات پاک ہے ، کسی کے اچھے عمل کو ضائع ہونے نہیں دیتا، فرماتا ہے: ”جو اللہ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ اس کے لئے ایسے راستے ہموار کردیتا ہے اور ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے جس کا اسے گمان نہیں ہوتا“۔

دیکھا آپ نے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے کرب و بلاءمیں گرفتار خاتون کی مدد کی، تقویٰ مومن کا شعار ہے یہ شعار ہمیشہ باقی رہنا چاہیے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ ہی کی وجہ سے سخت حالات کو موافق و سازگار بنادیتا ہے۔ (عربی سے ترجمہ)

 

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*