سلام امن وشانتی کا پیغام (کرم الله منصور )

عن ابی یوسف عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ قال : سمعت رسول اللہ ﷺ یقول : یا ایھا الناس افشوا السلام واطعموا الطعام وصلوا الارحام وصلوا باللیل والناس نیام تدخلوا الجنة بسلام . ( رواہ الترمذی وقال حدیث حسن صحیح )

ترجمہ : حضرت ابویوسف عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کابیان ہے انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا:” اے لوگو! سلام کو عام کرو ،کھانا کھلاؤ،رشتے کو جوڑواور رات کو نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں ‘ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤگے “۔

        (امام ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور حسن صحیح کہا ہے )

تشریح : اسلام ایک عالمگیر دین ہے جس کے آئین وقوانین اور دستور حیات انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہیں چنانچہ اگر اسلام کا بے لاگ مطالعہ کیا جائے تو اس کی صداقت نکھر کر سامنے آجائے گی ۔ اسلام کی انہیں فطری تعلیمات میں سے چند خصائل حمیدہ کا زیرنظر حدیث میں بھی تذکرہ ہوا ہے جو ایک طرف انسان کو بہشت کی ضمانت دیتے ہیں تو دوسری طرف معاشرے کو الفت ومحبت ،امن وشانتی اور ہمدردی وخیرسگالی کا ماحول فراہم کرتے ہیں۔

آج پورے عالم میں انسانی زندگی خطرے میں پڑی ہوئی ہے ،قتل وقتال ،لوٹ کھسوٹ ، عصمت دری اور آبروریزی کے واقعات آئے دن ہم کو اخبارات ورسائل میں پڑھنے کو ملتے ہیں ،کہیں بم کی زد میں مرنے والوں کی خبریں سننے کوملتی ہیں ،کہیں درندہ صفت انسانوں کے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں ۔ ظاہر ہے ایسے پرفتن دور میں ہمیں مردوزن او رخردوکلاں کی تمیز کیے بغیر جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ ہے امن وامان اور سکون وچین سے بھرپورزندگی کی ‘ اور یہ گر ملتے چلتے وقت بظاہر چند جملوں پر مشتمل سلام بنوی ”السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ “ کے ذیعہ بدرجہ  اتم حاصل کیا جاسکتا ہے ‘ جو زبان پر بہت آسان لیکن اپنی جامعیت ومعنویت کے اعتبار سے اس وسیع وعریض کائنات کے اندر مروج جملہ طریقوں سے بالا وبرتر ہے ۔ اس میں صرف ایک اسلامی طریقہ کی تصویر کشی ہی مقصود نہیںہے بلکہ دائمی امن وسلامتی کے لیے دعاء بھی مطمح نظر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس کو اپنا حرزجان بنالیا تھا ، ملتے جلتے ہروقت ان کی زبان مبارک سے بے ساختہ یہ دعائیہ جملہ ایک دوسرے کے لیے نکلا کرتا تھا،وہ اس میں پہل کرکے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش بھی کرتے تھے ،اپنے اعلی مقام ومرتبہ کے باوجود ادنی ترین شخص کوسلام کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہ کرتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما صرف اسی سلام کو عام کرنے کی غرض سے بازار جاتے اور جوبھی ملتا اس کو خندہ پیشانی کے ساتھ سلام کرتے ۔

اسی طرح مذکورہ حدیث میں ایک مومن کے لیے نصیحت نبوی یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ اس کو میسر ہوا ہے اس میں غرباء ومساکین اور فقراء ومحتاجین کے حقوق کا خیال رکھے ۔ ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرے ،بخل وکنجوسی سے کام نہ لے ، اور نہ مال ودولت کی حرص وآز خرچ کرنے میں اس کے لیے سد راہ بنے ، باہمی مربوط رشتہ کو مستحکم رکھے ، ٹوٹے دلوں کو جوڑنے میں کوشاں رہے ، دل سے نفرت وکدورت کو دور رکھے ، اور کسی طرح کے دنیاوی مفاد کے چکر میں پڑکر کسی سے قطع تعلق نہ کرے ۔ اور رات کو جب کہ لوگ نیند کی آغوش میں جاچکے ہوں پروردگارعالم کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے اور خلوص وللہیت کے ساتھ سنن ونوافل کا خصوصی اہتمام کرے کیوں کہ یہ ایسے اعمال صالحہ اور کارِ خیر ہیں جن پر کاربند رہ کر ایک راست باز  بندہ  مومن دنیا وآخرت ہرجگہ مشیت ایزدی سے فائز المرام ہوسکتا ہے، اپنے دارین کو حقیقی معنوں میں مثالی بنا سکتا ہے اورجنت کی پُرکیف نعمتوں کا حقدار بن سکتا ہے ۔

اللہ تعالی ہمیں ان تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔ آمین

 

2 Comments

  1. شكرا لك على هذه المقالة القيمة و نفع الله بك الإسلام و المسلمين .

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*