قضاءوقدر پر ایمان ( دوسري قسط )

افادات : علامہ محمد بن صالح العثیمین رحمه الله   ترجماني : كرم الله منصور مدني

تیسرا مرتبہ/مشیئت:یعنی آپ اس بات پر ایمان رکھیں کہ اللہ کی مشیئت ہی سے کوئی چیز وجود میں آتی ہے اور کسی چیز کے نہ ہونے میں بھی مشیئت ایزدی ہی کارفرما ہوتی ہے ، اللہ جو چاہتاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتاوہ نہیں ہوتا، رہا معاملہ اللہ کے اعمال و افعال کا تو وہ بغیر کسی اشکال کے اللہ کی مشیئت سے ہوتے ہیں مثال کے طورپر پیداکرنا،روزی دینا، زندہ کرنا اور مارنا وغیرہ اور ایسے ہی مخلوقات کے اعمال و افعال بھی اللہ ہی کی مشیئت سے انجام پاتے ہیں ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے ﴾وَلَو شَاء اللّہُ مَا اقتَتَلُوا وَلَکِنَّ اللّہَ یَفعَلُ مَا یُرِیدُ ﴿ ”اور اگر اللہ تعالی چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تعالی جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (البقرة:253)

قتل و قتال بندوں کا کام ہے پھر بھی اللہ نے اسکو اپنی مشیئت پر چھوڑ رکھا ہے۔ اور ارشاد باری تعالی ہے : ﴾وَمَا تَشَاُونَ ِلَّا اَن یَشَاءَ اللَّہُ رَبُّ العَالَمِینَ﴿ ترجمہ” اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں کرسکتے” (التکویر:29)

معلوم ہوا کہ ہمارے اعمال و افعال مشیئت ایزدی کے تحت ہی سرانجام پاتے ہیں۔

عقلی دلیل : کیا یہ کہا جائےگا کہ مخلوق اللہ کی ملکیت ہے؟ ہاں ضرور ‘ اور جب معاملہ ایسا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ کی ملکیت میں کوئی ایسی چیز ہو جس کو وہ نہیں چاہتا؟ممکن نہیں ، پتہ چلا کہ جب ہر جگہ اللہ ہی کی ملکیت و حکمرانی ہے تو اس کی ملکیت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہوسکتی جس کو وہ پسند نہیں کرتا اور اگر ایسا ہوجائے تو پھر اس کی ملکیت ناتمام رہ جائے گی اور اس کی ملکیت میں اس کے علم اور اختیار کے بغیر چیزیں رونما ہونا شروع ہوجائیں گی۔

چوتھا مرتبہ :تخلیق :اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ساری مخلوقات کو پیدا کیا، چنانچہ ہم اس بات پر ایمان رکھیں کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ۔ اللہ تعالی کا فر مان ہے ﴾وَخَلَقَ کُلَّ شَیءٍ فَقَدَّرَہُ تَقدِیراً ﴿ (الفرقان :2) ” اور ہر چیز کو اس نے پیدا کرکے ایک مناسب اندازہ ٹھہرادیا ہے” اورفرمان الہی ہے : ﴾اللَّہُ خَالِقُ کُلِّ شَیءٍ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیءٍ وَکِیل ﴿”اللہ ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے”(الزمر :62)

 اس قبیل کی بے شمار آیات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام چیزیں اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی ہیں یہاں تک کہ انسان کے افعال بھی اللہ ہی کی مخلوق ہیں گرچہ وہ انسان کے اپنے اختیارات و ارادے سے انجام پاتے ہیں‘ اس طور پر کہ انسان کا کوئی بھی کام پختہ ارادے اور کامل اختیار کی بنیاد پر ہی تکمیل پاتا ہے مثال کے طور پر آپ کے سامنے 60 کیلو کا پتھر ہے اور میں نے آپ سے کہا اس پتھر کو اٹھائیے،آپ نے کہا کہ میں اس کو اٹھانا نہیں چاہتا‘ تویہاں سرے سے پتھر اٹھانے کا ارادہ ہی نہیں پایاجاتا ، پھر میں نے آپ کو پتھر اٹھانے کو کہا تو آپ نے کہا : ہاں میں اسکو اٹھاونگا ‘ اورآپ نے پتھر اٹھانے کا ارادہ کیالیکن اٹھانہ سکے، پھر تیسری مرتبہ میں نے آپ کو پتھر اٹھانے کو کہا تو آپ نے حکم مانتے ہوئے اسکو سر پر اٹھا ڈالا تویہ اٹھانا آپ کی قدرت و ارادہ کی بنا پر تھا۔

گنہگاروں کا تقدیر سے حجت پکڑنا

سوال : جب ہر چیز اللہ کی مشیئت اورقضاءوقدر سے ہوتی ہے تو کیا ایک چور اپنی چوری پر قضاءوقدر کو حجت بنا سکتا ہے؟

جواب : بالکل نہیں کیونکہ گناہ کرکے تقدیر پر حجت نہیں پکڑا جاسکتا،اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے:

سَیَقُولُ الَّذِینَ اَشرَکُوا لَوشَاء اللّہُ مَا اَشرَکنَا وَلاَ آبَا ُنَا وَلاَ حَرَّمنَا مِن شَیءٍ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِینَ مِن قَبلِہِم حَتَّی ذَاقُوا بَاسَنَا َ﴿(الانعام :۸۴۱)

 “یہ مشرکین(یوں) کہیں گے کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہہ سکتے،اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا” ۔

گنہگار کے گناہ پر تقدیر سے حجت پکڑنے کے غلط ہونے پر اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی دلالت کرتا ہے﴾ رُّسُلاً مُّبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ لِئَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّہِ حُجَّة بَعدَ الرُّسُلِ وَکَانَ اللّہُ عَزِیزاً حَکِیما﴿(النساء:۵۶۱)

ترجمہ”ہم نے انہیں رسول بنایا ہے،خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالی پر رہ نہ جائے۔”

تقدیر سے حجت پکڑنے والوں سے کہیں گے کہ اگر آپ کے سامنے دو راستے ہوں خیر اور شر‘ توشر کا راستہ اختیار کرنے سے پہلے کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ نے آپ کے لیے شرکا راستہ مقدر کر رکھا ہے؟ظاہر ہے نہیں ‘ اور جب نہیں جانتے توکیوں نہیں مانتے کہ اللہ نے آپ کے لیے خیر کی راہ مقدر کر رکھی ہے؟ کیونکہ انسان کسی چیز کے وجود میں آنے کے بعد ہی اس کو جانتا ہے کہ اللہ نے کیا مقدر کر رکھا ہے۔بعض علماءکے بقول قضاءو قدر رازہائے سربستہ ہیںجووجود میں آنے کے بعد ہی جانے جاتے ہیں۔

ہم اس سے پوچھیں گے کہ آپ دنیوی امور میں خیر پسند کرتے ہیں یاشر؟ وہ کہے گا خیر‘ توہم کہیں گے کہ اخروی امور میں اپنے لیے خیر کو کیوں نہیں اختیار کرتے؟

اسی طرح ہم اس سے کہیں گے کہ آپ اگر شہر جانا چاہتے ہیں جس کے دوراستے ہوں، ایک پرخطر جہاں ڈاکو ہواکرتے ہیں اور دوسرا پر امن توآپ کونسا راستہ پسند کریں گے؟وہ ضرور کہے گا کہ دوسرا‘ تو ہم اس سے کہیں گے کہ آپ دنیوی امورمیں صرف نجات کی راہ کیوں اختیار کرتے ہیں؟اور بائیں طرف سے کیوں نہیں جاتے جہاں ڈاکو رہا کرتے ہیں اور راستہ  غیر ہموار ہوتا ہے؟ اور کیوں نہیں کہتے کہ ہماری قسمت میں یہی لکھ دیا گیا ہے تو وہ یہ کہے گا کہ میں تو تقدیر نہیں جانتالیکن اچھائی کو پسند کرتا ہوں‘ توہم کہیں گے کہ اخروی امورمیں اچھائی کو اختیار کیوں نہیں کرتے؟۔

اگر ہم کسی کو پکڑ کر اس کو بری طرح مارنا شروع کردیں اور وہ چیخنے لگے تو کیا ہم کہیں گے کہ یہ قضائے الہی ہے، وہ جتنا چیختا جائے ہم اتنا ہی مارتے جائیں اور کہتے رہیں کہ تیری قسمت میں یہی ہے توکیا یہ حجت قابل قبول ہوگی؟ ہرگز نہیں، اس کے برخلاف جب اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو کہتاہے کہ قضا ءو قدرکا یہی فیصلہ ہے۔

 ایک مرتبہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضي الله عنه کے پاس ایک چور لایاگیا جس کا انہوں نے ہاتھ کاٹنے کاحکم دیا۔ چورنے عرض کیا: امیرالمومنین! ذرا ٹھہر جائیں‘ اللہ کی قسم !میں نے قضاءوقدر کے مطابق چوری کی ہے ، وہ سچ بول رہا تھا، لیکن حضرت عمررضي الله عنه  کے سامنے ایسی حجت قابل قبول نہ ہوئی،آپ نے برجستہ کہا: ”ہم قضاءوقدر کے تحت ہی تمہارا ہاتھ کاٹ رہے ہیں“۔ پھر اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔  (جاری ) 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*