با رہا بدلا ہے اس نے راستہ تقدیر کا

اعجاز الدین عمری

وہ ایک شکاری تھا ، مچھلیاں شکار کرنا اُ س کا مرغوب مشغلہ تھا۔ اس کا گَل بھی جادوئی چھڑی کی مانند مچھلیاں پکڑ لاتا اور پل بھر میں اس آبی جانور کا ڈھیر لگ جاتا اُس کے اِس کمالِ ہنر سے ساتھی شکاری اُس سے حسد بھی کرتے تھے ۔ ایک دن غضب ہوگیا، وہ نہرمیں گل ڈالتاتو مچھلیاں اُس میں اٹک جاتیں اور جب گَل باہر نکالتا تو چھوٹی مچھلیوں کو تو جمع کر لیتا مگر بڑی کو پھر سے پانی میں چھوڑ دیتا اُ س کے ساتھی جلے بُنے تو تھے ہی اُس کی اِس مجنونانہ حرکت کو دیکھ کر اُس پر ٹوٹ ہی پڑے چلاتے ہوے پوچھا کہ یہ کیسی حماقت کررہے ہو؟ اُس نے بڑی سادگی سے کہا   ’میرے گھر کی ہانڈی چھوٹی ہے ،اُس میںبڑی مچھلی نہیں سماتی ، اِس لیے اُنہیں واپس پانی میں ڈال رہا ہوں

بہت ممکن ہے کہ یہ کہانی ہمیں جھوٹی لگے ۔ مگر اس کی صداقتیں آج انسانی زندگی میں ہر سو نظر آتی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ آج کے ہر انسان نے زندگی کو اپنے حساب سے جینے کی دل میں ٹھانی ہے ۔ جس دن انسان کے من میں یہ بات آئی ہے وہ زندگی کی بازی ہار بیٹھا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں ”جتنی چادر اتناہی پیر پھیلاؤ” لوگ اس محاورے کو قناعت کی مثال کے طور پر بولتے ہیں ۔ فرد کی زندگی میں یہ نصیحت “خیر خواہی ” کہلائے تو کہلائے مگر قومی زندگی میں اس پر عمل در آمد نے ایک قوم کو صدیوں پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔

“رو رہی ہے آج اک ٹوٹی ہوی مینا اُسے

کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے

آج ہیں خاموش وہ دشتِ جنوں پرور جہاں!

رقص میں لیلا رہی ، لیلا کے دیوانے رہے”

 زندگی کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ اس نے انسان کو جینے کا ہنر دیا ۔ اوراس کی سب سے تلخ سچائی یہ ہے کہ خود انسان ہی لیلائے حیات کے ساتھ عہد وفا نبھا نہ سکا اور آج وہ اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہے کہ

“کتنی مشکل زندگی ہے اور کس قدر آساں ہے موت”

 زندگی کو جیتے جیتے انسان خود زندگی پر بوجھ بن گیا ہے۔ غموں کا ایک دھارا ہے جس نے خوشیوں پر دھاوا بول دیا ہے ۔ منفی سوچوں نے سفینہ حیات کو ڈگ مگ کردیا ہے توکج فکری سے منزل دورہوتی جارہی ہے۔ 

“موت کیا ؟ اک لفظ بے معنی

    جس کو مارا ، حیات نے مارا”

 چادر چھوٹی ہو اور پیراس میں نہ سما سکتے ہوں تو یہ حماقت ہی کہلائے گا کہ آدمی اپنے پیروں ہی کو کاٹ ڈالے ۔ آدمی کے بس میں ہے کہ وہ چادر کو لمبی کرنے کے لیے کوشش کرے ۔ اگر کوئی اس بنا پر ہاتھ آئی مچھلیاں پھر سے سمندر میں ڈالتا ہے کہ اس کے پاس انہیں محفوظ کرنے والا برتن نہیں ہے تو یہ اس کی دیوانگی نہیں تو اور  کیا ؟!

یہ ممکنات کی دنیا ہے- امکانات کو خدا کی مرضی پر چھوڑ دینا اور ہاتھ جھاڑ بیٹھنا ایمان نہیں ہے – خدائی مرضی کی تکمیل کا انسانی محنت پر تکیہ ہے ۔ کھیل میں ہارنے والا اناڑی نہیں ہوتا مگر جو ہارنے کے لیے کھیلے اُسے کوئی اور نام دیا بھی نہیں جاسکتا۔

انسان بہت دور سے چل کرآیا ہے اور زندگی کو لمحہ لمحہ جی کر آیا ہے ، اس کی حلاوتوں کو اس نے اپنے اندر سمیٹا ہے اس کی تلخیوں کو گوارا کیا ہے اس کی راحتوں میں خود کو کھویا ہے اس کی کٹھنائیوں کو جھیلا ہے ،اس کی تاریکیوں میں گم ہوا ہے ،اس کے اجالوں میں اپنی منزل ڈھونڈ نکالی ہے ، اس کی خلوتوں کا وہ ہمراز بنا ہے اور اس کی جلوتوں میں خود پر ناز کیا ہے ۔ کتنی سچائی ہے کسی کی اس بات میں                            ” میں چلا میں چلا اِ س گلی اُس گلی  

          اِ س ڈگر اُس ڈگر اِ س طرف اُس طرف……..

  ساتھ میرے چلے زندگی کا سفر………

 یہ انسان کی اپنی آپ بیتی ہی تو ہے کب تھکا ہے وہ ؟ کب اس نے ہار مانی ہے ؟ کس سے ممکن ہوا ہے کہ اُ س کا راستہ روک سکے؟ دستِ قدرت میں روپ پانے کے بعد مسجودِ ملائکہ ہونے کا مقامِ شرف کوچھولینے کے بعد باغ جنت کے چند روزہ عیش فراغت کا مزہ چکھ لینے کے بعد جب انسان کو زمین کی خلافت عطا ہوی تو کیا تھا اُس کے پاس ؟ خلد سے آدمی نکلاتوتہی دست تھا، صرف ایک نصیحت تھی کہ “جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے ، نہ ڈر ان کو آلپکے گا نہ غم کوئی بے چین کرے گا “

ربّ کن فکان سے راز کن فکاں لے کر انسان نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا منزل دور ، راستہ کٹھن اور گھات میں شیطان اس نے بھی راہیں ڈھونڈیں مشکل مشکل عالم ِ ملکوتی میں اُسے جو سبق ملا تھا یہی تھا کہ 

“تو شاہیں ہے ، پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اِسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا

کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں “

 پھر دورِ زمان و گردشِ ایام نے بھی ثابت کردیا کہ اس سرشتِ خاکی میں کیسی کیسی انقلاب آفرینی ہے۔ ذرّہ خاک نے خاک نشینی کو اپنا مزاج کبھی نہ بننے دیا ۔ زندگی کے تھکا دینے والے سفر میں شاہین نظری ہی انسان کی فطرت رہی ہے۔ روز مرہ زندگی کی ضروریات کی تکمیل اور موذی جانداروں سے اپنی حفاظت کی ضرورت نے اُسے لکڑیوں کے دور سے پتھر کے زمانے میں لے آیا ۔ اُس کے سیمابی ذہن نے اس پر اکتفا نہ کیا ۔ اُس نے دھات کو دریا فت کیا ۔ اپنے خوابوں کو تعبیر کا روپ اور سوچ کو تصویر کا رنگ دیا ۔ آرزووں کو جگایا اور حسنِ تدبیرسے زندگی کی

زلفیں سنواریں۔ اُس کی رفعت کی تمنا اور جولاں طبعی کو اقبال نے دیکھا تو چلا اُٹھے

 “اس ذرّہ کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم

یہ ذرّہ نہیں، شاید سمٹا ہوا صحرا ہے

چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی

یہ ہستی دانا ہے ، بینا ہے ، توانا ہے”

 قومی زندگی میں قناعت یا کم پر اکتفا کرنا اسلامی تعلیمات میں اس کے لیے کوئی دلیل ہے اور نہ انسانی تاریخ میں اس کے لیے کوئی حوالہ مل سکتا ہے ۔

ایک انتہائی فقیر شخص رسول اللہ کے پاس آیا اوراس نے آپ کے آگے دست سوال بڑھایا آپ نے پوچھا کیا تیرے گھرمیں کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ، ایک چادر ہے جس کا ایک حصہ بدن ڈھانپنے کو استعمال کرتے ہیں تو دوسرا حصہ بچھا کر سوجاتے ہیں ، اور ایک پیالہ ہے جو پانی پینے کے کم آتا ہے  آپ نے فرمایااُن دونوں کو میرے پاس لے آؤ اس نے ایساہی کیا ۔ آپ ا نے ان دونوں چیزوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ندا لگائی کہ ” کوئی ہے جو ان دونوں کو مجھ سے خریدے؟ ” ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے کہا کہ” ایک درہم میں مجھے چاہیے “۔ آپ ا نے پھر بولی لگائی کہ “کوئی ہے جو ایک درہم سے زیادہ ادا کر سکتا ہے؟ ” کسی نے جواب نہیں دیا تو آپ نے دوسری اور تیسری بار آواز لگائی اِس بار ایک دوسرے شخص نے کہا کہ میں اُنہیں دو درہموں میں خرید سکتا ہوں ۔ آپ نے سامان اس کے حوالے کردیا اور دو درہم لے کراُس غریب شخص کو دیتے ہوے فرمایا کہ ” ایک درہم کا اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے کھانا پانی خریدو اور دوسرے سے ایک کلہاڑا خرید کر میرے پاس آؤ ۔ اس نے حکم کی تعمیل کی آپ ا نے خوداپنے دستِ مبارک سے اس میں لکڑی کا دستہ بٹھایا اور کہا کہ جاؤ اس سے لکڑیاں کاٹ لاؤ اور انہیں بیچ کر اپنی ضرورتیں پوری کر لو اور ہاں اگلے پندرہ دنوں تک تم میری نظر میں نہیں آؤگے پھر جب وہ آیا تو اس کے پاس دس درہم تھے”

اس سے پتا چلتا ہے کہ ایک مثبت سوچ اور حسنِ تدبیر سے صرف ایک فرد ہی کو نہیں بلکہ پورے سماج کو گرنے سے بچایا جاسکتا ہے

  

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*