آپکے دینی مسائل اور ان کا حل

فضیلة الشیخ محمد صالح المنجد (سعودی عرب)

 ھلال ( چاند ) کوشعاراورعلامت بنانا

سوال : مسلمانوں کے ہاں چاند اورستارہ کس چیز کی علامت ہے ، میںنے آپ کی ویب سائٹ پر اوراپنی لائبریری میں موجود مراجع میں اسے تلاش کرنے کی جستجو کی لیکن مجھے اس کے متعلق سوائے عثمانی دورحکومت کی علامت کے کچھ نہیں ملا؟

جواب: چانداورستارہ کومسلمانوں کی علامت بنانے کی شریعت اسلامیہ میں کوئی اصل نہیں اور نہ ہی یہ دور نبوی اور خلفائے راشدین کے دور میں معروف تھا ، بلکہ بنو امیہ کے دورمیں بھی موجود نہیں تھا ، یہ توان ادوار کے بعدکی پیدوار ہے ، مورخین اس بارے میں اختلاف کرتے ہیں کہ اس کی ابتدا کب اورکیسے ہوئی اورکس نے اسے شروع کیا۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اسے فارسیوں نے شروع کیا ، اوریہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسے شروع کرنے والے اغریق تھے جوبعد میں کچھ وقائع کے زیراثرمسلمانوں میں منتقل ہوا۔

    دیکھیں : الترتیب الاداری للکتانی ( 1 / 320 )

اس کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جب مسلمانوں نے مغربی ممالک کوفتح کیا توان کے کنیسوں میں صلیب لٹک رہی تھی ،مسلمانوں نے اس صلیب کے بدلہ میں ہلال رکھ دیا،اس بنا پریہ لوگوں میں منتشر ہوگیا۔

سبب جوبھی ہو معاملہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے جھنڈے اورشعار سب کے سب شریعت اسلامیہ کے موافق ہونے ضروری ہیں ، جبکہ ہلال کے شعار ہونے پرکوئی شرعی دلیل نہیں ملتی ، اس لیے اولی اوربہتر یہ ہے کہ اسے ترک کردیا جائے، چاند اور ستارہ مسلمانوں کاشعارنہیں گوکہ بعض لوگوں نے اسے بنارکھا ہے۔

رہا مسئلہ چاند ستاروں میں اعتقاد کا تومسلمانوں کا عقید ہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کی مخلوق ہیں ،ذاتی طور پرکسی کونفع دے سکتے ہیں اورنہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں اورنہ ہی زمینی حادثات میں ان کی کوئی تاثیر ہی ہے ،انہیں تو صرف اللہ تعالی نے انسانوں کے فائدہ کے لیے پیدا فرمایا ہے ، اسی کو اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہے :” لوگ آپ سے ہلال کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ یہ تولوگوں کے وقتوں اور حج کے موسم (کی جانکاری )کے لیے ہیں“ (البقرة 189 )۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی اس کے بارے میںفرماتے ہیں :

”وہ اس سے اپنے دین کی حلتیں اورعورتوں کی عدت اوراپنے حج کا وقت معلوم کرتے ہیں ، اللہ تعالی نے اسے مسلمانوں کے روزے رکھنے اورعیدالفطر اور ان کی عورتوں کی عدت معلوم کرنے کا وقت بنایا ہے“۔( تفسیر ابن کثیر)۔

ستاروں کے بارے میں علماءنے کہا ہے کہ اللہ تعالی نے ستاروں کوتین مقاصد کے لیے پیدا فرمایا ہے ، انہیں آسمان کی زینت بنایا ، شیاطین کورجم کرنے کے لیے اور ایسی علامتیں بنایا جن سے راستہ معلوم کیا جاتا ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :

 ” اوروہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کوپیدا کیا تا کہ تم ان کے ذریعہ سے اندھیروں میں اورخشکی میں اورسمندر میں راستہ معلوم کرسکو“ ۔( الانعام 97 )

اوراللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے : ”بلاشبہ ہم نے آسمان دنیا کوچراغوں ( ستاروں ) سے مزین کیا ہے اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنادیا اورشیطانوں کے لیے ہم نے دوزخ کا عذاب تیار کیا ہے“ ۔ ( الملک 5 )

پھٹی ہوئی کرنسی آدھی قیمت میں خریدنے کا حکم

سوال : وہ پھٹی ہوئی کرنسی جس کا لوگ لین دین نہیں کرتے، لیکن کچھ بنک اسے نصف قیمت میں خریدتے ہیں، مثلا ًوہ آپ سے سو ریال پھٹے ہوئے لے کر پچاس ریال دیں گے، اس کا حکم کیا ہے ؟

جواب :یہ سوال ہم نے فضیة الشیخ عبد الرحمن البراک حفظہ اللہ کے سامنے رکھا تو انہوں نے درج ذیل جواب دیا: ” سونا سونے اور چاندی چاندی کے ساتھ تبدیل میں قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ وہ برابر برابر اور ایک دوسرے کی مثل ہو، اور اس میں ٹوٹے ہوئے اورعیب دار کا کوئی فرق نہیں.

اور اس وقت اشیاءکی قیمت کے اعتبار سے کاغذ کی کرنسی سونے اور چاندی کے قائم مقام ہے،لیکن سونے اور چاندی کے سارے اصول اور احکام کاغذی کرنسی پر لاگو کرنا ممکن نہیں، کیونکہ کاغذ کی کرنسی کی ذاتی طور پر کوئی قیمت نہیں، بلکہ اسکی قیمت تو حکومت کے اعتماد کی بنا پر حاصل ہوتی ہے“۔

اس لیے میں کہتا ہوں: پھٹے ہوئے نوٹ آدھی قیمت میں لینے میں کوئی مانع نہیں، کیونکہ وہ پھٹنے کے بعد اپنی اصلی قیمت کھو چکے ہيں۔

کمیشن لینا

سوال : اگرکسی فیکٹری یا کسی دکان کا مالک میرے واسطہ سے بیچے ہوئے مال پر کچھ کمیشن دے تو کیایہ مال حلال ہے ؟

جواب : جب کسی فیکٹری والا یا کوئی تاجر آپ کے واسطہ سے بیچے ہوئے ہرمال پر کچھ نہ کچھ رقم دے کیونکہ آپ نے اس کے لیے خریدار تلاش کیا ہے ، لیکن اس بنا پر وہ مال کی قیمت میں زیادتی نہ کرے اورنہ ہی اس میں بیچنے والے دوسرے تاجروں پرکوئی نقصان ہو ، وہ اس طرح کہ فیکٹری یا تاجر اسی ریٹ پرمال بیچے جس پروہ دوسروں کو بیچتا ہے تویہ جائز ہوگا ، اوراس میں کوئی ممانعت والی چیز نہیں ہے۔

لیکن اگر وہ رقم جوآپ کوفیکٹری والے یا دوکاندار سے مل رہی ہے سامان کی قیمت میں زیادہ کرکے خریدار سے وصول ہورہی ہو تو آپ اسے نہ تولے سکتے ہیں اور نہ ہی فروخت کرنے والے کے لیے ایسا کرنا جائز ہے ، اس لیے کہ اس میں سامان کی قیمت زیادہ کرکے خریدار کونقصان پہنچایا جارہا ہے۔

     ( فتاوی اللجنة ا لدائمة 13 / 130 )

چھپکلی مارنا

سوال : کیا چھپکلی کومارنا ثابت ہے ، اورکیا اس کومارنے میں اجر وثواب ہے ؟

جواب : چھپکلی کومارنے کی بہت سی دلائل ہیں جن کی بنا پراسے مارنا مشروع ہے ۔صحیحین وغیرہ میں سعیدبن مسیب رحمه الله سے نقل کیا گیا ہے کہ ام شریک رضی اللہ تعالی عنہا نے انہیں بتایا کہ نبی ا نے انہیں چھپکلیوں کومارنے کا حکم دیا تھا۔

اوربخاری کی روایت میں ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا : ”یہ ابراہیم عليه السلام پر پھونک مارتی تھی یعنی اس آگ پرپھونک مارتی تھی جس میں ابراھیم علیہ السلام کوڈالا گیا تھا“۔

نبی صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی فرمایا : ”جس نے چھپکلی کوپہلی ضرب میں قتل کیا تو اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی ، اور جس نے دوسری ضرب میں قتل کیا تواس کو اتنی اتنی نیکیاں پہلے سے کم ملیں گی ، اوراگر اس نے تیسری ضرب میں قتل کیا تواس کواتنی اتنی نیکیاں دوسری سے کم ملیں گی “۔ (مسلم )

ہاتھ میں دھاگے باندھنا یا گلے میں تعویز لٹکانا

سوال :ہاتھ میںدھاگے باندھنے یا گلے میںتعویز لٹکانے کا کیا حکم ہے ؟

جواب : دھاگے اور پٹے وغیرہ باندھنے جائز نہیں ہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے : ”جس نے تعویذ لٹکایا اللہ تعالی اسکے کام کو پورا نہ کرے“ (احمد)۔اور فرمان نبوی صلى الله عليه وسلم  ہے: ”جس نے کوئی چیز لٹکائی وہ اسی کے سپرد کردیا گیا“۔ (احمد ،ترمذی) اور فرمایا: ”جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا“(احمد)

بلکہ نبی پاک انے اسے کاٹنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے عمران بن حصین رضي الله عنه  کہتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم  نے ایک مرتبہ ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا پہن رکھاتھا ، آپ نے اس سے پوچھا کہ یہ کڑا کیسا ہے؟ اس نے کہا: یہ کمزوری کی وجہ سے ہے، آپ انے فرمایا :﴾انزعھا فانھا لا تزیدک الا وھناوانک لو مت وھی علیک ما افلحت ابدا﴿ اسے اتار دے کیونکہ یہ تیری بیماری اور کمزوری میںمزید اضافہ کرے گااور اگر اسے پہنے ہوئے مر گئے تو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہوسکتے“۔( سنن ابن ماجہ)

1 Comment

  1. مفتی صاحب ! السلام و علیکم۔
    میں نے یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا ایک آدمی اپنا نکاح خود پڑھا سکتا ہے ؟ شرعی طور پر اس کی کیا حیثیت ہے ؟
    برائے مہربانی جلد از جلد مجھے اس کا جواب دیجئے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*