قرآن کی حفاظت کے لیے اللہ کا حیرت انگیز انتظام

 (مولانا) حذیفہ وستانوی

   اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: انَّا نَحنُ نَزَّلناَ الذِّکرَ وَ انَّا لَہ لَحَافِظُونَ“( سورة الحجر: ۹) ” ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے“۔ یہ وہ پہلی اور آخری آسمانی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا، گویا اس کی حفاظت کے لیے وعدہ الٰہی ہے اور قرآن کا اعلان ہے: اِنَّّّ اللَّہَ لَا یُخلِفُ المِیعَادَ(سورة آل عمران:۹)” اللہ کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں کرتے“۔ بس اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور کتاب اللہ کی حفاظت کا حیرت انگیز انتظام کیا۔ اس طور پر کہ اس کے الفاظ بھی محفوظ، اس کے معانی بھی محفوظ، اس کا رسم الخط بھی محفوظ، اس کی عملی صورت بھی محفوظ، اس کی زبان بھی محفوظ، اس کا ماحول بھی محفوظ، جس عظیم ہستی پر اس کا نزول ہوا اس کی سیرت بھی محفوظ، اور اس کے اولین مخاطبین کی زندگیاں بھی محفوظ۔غرضیکہ اللہ رب ا لعزت نے اس کی حفاظت کے لیے جتنے اسباب و وسائل اور طریقے ہوسکتے تھے، سب اختیار کئے، اور یوں یہ مقدس اور پاکیزہ کتاب ہر لحاظ اور ہر جانب سے مکمل ومحفوظ ہوگئی۔ الحمدللہ آج تک اس میں رتی برابر بھی تغیر و تبدل نہ ہوسکا، لاکھ کوششیں کی گئیں، مگر کوئی ایک کوشش بھی کارگر ثابت نہ ہوسکی، اور نہ قیامت تک ہوسکتی ہے۔

 متن کی حفاظت

یعنی اس کے بعینہ وہ الفاظ جو اللہ رب العزت نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے واسطہ سے نبی آخرالزماں پر نازل کیے، آپ پر جب وحی نازل ہوتی، تو آپ فوراً کاتبین وحی میں سے کسی سے کتابت کروالیتے، پھر صحابہ نبی کریم صلى الله علبه وسلم  کی زبانِ اقد س سے بھی اُسے سنتے، اور جو تحریر کیا ہوا ہوتا، اُسے بھی محفوظ کرلیتے، اس طرح۲۳ سال تک قرآن، نزول کے وقت ہی لکھا جاتا رہا، صحابہ نے اسے حفظ (یاد) بھی کیا، کیوں کہ نبی کریم صلى الله علبه وسلم نے اس کے حفظ کی بڑی فضیلتیں بیان کیں۔ ایک روایت کے مطابق صحابہ میں سب سے پہلے حفظِ قرآن مکمل کرنے والے حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔

دورنبوی کے بعد دور ابی بکر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ، اور دیگر صحابہ کے مشورے سے اس کی تدوین عمل میں آئی، یعنی اس کو یکجا کر لیا گیا اور دور عثمانی میں اس کی تنسیخ عمل میں آئی، یعنی اس کے مختلف نسخے بناکر کوفہ، بصرہ، شام، مکہ وغیرہ جہاں جہاں مسلمان آباد تھے بھیج دیے گئے۔ یہ تو تحریری صورت میں حفاظت کا انتظام ہوا، ا س کے علاوہ اس کو لفظ بلفظ یاد کرنے کا بھی التزام کیا گیا‘ تدوین کے ساتھ ساتھ قرآن کوسینوںمیں مکمل طورپرمحفوظ کرلیاگیا، اور یہ سلسلہ نسل در نسلٍ آج بھی جاری ہے،اور قیامت تک جاری رہے گا، ان شاءاللہ۔

  معنی ومفہوم کی حفاظت

جہاں اللہ رب العزت نے اس کے متن کی حفاظت کی وہیں اس کے معنی و مفہوم اور مراد کی حفاظت کا بھی انتظام کیا، اس لیے کہ صرف الفاظ کا محفوظ ہونا کافی نہیں تھا، کیوں کہ مراد اور معنی اگر محفوظ نہ ہوتو ا س کی تحریف یقینی ہوجاتی ہے، کتب سابقہ کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا، اس کے الفاظ اگرچہ کچھ نہ کچھ محفوظ رہے، مگر اس کے معانی و مفہوم تو بالکل محفوظ نہ رہے، اس لیے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کے اقوال و افعال و اعمال کو محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہ کیا، جس کے نتیجہ میں الفاظ محفوظ بھی کارگر ثابت نہ ہوسکے، مثلاً عیسائیوں کا کہنا ہے کہ ہمیں دو اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے اور ہم اس کے علمبردار ہیں: نمبرایک عدل و انصاف۔ اورنمبردو محبت و الفت. لیکن اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ عدل و انصاف کس کو کہتے ہیں، تو وہ اس کا مفہوم نہیں بیان کرسکتے۔ یہی حال محبت کا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس عدل اور محبت کی پرواہ کیے بغیر لاکھوں نہیں کروڑوں انسانوں کو عیسائیت کے فروغ کی خاطر قتل کر دیا گیا، اور یہ سلسلہ ابھی تک تھما نہیں۔ اسی طرح یہودیت کی اصل بنیاد اس اصول پر ہے،کہ تم اپنے پڑوسی کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ لیکن اگر آپ یہود کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگاکہ انہوں نے اپنے پڑوسیوں کو جتنا ستایا، اتنا دنیا میں کسی نے اپنے پڑوسیوں کو نہیں ستایا ہوگا، اور اب بھی اس کا سلسلہ جاری ہے، جو اسرائیل کی جارحیت سے عیاں ہے، مگر اسلام الحمد للہ سنت نبوی کے پورے اہتمام کے ساتھ محفوظ رہنے کی وجہ سے قرآن کی تعلیمات مکمل طور پر محفوظ چلی آرہی ہﯾﮟ۔ اس طرح اللہ نے سنتِ رسول کے ذریعہ معانی و مفاہیم اور مراد الٰہی کو محفوظ رکھنے کا انتظام کیا۔ اس لیے کہ نبی کریم صلى الله علبه وسلم نے قرآن کی جو تفسیر کی وہ درحقیت اللہ ہی کی جانب سے ہے کیوں کہ قرآن نے اعلان کیا ہے ”ان علینا بیانہ“ ( القیٰمة: ۹۱) ” اس قرآن کی تفسیر بھی ہم نے اپنے ذمہ لے لی ہے“۔  ا یک جگہ پر”جمعہ وقرآنہ“ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے ”وما ینطق عن الہویٰ

 ان ہو الا وحی یوحی“”آپ کوئی بات اپنے جی سے نہیں کرتے، بلکہ وحی خدا وندی ہی ہوتی ہے“۔

اس پوری گفتگو سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ ”تفسیر بالماثور“ درحقیقت اللہ ہی کی، کی ہوئی تفسیر ہے، اور ظاہر ہے اللہ  اپنی مراد کواچھی طرح جانتے ہیں۔ لہٰذا حدیث کی حفاظت سے معانی و مراد خداوندی بھی محفوظ ہوگئے؛ اللہ ہمیں کتاب اللہ اور سنت رسول پر مرمٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

 زبان کی حفاظت

قرآن کے الفاظ و معانی کے ساتھ ساتھ، وہ جس زبان میں نازل ہوا یعنی “عربی زبان” اسکی حفاظت کا بھی اللہ نے عجیب انتظام فرمایا، قرآن نے خود اعلان کیا ”بلسان عربی مبین“ ( سورة الشعرا ء۱۹۵)ہم نے قرآن کو صاف ستھری عر بی زبان میں نازل کیا۔ اگر آپ لسانیات کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ دنیا کی کوئی زبان تین چار سو سال سے زیادہ محفوظ نہ رہ سکی، یا تو وہ ختم ہوگئی یا کسی دوسری زبان میں ضم ہوگئی، یا ایسے تغیر و تبدل کی شکار ہوگئی کہ اس کی پہلی ہیئت باقی نہ رہ سکی، مگر عربی زبان مسلمانوں کی توجہ و عنایت کا ایسا شاہکار ہے، جو بیان سے باہر ہے اولاً خود نبی کریم صلى الله علبه وسلم  نے صحابہ کرام کی تربیت میں عربی زبان کی نوک و پلک کی درستگی کو خوب اہمیت دی، آپ کے بعد حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے بھی اپنی توجہ کو اس پر مبذول کیا، جیسا کہ حضرت ابوبکرﺻﺪﯾﻖ، حضرت عمر فاروق رضي الله عنهما اور دیگر صحابہ کرام  کی سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے ، یہاں تک کہ حضر ت علی رضي الله عنه نے تو نحو عربی و صرف عربی کی بنیاد ڈال کر، اسے خاص توجہ کا مرکز بنایا، اور پھر آپ کے بعد امت کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آیا، جس نے اپنی زندگیاں اسی زبان کی حفاظت و ترویج میں وقف کردی،جس کی برکت سے آج بھی عربی زبان اسی اصل ہیئت پر باقی ہے، جس ہیئت پر وہ نزول قرآن کے وقت تھی، اور قیامت کے وقوع سے پہلے پہلے تک جب تک اس قرآن کو باقی رکھنے کی اللہ کی مشیت ہوگی، امت کی ایک جماعت اس کارخیر میں مشغول رہے گی، ان شاءاللہ۔

  الفاظ و معانی کی عملی صورت کی حفاظت

 صرف الفاظ و معانی اور قرآنی زبان ہی کی حفاظت پر اکتفا نہیں کیا گیابلکہ اس کے الفاظ و معانی کی عملی صورت کی حفاظت کا بھی پورا پوراانتظام کیا گیا، اس طور پر کہ قرآن جس لفظ میں نازل ہوتا، نبی کریم صلى الله علبه وسلم  اس کی مراد و حی کی روشنی میں صحابہ کو سمجھاتے، اور سمجھانے کے بعد اسکو عملاً بطور نمونہ، کرکے بھی بتلاتے تھے، جسکو آج کی زبان میں تھیوری (Theory) کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل (Practical) کہاجاتا ہے مثلاً نماز قرآن نے صرف یہ الفاظ کہے ”اقیموا الصلوة“ (سورة البقرة:۴۳)” نماز قائم کرو“ مگر پورے قرآن میں کہیں اس کی پوری تفصیل بالترتیب نہیں بتائی گئی، ہاں کہیں قیام، کہیں رکوع، کہیں سجود کو متفرق طور پر بیان کیا گیا، جبکہ نبی کریم صلى الله علبه وسلم  نے اس کا طریقہ بالترتیب صحابہ کو بتایا، اور پھر اس کو عملی طور پر کرکے دکھایا اور کہا ”صلوا کما رایتمونی اصلی“ نماز ایسی ہی پڑھو جیسی مجھ کو پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ صحابہ نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہ کے بعد صحابہ نے بھی بدستور اس پر عمل جاری رکھا، اور تابعین بھی انہیں جیسا کرتے رہے ، گویا انہوں نے بھی ہوبہو ایسا ہی کیا، اس کے بعد تبعِ تابعین، غرضیکہ آج تک نسلاً بعد نسلٍ اور قرناً بعد قرنِ امت کا اس پر تعامل، اس طرح عملی صورت بھی محفوظ ہوگئی، یہ تو ایک مثال ہے، ورنہ صلوہ العید، صلوة الجنازة، زکوٰة، صدقہ، قربانی، تلاوت قرآن وغیرہ سب کی عملی صورت آج تک امت کے ذریعہ اللہ رب العزت نے محفوظ رکھی، اسی لیے جب کوئی قرآن کی تفسیر و تشریح میں من مانی کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اُمت میں اس کومقبولیت حاصل نہیں ہوتی، البتہ کچھ افراد جو مفادپرست ہوں یا ان کی اسلامی تربیت نہ ہوئی ہو، یا ضروری علم دین سے واقف نہ ہوں، اس کے تابع ہو جاتے ہیں، اور ایسا تو دنیا میں ہوتا ہی ہے، عربی میں محاورہ مشہور ہے لکل ساقطة لاقطة ”ہرگری پڑی چیز کا کوئی نہ کوئی اٹھانے والا ہوتا ہے“۔

 خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کے مفاہیم و مرادوں کو بھی اللہ رب العزت نے تعامل کے ذریعہ محفوظ رکھا، یقینا دنیا کی کوئی طاقت اللہ کی مشیت کے لیے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ واللہ غالب علی امرہ و لکن اکثر الناس لایعلمون(سورة یوسف:۲۱)۔

 شانِ نزول کی حفاظت

 میرے عزیزو! قربان جائیے اس رب کائنات پر، جس نے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ایسے ایسے انتظامات کیے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، اور انسان اس کی کرشمہ سازیوں پر سر دھنتا رہ جاتا ہے، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جس ماحول میں قرآن کا نزول ہوا، جس سیاق و سباق میں آیتیں نازل ہوئیں، اس ماحول کو بھی تحفظ اور دوام بخشا گیا، حدیث کے ذخیرے نے پورے ماحول کی منظر کشی کر دی ہے، جب طالب حدیث اس کو پڑھتا ہے، تو اس کے چشم تصور میں وہ سارا منظر متشکل ہو کر آجاتا ہے۔اسی منظر کو علم حدیث میں ”حدیثِ مسلسل“ کہا جاتا ہے۔

 سیرت نبوی کی حفاظت

قرآن کریم کی حفاظت کی غرض سے جہاں بہت ساری چیزوں کو تحفظ بخشا گیا، وہیں نبی کریم ا صلى الله علبه وسلم  کی زندگی کے حالات کو بھی محفوظ کیا۔ کیوں کہ نبی کریم صلى الله علبه وسلم  نے قرآنی مطالبات پر عمل کرکے بتایا تاکہ کل آکر کوئی ایسا نہ کہے کہ ہم قرآنی مطالبات پر عمل نہیں کرسکتے، یہ تو بڑے شاق اور دشوار گذار ہیں، تو بطور نمونہ کے آپ نے عمل کرکے بتلایا اور عمل بھی ایسا، جیسا اس پر عمل کرنے کا حق ہے، اسی لیے حضرت عائشہ صدیقہ سے، حضور اقدس صلى الله علبه وسلم  کے اخلاق کے بارے میں جب دریافت کیا گیا، تو انهوﮟنے کہا کہ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ کہا: ہاں۔ تو آپ نے فرمایا :کان خلقہ القرآن ”آپ قرآن کا چلتا پھرتا نمونہ تھے“۔ جہاں کوئی امر نازل ہوا، فوراً عمل کرکے بتایا، اسی لیے قرآن نے اعلان کر دیا لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة (سورة الاحزاب:۱۲) ”آپ صلى الله علبه وسلم  کی زندگی اے مسلمانو! تمہارے لیے نمونہ ہے“۔ دنیا میں کسی ہستی کی سیرت و حیات پر اتنا کام نہیں ہوا جتنا رسول اللہ ا صلى الله علبه وسلم  کی حیات مبارکہ پر ہوا، اور ہوتا چلا جارہا ہے، آج بھی اس کی افادیت میں کوئی کمی محسوس نہیں ہورہی ہے، بلکہ مزید اس کی افادیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 قرآن کے اولیں مخاطب کے حالات کی حفاظت

قرآن کی حفاظت کے لیے اللہ نے ایک انتظام اور بندوبست یہ بھی کیا کہ قرآن کے نزول کے وقت اس کے اولین مخاطب اور اس کے اولین حاملین حضرات صحابہ کرام کے حالات کو محفوظ کروالیا، ایک اندازے کے مطابق صحابہ کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز تھی، مگر ان میں سے اکثریت آخری دور میں قبولیت اسلام سے شرف یاب ہوئی، اس اولین حاملین، جنہیں قدیم الاسلام یا اولین مومنین کہا جاتا ہے، ان کی تعداد کم و بیش پندرہ بیس ہزار رہی ہوگی، اور جن صحابہ نے آپ سے زیادہ کسبِ فیض کیا، ان کے حالات کو بھی اللہ نے محفوظ کرلیا، تاکہ رسول اللہ صلى الله علبه وسلم  کے ساتھ ساتھ ان کے حالات کا علم ہو جائے اور انہوں نے ایمانی تقاضوں اور اسلامی مطالبات کوجس حسن و خوبی کے ساتھ عملی جامہ پہنایا، اس کی معرفت بھی حاصل ہو جائے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ محمد عربی تو رسول تھے، ان کے ساتھ اللہ کی خاص عنایت و رحمت تھی، انہوں نے اگر عمل کیاتویہ ان کی امتیازی شان تھی، مگر جب صحابہ کی زندگیاں بھی اسی نقش قدم پر ہوگی تو معلوم ہو جائے گا کہ ایسا نہیں اگر انسان ارادہ کرلے تو مکمل ایمانی تقاضوں کو پورا کرسکتا ہے، جیسا کہ صحابہ نے پورا کیا، اسی لیے قرآن نے کہاآمنوا کما آمن الناس”ایمان لاوجیسے صحابہ ایمان لائے“۔

صحابہ کے حالات میں ایک عجیب پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ جو صحابی نبی کریم صلى الله علبه وسلم  سے جتنا قریب تھے، ان کے حالات اتنے ہی زیادہ تفصیل کے ساتھ ملتے ہیں، صحابہ کے حالات کی حفاظت کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ صاحب قرآن کے اصحاب کا جب علم ہوگا تو اس سے صاحب قرآن کے سراپا خیر ہونے کا اندازہ ہوگا کیوں کہ آدمی اپنے دوستوں سے جانا جاتا ہے، حدیث شریف میںہے فانظر الی من یخالل” جب تم کسی کے بارے میں جاننا چاہو تو دیکھو کہ وہ کیسے لوگوں کے ساتھ رہتا ہے“۔ اس سے معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیسا ہے۔ انسانی تاریخ میں حضرات انبیائے کرام کے بعد اگر کوئی مقدس اور بہترین گروہ ہے تو وہ گروہِ صحابہ ہے، لہٰذا قرآن اور صاحب قرآن کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا بھی ضروری تھا کہ قرآن پر اجتماعی عمل کیسے ہو؟ سنت اور قرآن کی اجتماعی تشکیل کس طرح ہو؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں امت نے کیسے جنم لیا؟ ان سوالات کے جوابات صحابہ کرام کے احوال کوجانے بغیرمکمل نہیں ہو سکتے تھے۔ آج ان اولین حاملین قرآن اور اولین عاملین میں سے تقریباً پندرہ ہزار نفوس قدسیہ کے حالات نام بہ نام نسل بہ نسل دستیاب ہیں، اور الحمد للہ امت تب سے لے کر اب تک اور قیامت تک ان کے نقوش و خطوط سے استفادہ کرتی رہے گی، اور قرآن پر عمل کرنے کے لیے اسے معاون سمجھتی رہے گی۔ و اللہ لطیف بالعباد۔

 تابعین کے حالات کی حفاظت

جب صحابہ جو قرآن کے الفاظ و معانی کے ساتھ ساتھ اس پر انفرادی و اجتماعی طور پر عمل کرنے والے اور دنیا کو یہ بتانے والے ٹھہرے کہ قرآن قابل عمل ہی نہیں دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی کا ضامن ہے‘ تو ان کے حالات کے جاننے کے لیے، ان کے اصحاب جن کو تابعین کہا جاتا ہے‘کے حالات کا قلمبند ہونا بھی ضروری تھا، تاکہ صحابہ کے حالات ہم تک یعنی ان کے بعد والوں تک صحیح طور پر پہنچے۔کرشمہ الٰہی دیکھئے کہ ایسے چھ لاکھ افراد کے بارے میں پورا بایوڈاٹا یعنی مکمل معلومات کو بھی اللہ نے تحفظ بخشا اور وہ بھی سرسری نہیں بلکہ ان کی پوری تفصیلات کے ساتھ، کہ یہ کون تھے؟ کس زمانہ میں پیدا ہوئے؟ ان کی شخصیت کس درجہ کی تھی؟ ان کا علم وفضل کس درجہ کا تھا؟ انہوں نے کس کس سے کسبِ فیض کیا؟ ان کا حافظہ کیسا تھا؟ ان میں کیا اچھائیاں تھیں وغیرہ۔ غرضیکہ اس طور پر منقی و مصفی کرکے سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ آدمی ان کی شخصیت سے اطمینان بخش حد تک معلومات حاصل کرلے۔ اس کو فن ”اسماءرجال“ سے تعبیر کیا گیا۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی فرماتے ہیں کہ یہ ایسا فن ہے کہ اس کی مثال دنیا کے کسی مذہبی و غیر مذہبی فن میں نہیں ملتی، نہ مذہبی علوم میں اس کی مثال اور نہ غیر مذہبی علوم میں۔

یہ وہ چیزیں ہیںجن کو قرآن کی حفاظت کی خاطر اللہ رب العزت نے حیرت انگیز انداز میں تحفظ بخشا، اوراپنے کامل قدرت کا مظاہرہ کیا۔

 اللہ ہمیں قرآن کی قدردانی کی توفیق عطافرمائے اور ہمارے ظاہر وباطن کو قرآن کے منشاء کے مطابق بنادے۔ آمین

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*