سورة یٰسٓ فہم و تدبر کے آئینہ میں(8)

اعجاز الدین عمری (کویت)

وَمَا اَنزَلنَا عَلَی قَومِه مِن بَعدِہِ مِن جُندٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَمَا کُنَّا مُنزِلِینَ(28) ا ِن کَانَت ا ِلاَّ صَیحَةً وَاحِدَةً فَا ِذَا هُم خَامِدُون(29)یَا حَسرَةً عَلَی العِبَادِ مَا یَاتِیهم مِّن رَّسُولِ الاَّ کَانُوا بِهِ یَستَهزئُون(30)اَلَم یَرَوا کَم اَهلَکنَا قَبلَهُم مِّن القُرُونِ اَنَّهُم ِالَیهِم لاَ یَرجِعُونَ(31)وَاِن کُلّ لمَّا جَمِیع لَّدَینَا مُحضَرُونَ(32)

“اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پرآسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہم اتارنے والے تھے ہی۔ وہ تو صرف ایک دھماکہ تھا، سو وہ (اس سے) ناگہاں بجه کر رہ گئے۔ بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس سے تمسخر کرتے ہیں۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھاکہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضرکئے جائیں گے۔”

دولت ، طاقت، حکومت انسان کو ان چیزوں پر ناز ہے ۔ کبھی تو ان کا نشہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ خود اپنے خالق و مالک کا باغی بن بیٹھتا ہے ۔ پھر دل کا نور اور آنکھوں کی روشنی بھی ختم ہوکر رہ جاتی ہے اس قوم کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ، اللہ تعالی نے اس کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ایک ہی وقت میں یکے بعد دیگرے تین تین پیامبر بھیجے ،مگر ان بد نصیبوں نے سب کو جھٹلایا ۔ اگر بات یہیں تک رہ جاتی تو شاید اللہ تعالی اُنہیں سنبھلنے سدھرنے کا کوئی موقع اور بھی دیتا ، لیکن اُنہوں نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ ان پر طنز و طعن کے پیہم تیر برسائے ، جب اس سے جی نہیں بھرا تو ا ن پاک ہستیوں کے قتل کے درپے ہوگئے ۔ اور جس مرد مومن نے ان کی حمایت میں آواز اُٹھائی یہ اس کی جان پر سوار ہوگئے ۔

خدائی مہلت کو شاید اُنہوں نے چھوٹ سمجھ رکھاتھا مگر مرد مومن پر قاتلانہ حملہ کے بعد اللہ تعالی کا غضب جب انتقامی صورت میں ظاہر ہوا تو پوری قوم اس کی زد میں آگئی ۔اور اس کی گرفت سے کوئی ایک شخص بھی بچ نہ پایا ۔

نبی ہو یا رسول کسی قوم میں اس پوری قوم کا نمائندہ ہوتا ہے ۔ اور اللہ تعالی کے نزدیک اس کا وزن اس پوری قوم سے زیادہ ہوتا ہے ، اور پھر وہ اللہ تعا لی کے پیغامِ رشد و ہدایت کا امین ہوتا ہے اس لیے اس کی تکذیب و تذلیل بھی خود ذات باری تعالی کی تکذیب و تذلیل کے برابر ہے ۔ جیسا کہ سورة الانعام میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے : قَدنَعلَمُ اِنَّهُ لَیَحزُنُکَ الَّذِی یَقُولُونَ فَانَّهُم لاَ یُکَذِّبُونَکَ وَلَکِنَّ الظَّالِمِینَ بِآیَاتِ اللّہِ یَجحَدُونَ(33)”ہمیں معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں”

یہی وجہ ہے کہ جب کبھی کسی قوم نے اپنے نبی یارسول کے خلاف جرأت و جسارت کی روش اپنائی تو ایک مقررہ مدت تک مہلت دینے کے بعد اللہ تعالی نے اس پر ایسا عذاب مسلط کیا کہ صفحہ ہستی سے وہ بے نام و نشان ہوکر رہ گئی ۔

وَمَا اَنزَلنَا عَلَی قَومِهِ مِن بَعدِہِ مِن جُند ٍمِّنَ السَّمَاءِ وَمَا کُنَّامُنزِلِینَ “اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتار ا اور نہ ہم اتارنے والے تھے “

اس میں یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی قوم کیسی ہی طاقتور کیوں نہ ہو اللہ تعالی کے نزدیک اس کی حیثیت اس بچہ کی سی ہے جو کسی چیخ کی آواز سے ڈر جاتاہے اور اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے اُسے کسی آسمانی فوج کی ضرورت نہیں پڑتی ہے ۔

”آسمان “، انسانی زندگی سے اس کا بڑا تعلق ہے ۔ مادی اور سائنٹفک طریقے پر ہو یا روحانی و مذہبی طور سے حیاتِ انسانی کا دار و مدار اسی پر ہے ۔

قرآن مجید جب “السماء” کہتا ہے تو اس سے مراد وہ فضائی چادر بھی ہے جو زمین کے اطراف بلندی پر پھیلی ہوی ہے ۔ اور جس کو خالقِ ارض و سماوات نے سطحِ زمین پر انسانی زندگی کے تحفظ کا ذریعہ بنایا ہے ۔قرآنی اصطلاح کے مطابق یہ مضبوط چھت ہے جو انسان کے سر پر قائم ہے۔الَّذِی جَعَلَ لَکُمُ الاَرضَ فِرَاشاً وَالسَّمَاء بِنَاء” وہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنایا اور آسمان کو چھت“ (البقرة :۲۲)

وَجَعَلنَا السَّمَاء سَقفاً مَّحفُوظاً”اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا” (الانبیاء: ۲۳)

اور”السماء” قرآن مجید میں اس عالم بالا کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے جہاں اللہ تعالی اپنے عرش پر جلوہ افروز ہے ، اسی عالم غیب سے نظامِ کائنات کی تدبیر ہوتی ہے ، جہاں انسانی زندگی کی تقدیر بنتی ہے، جہاں زندگی اور موت کی مدت متعین کی جاتی ہے، جہاں اچھے اور برے کا فیصلہ ہوتا ہے، جہاں حشر و نشر، حساب کتاب اور جنت جہنم کے معاملات طے پاتے ہیں اور جہاںسے اس بات کا حکم اتاراجاتاہے کہ کس پر رحمت کی برکھا ہو اور کس پرعذاب کا کوڑابرسایا جا ئے۔

اس قوم کے بارے میں بھی خدائی فیصلہ صادر ہوا کہ اس پر عرصہ حیات تنگ کیا جائے ۔ اس کی نیستی کا فیصلہ کرنے کے لیے اللہ تعالی کو کسی آسمانی دستہ کی ضرورت نہیں تھی۔

بعض مفسروں نے مِن جُند ٍمِّنَ السَّمَاءِ سے آسمانی رسالت بھی مراد لیا ہے مگر آیت کے اسلوب اور موقع و محل سے اس مطلب کے لیے کم ہی گنجائش نکلتی ہے ۔

وَمَا کُنَّا مُنزِلِین سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسانی تاریخ کے کسی دور میں بھی کسی قوم کو اس کے جرائم کی سزا دینے کے لیے اللہ تعالی کو فرشتوں کی فوج کی ضرورت نہیں پڑی ہے اور نہ یہ خدائی دستور میں شامل رہا ہے ۔

ان کَانَت اِلاَّ صَیحَةً وَاحِدَةً فَاِذَا ہُم خَامِدُون” وہ تو صرف ایک دھماکہ تھا،سو وہ (اس سے) ناگہاں بجھ کر رہ گئے”

“صَیحَة” کے معنی ہیں آوازکرنا، شورکرنا اور چیخناوغیرہ

اور ہر اس آواز کو بھی کہتے ہیں جو بلند ہو اور جس میں شدت پائی جاتی ہو، نیز اس بھیانک اور خوفناک آواز کو بھی “صَیحَة”کہتے ہیںجس کے اچانک سننے سے کسی بھی جاندار پر وحشت طاری ہو اور وہ بے دم و ساکت ہوجائے۔ دور جدید کے بم دھماکے اسی طرح وحشت خیز و دہشت آور ہوتے ہیں ،اسی لیے ہم نے آیت کے معنی میں “دھماکہ” کے ترجمہ کو ترجیح دی ہے۔

آسمان سے نکلی ایک چیخ نے ایک سرکش قوم کا بولتا ہمیشہ کے لیے بند کردیا اور اس کی حرکت و جنبش سدا کے لیے خاموش ہوگئی۔

 کسی بھی قوم کو اس کے گناہوں کی پاداش میں کس عذاب میں مبتلا کیا جائے اس کی حکمت و علت کا علم تو صرف علیم و خبیر ہی جانتا ہے ۔ صفحہ ہستی پر ہزاروں قومیں نمودار ہوئیں ، کسی کو تاریخ نے یاد رکھا اور کوئی زمانے کی بھول بھلیوں میں گم ہوکر رہ گئی۔

 ہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزر

چشمِ کوہِ نور نے دیکھے ہیں کتنے نامور

مصر و بابل مٹ گئے ،باقی نشاں تک بھی نہیں

دفتر ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیں

آدبایا مہرِ ایراں کو اجل کی شام نے

                  عظمتِ یونان و روما لوٹ لی ایام نے  (علامہ اقبال)

 قرآن مجید میں کئی قوموں کا ذکر آیا ہے ۔ مختلف قوموں کو ان کی خطاؤں کی نوعیت اور سنگینی کی بنیاد پر الگ الگ طریقوں سے سزا دے کر ہلاک کیا گیا ۔ “صَیحَة”بھی ان عذابوں میں ایک ہے ۔ قرآن مجید کی رو سے صالح علیہ السلام اور شعیب علیہ السلام کی قوموں کو اسی”صَیحَة”کے ذریعہ ہلاک کیا گیا تھا ۔ سورة ہود میں صالح علیہ السلام کی قوم ” ثمود” پر تبصرہ کرتے ہوے اللہ تعالی نے فرمایا :وَاَخَذَ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیحَةُ فَاَصبَحُوا فِی دِیَارِهِم جَاثِمِینَ(67) کَاَن لَّم یَغنَوا فِیهَا اَلاَ اِنَّ ثَمُودَ کَفرُوا رَبَّهُم اَلاَ بُعداً لِّثَمُودَ(68) “رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے ان کو دھر لیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے ۔ سنو ! ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا ، سنو! دور پھینک دئے گئے ثمود”

تقریبا یہی بات شعیب علیہ السلام کی قوم سے متعلق بھی بتائی گئی ہے ۔ اس لحاظ سے یہ تیسری قوم ہوگی جس کی ہلاکت صَیحَة کے ذریعہ ہوی ہے ۔

 فَاِذَا هُم خَامِدُون. عربی زبان میںجب آگ کی چنگاری بجھ کر راکھ بن جائے تو” خَمُدَتِ النَّارُ” کہتے ہیں ۔

اس طرح آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس خوفناک دھماکہ کے بعد ان کی پوری قوم جل کر خاکستر بن گئی۔ زندگی آگ کی طرح ہے ، جلتی ہے بھڑکتی ہے بل کھاتی ہے اور پھیل جاتی ہے مگر انسان نادان ہے ، بھول بھول جاتاہے کہ موت کا ایک حملہ اس کے شعلوں کو کسی دن کھاجائے گا اور اس کی چنگاریوں پر ہمیشہ کے لیے خاک ڈال دے گا ۔

اے ہوس! خوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتبار

یہ شرارے کا تبسم ، یہ خسِ آتش سوار

 

یَاحَسرةً عَلَی العِبَادِ مَا یَأتِیهِم مِّن رَّسُولٍ اِلاَّ کَانُوا بِهِ یَستَهزئُون”بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس کا مذاق ہی اڑاتے رہتے ہیں”

عربی زبان میں شدت غم کے اظہار کے لیے

“یاحسرة ” “یاحسرتا” “واحسرتا” وغیرہ کااستعمال عام ہے ۔ یہ حَسَرَ یَحسِرُ سے نکلا ہے جس کے حقیقی معنی تھکادینے اور بوجھل کردینے کے ہیں۔ جوغم اور ندامت انسان کو تھکا دے اسی کو “حسرة” کہا گیا ۔

افسوس اور حسرت اس بات پر کہ ہر زمانے میں انسانوں نے اپنے پاس بھیجے گئے رسولوں کو پہچاننے میں ایک ہی طرح کی غلطی کی۔ علم و فکر کی ترقی سے اس میں کوئی فرق آیا اور نہ مرور ِ زمانہ کا ہی اس پر کوئی اثر پڑ سکا ۔ اس معاملہ میں انسان کی کج فہمی و بد طینتی میں کسی قسم کا تغیر کبھی نہیں آیا۔ پتھروں کے دور میں بھی اور آج بھی

پیغمبروں کی شخصیتیں ہر دور میں مجروح رہی ہیں، جب جہل کا اندھیرا ہر سو چھایا ہواتھا تب بھی اور اب بھی جبکہ انسان کو زعمِ علم و دانش ہے ۔ شاید اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے کہ انسانوں کی تاریخ میں سب سے معصوم اور سب سے درست رسول ہوا کرتے تھے مگر سب سے زیا دہ انہیں کو طنز و ملامت کا نشانہ بنایا گیا ۔ مگر یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ انسان کی خطاؤں کی فہرست میں یہ سب سے سنگین جرم ہے کہ وہ اللہ اور اسکے رسول کو اپنی بے ہودگی کا نشانہ بنائے۔

دراصل استہزاءکہتے ہیں کسی کا اس طرح مذاق اڑانا کہ اس کی تحقیر و تذلیل کا جذبہ نمایاں ہو اور مذاق اڑائے جانے والے کی جانب سے اس کے لیے کوئی تحریک بھی نہ ہو ۔ اردو زبان میں اس کی تعبیرمیں ٹھٹّا کرنا ، ٹھٹّا اڑانا ، مسخرا کرنا ، ہنسی اڑانا ، کھلواڑ کرنا وغیرہ الفاظ بولے جاتے ہیں ۔

ہم اوپر کہہ آئے ہیں کہ انبیاءو رسل اللہ تعالی کی نظر میں عزّت و احترام کے مقام بلند پر فائز ہوتے ہیں ۔ اور کسی بھی شخص یا قوم کا ان پاک بندوں کے تئیں رکیک جذبات رکھنا یا ان کا استہزاءکرنا خدائی قانون میں سزاکے لائق جرم یا موجبِ عذاب گناہ ہے ۔

سورة الرعد میں اللہ تعالی فرماتا ہے : وَلَقَدِ استُهزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبلِکَ فَاَملَیتُ لِلَّذِینَ کَفَرُوا ثُمَّ اَخَذتُهُم فَکَیفَ کَانَ عِقَابِ(32) “اور تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کامذاق اڑایا جاچکاہے،مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخرکار ان کو پکڑ لیاپھردیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی”

سورة الحجر میں فرماتا ہے : فَاصدَع بِمَا تُؤمَرُ وَاَعرِض عَنِ المُشرِکِینَ(94)اِنَّا کَفَینَاکَ المُستَهزِئِینَ (95) “پس اے نبی ! جس چیز کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے اُسے ہانکے پکارے کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروا نہ کرو۔ تمہاری طرف سے ان مذاق اُڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے ہم کافی ہیں”

سورة الزخرف میں فرمایا : وَکَم اَرسَلنَا مِن نَّبِیٍّ فِی الاَوَّلِین(6)وَمَا یَأتِیهِم مِّن نَّبِیّ اِلَّا کَانُوا بِه یَستَهزِئُون(7)فَاَهلَکنَا اَشَدَّ مِنهُم بَطشاً وَمَضَی مَثَلُ الاَوَّلِین(8)”پہلے گزری ہوی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ان کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایاہو۔ پھر جو لوگ اِن سے بدرجہا زیادہ طاقتورتھے اُنہیں ہم نے ہلاک کردیا، پچھلی قوموں کی مثالیں گذرچکی ہیں”

سورة یٰسٓ کی اس آیت میں بھی اسی بات کو دہرا یا گیا ہے :

اَلَم یَرَوا کَم اَهلَکنَا قَبلَهُم مِّن القُرُونِ اَنَّهُم اِلَیهِم لاَ یَرجِعُون “کیا انہوںنے نہیں دیکھاکہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کر دیا(اس طرح کہ) اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے”

دور ِ حاضر کے ہر اُ س شخص کے لیے بھی یہ ایک تنبیہ ہے جو رسول کی ذات اور شخصیت پرکیچڑ اچھالنے اور رسول کی سیرت كو داغدار کرنے کی جرأت و جسارت کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

وَاِن کُلّ لَّمَّا جَمِیع لَّدَینَا مُحضَرُونَ “اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کئے جائیں گے”

رسالت کی بات بتاتے بتاتے قرآن مجید نے کلام کا رُخ اچانک آخرت کی طرف موڑدیا ہے ۔ یہ قرآن مجید کا اپنا اسلوب ہے ۔ مگر اس سے اول الذکر سے تعلق ٹوٹنے نہیں پاتا۔ انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ حیات فانی کو پاکر وہ چاہے تو اپنی من مانی کرے ، مگر اس بات کو نہ بھولے کہ زندگی بخشنے والا اس کی زندگی کا حساب بھی رکھ رہا ہے اور ایک دن ضرور آئے گا جب چاہے نہ چاہے اُسے کامل قدرت والے کے حضور پیش ہوکر اپنے حساب سے خود ہی نمٹنا ہوگا۔

اس میں ایک ہلکا سا اشارہ اس بات کی طرف بھی کیا گیا ہے کہ اگر اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ٹھٹا کرنے والوں کو اس حیات فانی میں مہلت مل بھی گئی تو اِس سے کسی قسم کی خوش فہمی میں وہ مبتلا نہ رہیں بلکہ اُنہیں تو لامحالہ رب کے آگے حاضر ہونا ہے اور اپنے کرتوتوں کا حساب دیناہے ۔

 اہم مراجع و مصادر:

تفسیر ابنِ کثیر از امام حافظ عماد الدین اسماعیل بن کثیرالدمشقی

تفسیر قرطبی (جامع لاحکام القرآن) از امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی

 تفسیرطبری(جامع ا لبیان فی تفسیر القرآن) ازامام ابو جعفر محمدبن جریرالطبری

 فتح القدیر از امام محمدعلی الشوکانی

فتح الباری از اشہاب الدین احمد بن حجر العسقلانی

فی ظلال القرآن از شہید سید قطب

اضواءالبیان فی ایضاح القرآن از محمد الامین الشنقیطی

تفہیم القرآن از مولانا سید ابو الاعلی مودودی

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*