کتب حدیث کی اقسام

تحریر : محمد انور محمد قاسم سلفی(کویت)

کتب حدیث کا تعارف “ کے عنوان سے ایک مضمون ماہنامہ مصباح میں شائع ہواتھا جسے قارئین نے بیحد پسند فرمایا او رکئی احباب نے احادیث پر سلسلہ وار مضامین شائع کرنے کی درخواست کی،لہذا ہم ان کے نیک جذبات کی قدر کرتے ہوئے اس سلسلے کی دوسری کڑی ”کتب حدیث کی اقسام “پیش کررہے ہیں:

 کتب حدیث کی گیارہ (۱۱) اقسام ہیں:

-1 جامع :

محدثین کی اصطلاح میں جامع اس حدیث کی کتاب کو کہا جاتا ہے جس میں ہر موضوع سے متعلق حدیثیں موجود ہوں مثلاً : ایمان ، عقائد ، احکام ، آداب ، تفسیر ، شمائل ، تاریخ ، سیر ، مغازی ، مناقب ، زہد وسلوک ،الرقاق ، اور بدءالخلق وغیرہ ۔

 اور صحاح ستہ [وہ چھ حدیث کی کتابیں جن میں اکثر حدیثیں صحیح ہیں اور وہ یہ ہیں 1 -بخاری 2- مسلم: (ان دونوں کتابوں کی تمام حدیثیں صحیح ہیں، ان میں کوئی بھی ضعیف یا موضوع (من گھڑت) روایت موجود نہیں ہے) 3-  ترمذی 4- ابوداود 5- نسائی 6- ابن ماجہ ] میں حدیث کے صرف دو مجموعے ایسے ہیں جن کو جامع کہا جاتا ہے ، اور وہ صحیح بخاری اور جامع ترمذی ہیں صحیح مسلم شریف میں اگرچہ ہر طرح کی حدیثیں موجود ہیں ، لیکن اس میں تفسیر اور قراءت سے متعلق روایات کم ہیں ، اسی لیے اس کو جامع نہیں کہا جاتا ہے ( مقدمہ تحفة الاحوذی :۱/۵۳) ان کے علاوہ علامہ ابن اثیر کی جامع الاصول ، علامہ ہیثمی کی مجمع الزوائد ، حافظ جلال الدین سیوطی کی جمع الجوامع ، اور الجامع الازھر من حدیث النبی الانور ، اور علامہ علی متقی حنفی  کی کنز العمال وغیرہ کتابیں بھی جامع میں داخل ہیں ۔

-2 سنن :

سُنَن سنت کی جمع ہے ، محدثین کی اصطلاح میں سنن حدیث کی ان کتابوں کو کہا جاتا ہے جن کی جمع وترتیب فقہی ابواب پر ہو، ان کتابوں کا آغاز کتاب الطھارة اور کتاب الصلاة سے ہو ، صحاح ستہ کی صرف چار کتابیں سنن میں داخل ہیں اور وہ یہ ہیں :  1 ترمذی 2 ابوداود 3 نسائی 4 ابن ماجہ۔  صحاح ستہ میںموجود سنن کے علاوہ مندرجہ ذیل کتابیں بھی سنن میں شامل ہیں : امام ابو محمد عبد اﷲ بن عبد الرحمن الدارمی کی ” سنن دارمی ،،۔ امام دارقطنی کی ’سنن دارقطنی امام بیہقی کی ” سنن بیہقی “ جسے السنن الکبری بھی کہا جاتا ہے ، اور انہی کی ” السنن الکبیرة “ بھی ہے ۔ سنن سعید بن منصور، وغیرہ ۔

 ان کے علاوہ محدثین نے سنن کی کئی کتابیں لکھی ہیں جو تعداد میں جامع سے کہیں زیادہ ہیں ۔

-3 مستخرج :

اس حدیث کے مجموعے کو کہتے ہیں جس کا مولف کسی ایک خاص حدیث کی کتاب کو سامنے رکھ کر ، اس کتاب کی احادیث کو اپنی سند سے بیان کرے، محدثین نے اس قسم کی کئی کتابیں لکھی ہیں جن میں امام یعقوب بن اسحاق اسفرائینی رحمه الله کی مستخرج ابو عوانہ ہے جسے صحیح ابوعوانہ بھی کہتے ہیں ، اس کتاب کو امام اسفرائینیرحمه الله نے صحیح مسلم کی احادیث پر مستخرج کیا ہے ، اسی طرح امام اسماعیلی نے صحیح بخاری شریف کی احادیث کو اپنی سند سے بیان کیا ہے اور ان کی اس کتاب کا نام” مستخرج اسماعیلی “ ہے ۔

 

-4 مستدرک :

اس حدیث کی کتاب کو کہا جاتا ہے جس کا مولف کسی خاص ایک یا دو حدیث کی کتابوں کو سامنے رکھ کر ، اسی صاحب کتاب کی شروط پر احادیث درج کرتا ہے جو اُس کتاب کے موضوع میں شامل ہونے سے رہ گئی تھیں، اور پھر اپنی کتاب میں ان احادیث کو الگ کرکے جمع کردیتا ہے ، اس عمل کو استدراک ، اور اس کتاب کے مجموعے کو مستدرک کہتے ہیں ، اس قسم کی سب سے مشہور کتاب امام حاکم رحمه الله کی مستدرک حاکم ہے ، جو انہوں نے بخاری ومسلم پر استدراک کرتے ہوئے تالیف فرمائی ۔

-5 مسند :

اس حدیث کے مجموعے کو کہا جاتا ہے جس میں ہر صحابی کی تمام روایات کو چاہے وہ کسی بھی موضوع سے متعلق ہوں ایک جگہ جمع کردی گئی ہوں ، اور صحابہ کرام کی ترتیب بھی تین لحاظ سے ہوگی :

۱) حروف تہجی کے اعتبار سے : مثلاً جن صحابہ کرام کا نام ”ا“ سے شروع ہوتا ہو، ان تمام کی احادیث ایک جگہ ، پھر جن صحابہ کرام کا نام” با“ سے شروع ہوتا ہو ، ان کی احادیث ایک جگہ ، الیٰ آخرہ

۲) باعتبار سبقت اسلام : یعنی جن صحابہ کرام نے پہلے پہل اسلام قبول کیا ، سب سے پہلے ان کی احادیث ، مثلاً: پہلے عشرہ مبشرہ کی روایات ،( عشرہ مبشرہ سے مراد وہ دس صحابہ کرام جنہیں دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری دی گئی تھی ، اور وہ یہ ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق ، عمر بن خطاب ، عثمان بن عفان ، علی بن ابی طالب ، زبیر بن عوام ،عبدالرحمن بن عوف ، طلحہ بن عبید اللہ،ابوعبیدہ بن جراح ، سعد بن ابی وقاص،سعید بن زید) پھر اصحاب بدر ‘ جو تعداد میں ۳۱۳ ہیں ۔ پھر اہل بیعت رضوان‘جو تعداد میں تقریبا ۰۰۴۱ ہیں، اور پھر ان صحابہ کرام کی روایا ت ہوں گی جو فتح مکہ کے دن ایمان لائے ۔

۳۔ باعتبار شرف نسب :جیسے سب سے پہلے خاندان نبوت بنو ہاشم کی احادیث لائی جائیں گی، پھر ان کی جن کا تعلق بنو ہاشم سے ہو ، جیسے سیدنا عثمان رضي الله عنه ،اس لیے کہ آپ کی والدہ ہاشمیہ اور رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کی پھوپی تھیں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضي الله عنه  کی،اس لیے کہ آپ کی بیٹی ام المومنین سیدہ عائشہ رضي الله عنها  رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ،اور ان کے بعد ان کی احادیث لائی جاتی ہیں جو شرف نسب میں زیادہ فضیلت والے ہوں۔

کتب مسانید بہت سی ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ مشہور کتاب امام اھل السنة حضرت امام احمد بن حنبل رحمه الله  کی جمع کردہ مسند احمد بن حنبل ہے ، اس کے علاوہ مسانید میں مسند ابوبکر بن ابی شیبہ ، مسند بزار ، مسند عبد بن حمید ، مسند ابوداود طیالسی ،  مسند ابو یعلیٰ ، مسند یعقوب بن شیبہ ،اور مسندابن ابی اسامہ ، وغیرہ ہیں ۔

-6 معجم :

اصطلاح محدثین میں اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں احادیث کو بترتیب شیوخ واساتذہ لکھا جائے ، اور شیوخ کی ترتیب بھی تین لحاظ سے ہوگی :

1-     ترتیب وفات کے لحاظ سے ۔

2-     تقویٰ اور علم کے لحاظ سے ۔

3-     حروف تہجی کے اعتبار سے ۔

معجم میں سب سے مشہور کتاب امام ابو القاسم طبرانی رحمه الله کی المعجم الکبیر، المعجم الاوسط اور المعجم الصغیر ہے ۔

-7 الجزء:

محدثین کی اصطلاح میں اس حدیث کی کتاب کو کہتے ہیں‘ جس میں کسی ایک صحابی کی ، یا کسی ایک خاص موضوع یا خاص مسئلے پر احادیث جمع کی جائیں مثلاً اگر سیدنا ابوبکر صدیقص کی احادیث جمع کردی جائیں تو وہ کتاب ” جزءابی بکر “ہوجائے ۔ اجزاءمیں سب سے مشہور جزءامام بخاری رحمه الله  کی ’ جزء رفع الیدین‘ ہے ، جس میں آپ نے رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنے کی احادیث جمع فرمائی ہیں ، نیز آپ نے جہری نمازوں میں امام کے پیچھے سورة الفاتحہ پڑھنے کی تمام احادیث کو ” جزءالقراءة“ کے نام سے ایک کتاب میں جمع فرمادیا ہے۔ اسی موضوع پر امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی  ” کتاب القرا ءة“ کے نام سے ایک مجموعہ حدیث جمع فرمایا ہے جسکا شمار بھی جزءہی میں ہوتا ہے۔

-8 اربعین :

محدثین کی اصطلاح میں اربعین اس مجموعہ حدیث کو کہا جاتا ہے جس میں کسی ایک راوی کی ایک ہی موضوع پر چالیس احادیث کو جمع کیا جائے ، یا متعدد راویوں کی مختلف موضوع پر چالیس احادیث کو جمع کیا جائے، اس قبیل کی کتابوں میں سب سے مشہور کتاب امام نووی رحمه الله  کی ” اربعین نوویہ “ہے ۔

-9 کتب علل :

ان کتابوں کو کہتے ہیں جن میں احادیث کے ضعف   ( FALT)کی وجوہات کو بیان کیا جائے ، مثلاً : کوئی روایت اگر ضعیف ہے توکیوں ہے ؟ کیا اس کا کوئی راوی ضعیف ہے ، یا اس سند کا سلسلہ ٹوٹا (منقطع ) ہے ، یا اور کوئی وجہ ہے ۔ غرضیکہ احادیث کو ان کی علتوں ( FALTS) کے ساتھ بیان کیا جائے ، اس موضوع پر امام ابن جوزی رحمه الله  کی ”العلل المتناہیة “ اور امام دارقطنی رحمه الله کی ” کتاب العلل “اور امام ابن حاتم رحمه الله کی ”علل ابن حاتم “ہے ۔

-10 اطراف :

محدثین کے نزدیک اطراف کی شکل یہ ہوتی ہے کہ ایک خاص حدیث کی تمام سندیں، یا کئی مخصوص احادیث کی اسانید کو جمع کردیا ، جہاں تمام اسانید ایک جگہ جمع ہوجائیں تو وہاں سے آگے ایک سند نقل کردی جائے ، اس قسم کی کئی کتابیں ہیں : مثلاً ابن عساکر رحمه الله کی ” الاشراف علی معرفة الاطراف“ حافظ جمال الدین مِزّی رحمه الله کی ” تحفة الاشراف بمعرفة الاطراف “حافظ ابن حجر رحمه الله  کی” تحاف المھرة باطراف العشرة “وغیرہ ہیں۔

-11 مسلسل :

اصطلاحِ محدثین میں مسلسل اس مجموعہ حدیث کو کہتے ہیں جس میں وہ احادیث جمع کی جائیں جن کے اندر ایک خاص راوی ، یا کئی راویوں کی کوئی صفت ، کوئی فعل (کام ) یا کسی قول کا تسلسل موجود ہو ،مثلاً : ایک راوی نے ایک حدیث بیان کی اور اس کے بعد وہ ہنس پڑے اور فرمانے لگے کہ :اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد میرے شیخ نے بھی اسی طرح ہنسا تھا ، اور ان کے شیخ نے بھی یہ فعل کیا تھا اور فلاں صحابی نے بھی اس روایت کو بیان کرنے کے بعد یہ عمل دہرایا تھا ، اور رسول اکرم صلى الله عليه وسلم  نے بھی اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد تبسم فرمایا تھا ۔

اس قسم کی روایات کو جسمیں کسی حدیث کو بیان کرنے کے بعد کوئی خاص فعل یا عمل کیا گیا ہو تو اسے روایت ” مسلسل بالفعل “ کہا جائے گا ، اگر کسی خاص صفت والی روایات جمع کی جائیں تو انہیں ”مسلسل بالصفة “ کہا جائے گا ۔

اور اسی سلسلے کی ایک اور قسم ہے جسے حدیث ” مسلسل باوّلیہ “ کہتے ہیں ، ان میں ہر راوی اپنی خاص روایت بیان کرنے کے بعد کہتا ہے کہ میرے شیخ نے یہ حدیث مجھے پہلی ملاقات میں بیان فرمائی ہے ، اور اسی طرح ان کو بھی ان کے شیخ نے پہلی ملاقات میں یہ حدیث بیان کی تھی ، الیٰ آخرہ ۔

 اسی کی ایک قسم ”مسلسل بتحریک الشفتین“ہے کہ جب راوی اس حدیث کو بیان کرے تو اپنے ہونٹ ہلائے اور کہے کہ :میرے شیخ نے بھی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے یہ عمل کیا تھا ، اسی طرح سیدنا ابن عباس رضي الله عنه نے کیا تھا اور اسی طرح رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے اپنے مبارک لبوں کو حرکت دی تھی

 

 

 

4 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*